Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / غیرکفو میں عقد سے اعتراض کا حق صرف ولی کو ہے

غیرکفو میں عقد سے اعتراض کا حق صرف ولی کو ہے

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلم خاتون مطلقہ تھی اور اپنی گزربسر کے لئے بیڑی فیکٹری میں بیڑیاں بنانے جایاکرتی تھی وہاں ایک غیر مسلم ملازم سے محبت پیدا ہوگئی وہ ملازم اسلام سے مشرف ہوکرمتذکرہ خاتون سے نکاح کرنا چاہتاہے چنانچہ اس نے دواخانہ میں اپنی ختنہ بھی کراچکاہے ۔آبادی کے چند مسلم حضرات کہتے ہیں کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے توبھی نکاح نہ کیاجائے اور کہتے ہیں کہ اس نے محض اس خاتون سے محبت کی خاطر اسلام قبول کر رہا ہے اس لئے نکاح ناجائز ہے۔بناء بریںوہ جبر اور تشدد کررہے ہیںاور اس خاتون اور اس کے والدین سے بات چیت ،لین دین ،خرید وفروخت نہ کرنے کے لئے آبادی کے مسلم حضرات اعلان کرچکے ہیں ۔ ایسی صورت میں شرعاًکیاحکم ہے  ؟
جواب :  اگرکوئی غیر مسلم ، اسلام قبول کرلے تووہ ایسی عورت کا کفو نہیںہوسکتا جس کے باپ ،دادا مسلمان ہیں من اسلم بنفس ولیس لہ اب فی الاسلام لا یکون کفأ لمن لہ اب وجدفی الاسلام کذا فی فتاوی قاضی خان۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۹۰ ۔ اگر کوئی عورت اپنا عقد غیرکفومیں کرلے تو نکاح منعقدہوجائے گا البتہ اس عورت کے ولی کو حق ہوگا کہ بصورت ناراضگی اس نکاح کو فسخ کرادے۔ جیساکہ اسی کتاب کے ص۲۹۲ میں ہے ثم المرأۃ اذا زوجت نفسھا من غیرکفء صح النکاح … و لکن للأولیاء حق الاعتراض۔ اگر کسی لڑکی کے اپنا عقد غیر کفو میں کرچکنے کے بعد اس کے ولی نے اپنی رضامندی ظاہرکردی ہو یا خود ولی نے اس کا نکاح غیرکفومیں کیا ہوتو پھر کسی کوکسی قسم کے اعتراض کاحق نہیں ہے ۔ واذا زوجت نفسھا من غیر کفء ورضی بہ احد الأولیاء لم یکن لھذا الولی و لالمن مثلہ او دونہ فی الولایۃ حق الفسخ…وکذا اذا زوجھا احد الأولیاء برضاھا کذا فی المحیط۔ عالمگیری جلد اول ۲۹۳۔
پس صورت مسئول عنہا میں بشرط صحت سوال اگر اس خاتون کے والدین ، اس نو مسلم سے عقد پر راضی ہیں یا وہ خود اس خاتون کی خـواہش پر اس کا عقد نومسلم سے کر رہے ہیں تو دوسرے مسلمانوں کو اعتراض یا ترک موالات کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ غیر کفو میں عقدسے اعتراض کا حق صرف لڑکی کے اولیاء کو ہے دوسروں کو نہیں ۔
مہر وُچڑھاوا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ ھندہ کوبحالت حمل اپنے گھرسے تنہا جسم کے کپڑوں سے نکال دیا اور اس کے کچھ دنوں بعد مسماۃ مذکورہ کو طلاق مغلظہ (یعنی تین طلاقیں دیدیں) ۔  ایسی صورت میں ھندہ کے ذاتی زیورات ، دیگر سامان اور زیورات وغیرہ جو اس کو بوقت شادی اس کے والدین اور اس کے دیگر عزیز واقارب اور شوہر یا انکے لوگوں کی طرف سے بطور تحفہ ملا یا  چڑھایا گیا اور جو اِس وقت شوہر زید نے روک رکھاہے وہ کس کی ملک ہونگی ؟ کیا ھندہ یہ سب کچھ مع زر مہر اپنے شوہر زید سے پانے کی مستحق ہے یا نہیں  ؟
جواب :  صورت مسئول عنہا میں ھندہ کا ذاتی زیور اور اس کے والدین  واقرباء نے اسے جو کچھ دیا وہ ھندہ کی ملک ہے اسی طرح شوہر یا اس کے رشتہ داروں کی طر ف سے بوقت شادی ھندہ کو جو چڑھاگیا یا تحفۃً دیا گیا وہ عرف عام و رواج کی بناء پر شرعا ھندہ کی ملک ہے۔رد المحتار جلد ۴ ص ۵  میں ہے:   وھذا یوجد کثیر ا بین الزوجین یبعـث الیھا متاعا وتبعث لہ ایضا وھو فی الحقیقۃ ھبۃ۔  ھندہ کا مہر جو مؤجل تھا طلاق کی وجہ سے معجل ہوگیا۔ عالمگیری جلد اول ص ۳۱۸ میں ہے:  وبالطلاق الرجعی یتعجل المؤجل ولو راجعھا لایتأجل۔ لہذا ھندہ کو اس کے مطالبہ کا حق ہے اور اس کی ادائی زید پر واجب ہے۔    فقط واللہ أعلم

TOPPOPULARRECENT