Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / غیرملکی کمپنیوں کو شفاف بنانے کیلئے عالمی کمیشن

غیرملکی کمپنیوں کو شفاف بنانے کیلئے عالمی کمیشن

پیرس ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پناما کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر ملکی (آف شور) مالیاتی صنعت کو شفاف بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی پینل تشکیل دے رہا ہے۔ لا کمپنی موساک فونسیکا کی کروڑوں دستاویزات افشا ہونے کے بعد یہ قدم اٹھانے کا اعلان کیاگیا ہے۔ ان دستاویزات کی روشنی میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اس کمپنی کے چند صارفین پابندیوں اور محصولات کی ادائیگیوں سے بچنے کیلیے ان کی مدد لیتے رہے ہیں۔ کئی ممالک کی جانب سے ان دستاویزات کے افشا ہونے کے بعد امیر اور طاقتور لوگوں اور اداروں کے خلاف مالیاتی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ پناما کے صدر خوان کارلوس وریلا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان انکشافات کے حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت داخلہ کی مدد سے پناما کی حکومت ملکی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیشن تشکیل دے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ پینل کام کرنے کے طریقہ کار کی جانچ پڑتال کرے گا اور ایسے مشترکہ اقدامات تجویز کرے گا جن کے ذریعہ مالیاتی اور قانونی نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ دوسری جانب لا کمپنی موساک فونسیکا کا کہنا ہیکہ ان کا ادارہ ہیکنگ کا نشانہ بنا ہے۔ کمپنی کے شریک بانی رامون فونسیکا کہنا ہے کہ معلومات کے افشا ہونے میں ’اندرونی ہاتھ‘ نہیں ہے اور کمپنی کو بیرون ملک قائم سرورز کے ذریعے سے ہیک کیاگیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے پناما کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں شکایت درج کروا دی گئی ہے۔ کمپنی نے ذرائع ابلاغ کے اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’ہماری کمپنی کی خانگی دستاویزات اور معلومات تک غیر قانونی رسائی‘ کے ذریعے سے افشا ہونے والی معلومات کی خبریں دے رہے ہیں اور اْن کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکس میں سامنے آنے والے انکشافات کی روشنی میں پہلے ہی ان ممالک میں سیاسی ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے جہاں کی اہم شخصیات کے نام ملوث پائے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT