Saturday , August 19 2017
Home / جرائم و حادثات / غیرمسلم لڑکی مشرف بہ اسلام‘ مسلم نوجوان سے شادی

غیرمسلم لڑکی مشرف بہ اسلام‘ مسلم نوجوان سے شادی

ایڈوکیٹ سے پولیس کی پوچھ گچھ‘ سعیدآباد میں سنسنی
حیدرآباد۔ 7 ۔ مارچ (سیاست نیوز) علاقہ سعید آباد میں آج اس وقت سنسنی پھیل گئی جب آصف نگر پولیس کے عملے نے ایک ایڈوکیٹ کے مکان میں داخل ہوکر اچانک تلاشی لے کر گمشدہ لڑکی سے متعلق تحقیقات کی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 24 فروری کو 26 سالہ جی ماناسا عرف ہانیہ فاطمہ دیویا ریڈی گرلز ہاسٹل واقع مہدی پٹنم سے اچانک لاپتہ ہوگئی تھی جس کے سبب آصف نگر پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ جس کا کرائم نمبر 59/2016 ہے، درج کیا گیا تھا ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ماناسا گلوبل لاجک کمپنی کی برسرکار ہے اور اس نے احمد گلشن کاماٹی پورہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے محمد یونس سے 25 فروری کو نکاح کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نکاح سے قبل ماناسا مشرف بہ اسلام ہوگئی اور اپنا نام تبدیل کرتے ہوئے ہانیہ فاطمہ رکھا۔ مذکورہ لڑکی کا تعلق ضلع نظام آباد کے وِنائک نگر سے ہے ۔ وہ سال 2013 ء میں روزگار کے حصول کیلئے شہر منتقل ہوکر خانگی ادارہ میں ملازمت کر رہی تھی۔ لڑکی کی اچانک گمشدگی اور مشرف بہ اسلام ہونے اور پھر نکاح کرانے میں مدد کرنے والے ایڈوکیٹ خالد سیف اللہ کو آصف نگر کی پولیس ٹیم نے ان کے مکان پہنچ کر 6 گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی  اور لڑکی کو پیش کرنے کیلئے دباؤ ڈالا ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ انسپکٹر آصف نگر مسٹر پی وینکٹیشورلونے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایڈوکیٹ کے مکان پہنچ کر مکان کی تلاشی لی اور مشرف بہ اسلام ہونے والی لڑکی کا پتہ بتانے پر اصرار کیا۔ گھنٹوں طویل تحقیقات جاری رکھنے کے بعد پولیس ٹیم رات دیر گئے وہاں سے روانہ ہوگئی لیکن پولیس کی اس کارروائی کے دوران علاقہ میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT