Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / غوث نگر میں انہدامی کارروائی ، اسٹیٹ میناریٹی کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی

غوث نگر میں انہدامی کارروائی ، اسٹیٹ میناریٹی کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی

11 اپریل کو کمیشن کے وفد کا دورہ ، رپورٹ کی طلبی ، محکمہ مال کا سروے ، عوام کا احتجاج
حیدرآباد۔ 8اپریل ( سیاست نیوز) غوث نگر میں ہوئی انہدامی کاروائی کے مقام پر جوں کا توں موقف رکھنے کی ہدایات کے باوجود محکمہ مال کے عہدیداروں نے ریاستی اقلیتی کمیشن برائے آندھرا پردیش و تلنگانہ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ 16مارچ کو غوث نگر بندلہ گوڑہ میں ہوئی انہدامی کاروائی کے بعد سیاسی قیادت سے مایوس عوام جب ریاستی اقلیتی کمیشن سے رجوع ہوئے تو صدر کمیشن جناب عابد رسول خان نے سماعت کے فوری بعد جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی تھیں۔ انہوں نے ارکان کمیشن محترمہ ڈاکٹر قرۃالعین حسن اور سردار سرجیت سنگھ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے جائے واقعہ کا معائنہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کرنے اور مکمل رپورٹ کمیشن کے اجلاس پر پیش کرنے کی ہدیت دی ہے۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کا یہ وفد 11اپریل کو 11بجے دن سے بندلہ گوڑہ ‘ غوث نگر اور اطراف کے علاقوں کا معائنہ کرتے ہوئے عوام بالخصوص متاثرین سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات اکٹھا کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ غوث نگر میں مسلمانوں کے مکانات کو منہدم کئے جانے کے معاملہ کی تحقیقات کیلئے اقلیتی کمیشن کی جانب سے عوامی سماعت رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ غوث نگر متاثرین کے بموجب ایک منظم سازش کے تحت ان کے مکانات کو منہدم کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور جن لوگوں کے اشاروں پر محکمہ مال کے عہدیداروں نے کاروائی کی ہے انہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔مبینہ طور پر لینڈ گرابرس ‘ سیاستدانوں اور محکمہ مال میں موجود بدعنوان عہدیداروں نے منظم سازش کے ذریعہ غریبوں کی اس بستی کو تہس نہس کردیا۔  محکمہ مال کی اس کاروائی پر ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے رپورٹ کی طلبے کے ساتھ ہی ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور محکمہ مال کے عہدیدار جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سروے کے نام پر ملبہ کی صفائی کیلئے کوشاں ہیں۔گزشتہ یوم جاری کردہ احکام کے فوری بعد محکمہ مال کے عہدیدار غوث نگر پہنچ گئے اور سروے شروع کیا جس پر مقامی عوام کی حمایت کے ساتھ متاثرین نے زبردست احتجاج کیا لیکن محکمہ مال کے عہدیدار بھاری پولیس جمعیت کے ہمراہ تھے۔ متاثرین نے بتایا کہ وہ اپنے نوجوان لڑکوں کو احتجاج سے دور رکھنے پر مجبور ہیں چونکہ انہیں فرضی مقدمات میں ماخوذ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ‘ اسی لئے خواتین اور ضعیف العمر افراد ہی احتجاج کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT