Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / غوث نگر کے عوام کو اللہ پر بھروسہ دس سال سے ریونیو حکام کہاں تھے ، ٹھیلہ بنڈی کی کمائی کو خاک میں ملایا جارہا ہے

غوث نگر کے عوام کو اللہ پر بھروسہ دس سال سے ریونیو حکام کہاں تھے ، ٹھیلہ بنڈی کی کمائی کو خاک میں ملایا جارہا ہے

اراضی بچانے لاٹھی اور گولیاں کھانے کا عزم ، لینڈ مافیا اور ریونیو حکام کی ملی بھگت پر سخت برہمی
حیدرآباد ۔ /25 مارچ (سیاست نیوز) ٹھیلہ بنڈی پر جام کا کاروبار کرتا ہوں اور یہ پلاٹ میرے چھوٹے چھوٹے بچوں کی محنت  کی کمائی کا اثاثہ ہے جو مجھ سے چھین لیا جارہا ہے ۔ غوث نگر میں انہدامی کارروائی کے دوبارہ اعلان اور متاثرہ خاندانوں کا یہ تاثر ہے ۔ غوث نگر میں اراضی خریدنے سے غریب مسلمانوں کی درد بھری داستانیں ہیںجو اپنے زندگی کے اثاثہ کو لوٹتا ہوا دیکھ کر حکومت اور تحصیلدار کو کوس رہے ہیں ۔ تاہم اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرتے ہوئے بے یارو مددگار غوث نگر کی عوام کو اللہ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور وہ حکومت سے بھی سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ اراضی غریبوں کے لئے مکانات تیار کرنے کی ہے تو کیا یہ لوگ غریب نہیں جو اراضی کو خریدچکے ہیں ۔ ادھر تحصیلدار پولیس اور لینڈ مافیا کی سازشوں اور مبینہ ملی بھگت کے درمیان سازشوں کا شکار غوث نگر کی غریب مسلم آبادی اب آسمان کی طرف نگاہیں جمائی بیٹھے ہیں ۔ انہیں کسی پر بھروسہ نہیں ۔ انصاف چاہتے ہیں ایک ضعیف شخص نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ وہ ٹھیلہ بنڈی پر جام کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی محنت کرتے ہیں ۔ 4 لڑکیاں ان کی ذمہ داری میں ہیں ان کی شادیاں کرنی ہیں ۔ بڑی شفقت اور بچپن کو دھوپ میں جلاکر سردی میں اکڑاکر بارش میں بھیگاکر میرے بچوں نے پیسے جمع کئے اور اراضی خریدی گئی لیکن آج ہمارے مکان کو توڑنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس ضعیف شخص اور ان کے ہمراہ موجودہ دوسرے شہریوں نے کہا کہ اگر سرکاری بلڈوزر کو ہمارے مکانات پر کارروائی کرنا ہے تو پہلے انہیں ہماری نعشوں سے گزرنا ہوگا ،چاہے کچھ بھی ہو ہم ہمارے مکانات کو منہدم ہونے نہیں دیں گے ۔ ان شہریوں نے تحصیلدار سے سوال کیا کہ آیا 10 سال سے آخر ریونیو حکام کیا کررہے تھے ۔ جب اس علاقہ میں پلاٹنگ کی گئی ۔ برقی اور سڑکوں کا انتظام کیا گیا تب یہ لوگ کہاں تھے ۔ جب ہم نے پلاٹ خریدے سوائے پتھروں اور چٹانوںکے اور کچھ نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز حکومت کے اختیار میں ہے ۔ چاہے حکومت گولیاں کیوں نہ چلائے ہم ہمارے مکانات سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت اور تحصیلدار سے سوال کیا کہ آیا حکومت اگر قصورواروں کو نہیں پکڑسکتی تو پھر کون ان کے خلاف کارروائی کرے گا ۔ ایک خاتون نے سوال کیا کہ اگر حکومت کی اراضی ہے اور غریب عوام میں تقسم کرنے کی ہے تو پھر کیا غوث نگر کی عوام حکومت کو غریب دکھائی نہیں دیتی یا پھر غوث نگر میں غریب رہنا حکومت کو پسند نہیں یا پھر غوث نگر کی مسلم آبادی کو جینے کا حق نہیں ہے ۔ جنہوں نے اس سرکاری بتائی جارہی اراضی کو فروخت کیا ہے ۔حکومت کو چاہئیے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے ، قانون آپ کے ہاتھ ۔ اختیارات اور عہدیدار و پولیس آپ کے ہاتھ ہے تو یہ طاقت آزمائی صرف غریب بے سہارا عوام پر ہی کیوں ۔ غوث نگر کی عوام کی برہمی اور اپنے مکانات کو منہدم کرنے کے اقدامات پر برہمی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور شہری آبادی کا ایک بڑا حصہ غوث نگر کے مسئلہ کو سنجیدگی سے غور کررہا ہے ۔ تاہم اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود تحصیلدار بنڈلہ گوڑہ اپنے فیصلہ پر اٹل ہے ۔ تاہم غریب عوام کے سوالات کاان کے یہاں کوئی جواب نہیں اور نہ ہی پولیس اور حکومت ان غریب عوام کے سوالات کا جواب دے سکتی ہیں ۔ جنہوں نے اپنی زندگی کے اثاثہ کے لئے اپنے مکانات تعمیر کرلئے اور اس اراضی کو خریدا جو سرکاری قرار دی جارہی ہے ۔ تاہم وہ اراضی فروخت کنندے ابھی پردے کے پیچھے ہیں جنہیں مبینہ طور پر پولیس اور ریونیو حکام کی پشت پناہی حاصل ہے اور غریب عوام پر سرکاری قہر ٹوٹتا ہی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT