Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / غوث نگر بستی کو اجاڑ دیا گیا ، سینکڑوں افراد بے یارو مددگار

غوث نگر بستی کو اجاڑ دیا گیا ، سینکڑوں افراد بے یارو مددگار

غریبوں کی ہائے

لینڈ گرابرس سے پولیس کی ملی بھگت ، سارے مکانات منہدم ، رئیل اسٹیٹ کا آفس برقرار
ڈبل بیڈروم کی فراہمی کیلئے حکومت کے فریبی وعدے

حیدرآباد /23 مارچ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد ریاستی حکومت کی جانب سے نئی بستیاں بسانے کے کہ وعدے اور اقدامات جاری ہیں تو وہیں دوسری طرف ایک بستی کو بسنے سے پہلے ہی اُجاڑ دیا گیا ۔ ڈبل بیڈروم مکانات تو دور اسبسطاس کے مکانات کو تک توڑ دیا گیا ۔ غوث نگر بنڈلہ گوڑہ میں سرکاری مشنری کی انہدامی کارراوئی نے کئی مکانات کو اُجاڑدیا اور غریب بے سہارہ عوام کی چھت کو چھین لیا ۔ روتے بلبلاتے ہوئے مرد و خواتین مددکیلئے چیختے رہے لیکن ستم ظریفی کا یہ عالم کہ پولیس نے خود انہیں گرفتار کرلیا ۔ سرکاری اراضی ہونے پر غریبوں کی جانب سے زر خرید جائیدادوں کو چھین لیا جارہا ہے ۔ غوث نگر میں سرکاری مشنری کے اقدامات سرکاری پالیسی پر بھی شبہات کا موجب بن گئے ہیں اور عوام میں یہ رحجان پایا جاتا ہے کہ فرضی دستاویزات منڈل کے عہدیداروں کی ملی بھگت اور پولیس کو ڈھال کے طور پر استعمال کرلیا جائے تو حیدرآباد میں کچھ بھی ممکن ہے ؟ مشکل آزمائش کے دور سے گذر رہی غوث نگر کی عوام کا کوئی یار مددگار نہیں اور کل تک اس اراضی سے لاتعلق رہنے والے محکمہ مال کے عہدیدار بھی اب سرگرم ہوگئے ۔ غوث نگر کی عوام کے ساتھ کوئی سازش ہے یا پھر اپنی کسی بات کا بدلہ دیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ منڈل ریونیو آفس بنڈلہ گوڑہ کے عہدیداروں نے غوث نگر بستی کو سرکاری اراضی پر تعمیر کردہ مکانات کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں انہدامی کارروائی انجام دی ۔ تاہم تعجب کہ کبھی اس اراضی پر اپنا دعوی کرتے ہوئے کوئی تحریری بورڈ نہیں لگایا اور نہ ہی اس علاقہ میں ہورہی پلاٹنگ کے وقت عوام کو آگاہ کیا اور ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ پولیس بھی خاموش تماشائی بنی رہی ۔ غوث نگر انہدامی کارروائی میں پولیس چندرائن گٹہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ آج تک ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی جنہوں نے اس اراضی کو سرکاری قرار دے رہے ہیں۔ غریب مزدور پیشہ روز مرہ کی آمدنی پر منحصر عوام کو فروخت کیا بلکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جو اپنے مکان کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتا دیکھ رہے تھے ۔ بلکہ خاتون پولیس کی مدد حاصل کرتے ہوئے بھاری جمعیت نے انہدامی کارروائی میں اہم رول ادا کیا ۔ روزمرہ کی آمدنی سے اخراجات میں بچت کرتے ہوئے ایک ایک روپیہ جوڑکر مکان کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ اس علاقہ میں غریب عوام نے کافی عرصہ قبل اراضیات خریدی تاہم اس وقت سے ریونیو حکام کو کوئی اعتراض نہیں کیا ۔

تاہم اچانک گذشتہ چند عرصہ سے انہیں بنڈلہ گوڑہ غوث نگر کی سرکاری اراضی یاد آگئی ۔ جہاں غریب اپنے خوابوں کی بستی بسانے کی کوشش میں تھے ۔ ریونیو حکام اس وقت حرکت میں آئی اور پولیس کی مدد سے موثر اقدامات کرتے ہوئے تو شائد غریب اپنی محنت کا سرمایہ اور مستقبل کے اثاثہ کو یوں رائیگا نہ کرتے ۔ اس اراضی کو غریب عوام نے خریدا ہے تاہم فروخت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ریونیو اور پولیس حکام بھی مقامی عوام اور شہریوں کی نظریں برابر کے ذمہ دار ہیں ۔ شہر کے اکثر گوشوں میں آج کل غوث نگر کے چرچے ہیں ۔ شہریوں کی اکثریت سرکاری مشنری کی کارراوئی کے خلاف ہے اور غوث نگر کی عوام کو بے قصور قرار دیتے ہیں ۔ چونکہ اگر ریونیو حکام کی جانب سے سرکاری اراضی ہونے کا بورڈ لگاکر قبل از وقت عوامی بھلائی کیلئے نہ سہی سرکاری اراضی کو بچانے کی فکر میں باور کردیا جاتا تو غریب عوام کا استحصال نہیں ہوتا ۔ بنڈلہ گوڑہ ، غوث نگر کی عوام شہر میں رہتے ہوئے بھی شہر میں نہیں ہیں ۔ چونکہ شہر میں پولیس کے اعلی عہدیدار ریونیو کے اعلی عہدیدار ، ریونیو سنٹر ، چیف منسٹر ، ڈپٹی چیف منسٹر ، اراکین پارلیمنٹ ، اراکین اسمبلی بڑے عہدیدار سب کی نہیں ہے تو کوئی وہ غوث نگر بستی والوں اور غریب مسلمانوں کے ہمدرد جن کی بستی کو اجاڑدیا جارہا ہے ۔ لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کرنے والا ہے وہ بے یار مددگار اپنی اجڑی ہوئی بستی کو دیکھتے ہیں ۔ جہاں چند دن قبل بلدی چناؤ کے سبب بیانرس پوسٹرس اور ہر نئے پرانے کا آنا جانا تھا ۔ حکومت تلنگانہ ایک طرف بے سہارہ غریب عوام کو ڈبل بیڈروم مکانات کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے تو دوسری طرف غریب و بے سہارا عوام کے مکانات کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر غوث نگر معاملہ میں مداخلت کرے اور زر خرید اس جائیداد کو ان غریبوں کے حوالے کر ے اور انہیں معاوضہ ادا کرتے ہوئے مکانات کی تعمیر کے وعدے کو عملی جامہ پہنائے اور ساتھ ہی ان لینڈ گرابرس کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔ تعجب اس بات پر ہے کہ اس اراضی پر ایک آفس بھی موجود ہے ۔ جو انہدامی کا رروائی کے دوران محفوظ رہا ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان پولیس عہدیداروں کی خدمات سے معطل کردے جو ان لینڈ گرابرس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور غوث نگر عوام کے ساتھ انصاف کریں ۔

TOPPOPULARRECENT