Monday , April 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / غیرکی منصوبہ بندی اپنی نادانی بھی دیکھ

غیرکی منصوبہ بندی اپنی نادانی بھی دیکھ

یہ دنیا دارالامتحان ہے اسلئے اللہ سبحانہ نے اس کو اسباب پررکھا ہے،قوموں کا عروج وزوال تاریخ کا نا قابل انکارواقعہ ہے،انسانی زندگی دنیا وآخرت دونوں سے جڑی ہوئی ہے،دنیا میں محنت وکسب کا ہر فرد بشرپابندہے، نتائج وثمرات اللہ سبحانہ تعالی کے مقدرکردہ نظام کے تحت ہرایک کو نصیب ہوتے ہیں جس کو تقدیرکہا جاتاہے۔لیکن تقدیر کا بہانہ بناکراسباب اختیارکرنے سے غفلت نہیں برتی جا سکتی،ایمان کی راہ یہ ہے کہ اسباب اختیارکرکے نتائج کو اللہ سبحانہ کے حوالہ کیاجائے،ایمان ویقین کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے اسی کی ذات پر کامل اعتمادوبھروسہ کیا جائے ’’ومن یتوکل علی اللّٰہ فہوحسبہ‘‘ (الطلاق:۳) جواللہ پر کامل بھروسہ اوراعتمادکرے اللہ سبحانہ اسکے لئے کافی ہے۔
مسلم قوم نے برسوں کرئہ ارض پر حکومت کی ہے،بہت سے حکمران وہ رہے ہیں جن کا مقصدتخت وتاج حاصل کرنا اورحکومت وسلطنت قائم کرنارہا ہے ایسے حکمران جاہ وحشمت کے غرورمیں کھوئے تعیش پسندانہ زندگی میں مگن رہے ،ملک وقوم اورملت کیلئے کچھ نمایاں کام انجام دینے کا سودا انکے سرمیں کبھی نہیں سمایا ۔کچھ حکمران وہ بھی گزرے ہیں جنہوں نے حکومت وسلطنت حاصل ہونے کے بعدقوم وملت کیلئے گرانمایہ خدمات انجام دیں اور انسانیت کی خدمت کو نصب العین بنایا لیکن اسلام کے تئیں وہ سنجیدہ نہیں رہے۔بہت کم حکمران وہ گزرے ہیں جوانگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذکرنے کاجذبہ صادق رکھتے تھے ،جنہوں نے’’ بادشاہی میں فقیری ‘‘کا عملی مفہوم دنیا کواپنی خداترس درویشانہ زندگی سے سمجھایا ۔بادشاہت کا دورآہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا اورجمہوری نظام نے اسکی جگہ لی،اب اس وقت کرئہ ارض پر کچھ مملکتیں ہیں جوشاہی وخاندانی نہج پر قائم ہیں،جو جمہوری ممالک ہیں وہ اسلامی نظام جمہوریہ سے کوئی میل نہیں کھاتے لیکن انکے دساتیر بڑی حدتک انسانی اقدارپر مبنی ہیں۔ عدل واعتدال اسلام کا نمایا ں ومنفردوصف ہے ، اسلام کا نظام ہردورمیںان بنیادوں پر قائم رہا ہے اسلئے اسلام نے جبرواکراہ کو ناپسندکیاہے،اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اوراسکا حیات بخش پیغام عام کرنے میں اہل اسلام نے اسکو ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے۔اسلام نے ساری انسانیت کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے جوراضی وخوشی ایمان قبول کرتے ہیں انکی اسلام پذیرائی کرتا ہے ،اورجو اسلام نہیں لاتے ان کو انسانی اقدارپر عمل پیرا رہتے ہوئے زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔جمہوری ممالک میں ازروئے دستوراپنے مذہب پر عمل کرکے زندگی گزارنے کا ہرایک کو حق حاصل رہتاہے اوروہ دستوراپنے مذہب کی مثبت اندازسے پرچارکی اجازت بھی دیتاہے۔انسانی اقدارپر مشتمل ان دساتیرپر جب تک سنجیدگی سے عمل ہوتا رہا جمہوری ممالک کا سیکولرکرداربے داغ رہا،انسانی اقداراوراخلاق وشرافت کی حکمرانی رہی،سارے انسان انسانیت کے ڈورمیں بندھے ،پیار ومحبت کے ساتھ شیر وشکربن کر زندگی گزارتے رہے،ایک دوسرے کے دکھ درد،خوشی ومسرت میں شریک ہوتے رہے ،نفرت ودشمنی کا دوردورتک کوئی گزرنہیں تھا۔لیکن یہ جمہوری ممالک جب سے اپنے بنائے ہوئے انسانی اقدارپر مبنی دساتیرکواپنے ناپاک عزائم وارادوں کو روبعمل لانے کیلئے پس پشت ڈالنے جمہوریت کی آڑمیں انسانی اقدارکو پامال کرنے ،شرافت واخلاق کی دھجیاں بکھیرنے لگے تب سے انسانیت وشرافت اپنی موت آپ مررہی ہے ،اخوت ومحبت کے بجائے نفرت وعداوت کا دوردورہ ہے۔اس زمین پر کہنے کو ایران اسلامی جمہوریہ ہے جسکو اسلامی اقدارپر مبنی انسانی اقدار کا مظہر ہونا چاہیئے تھا،لیکن ذرائع ابلاغ سے جو تصویر دنیا کے سامنے آ رہی ہے وہ انسانی اقدارپر مبنی جمہوری ممالک سے کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔جمہوری ممالک میں اس وقت امریکہ اورہندوستان سرفہرست ہیں جہاں برسوں انسانیت پر مبنی اقدارپر عمل ہوتارہاہے ،ہر کسی کو چین وسکون کے ساتھ جینے کا حق مل رہا تھالیکن اب صورتحال اسکے برعکس ہے۔امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدارمیں آنے سے قبل مسلمانوں کیلئے جوزہرافشانی کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا اسکے اقتدارمیں آنے کے بعدوہ مزید عروج پر ہے،مختلف گوشوں سے اسلام اورمسلمانوں کو ہدف تنقید بنایا جارہاہے، ظلم وجورکے ناگفتہ بہ حادثات اب جمہوری ملک امریکہ کی سیکولرحیثیت کو داغدارکر ر ہے ہیں۔ہندوستان کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے ،بابری مسجدکے انہدام کے بہت پہلے بلکہ آزادی کے وقت ہی سے ایک جماعت منصوبہ بندکوششوں کے ساتھ ہندمیں رہنے والے باسیوں کے درمیان مذہب کی بنیادپر نفرت کی دیواریں کھڑی کررہی تھی۔ اسکی اس منصوبہ بندسازشوں کے برخلاف اسلامی اخوت کی بنیادوںپر اتحاد واتفاق کی قوت کومجتمع کرکے کوئی عملی منصوبہ بندی وحکمت عملی امت مسلمہ نے اختیارنہیں کی ،نتیجہ میں بابری مسجدکا دردناک سانحہ پیش آیا،وہ طاقتیں جو نفرت کا زہرگھول رہی تھیں انکو کامیابی ملی ،بابری مسجدکی شہادت کے بعدانہوں نے اپنی غیرانسانی وغیراخلاقی کوششوں کو تیزسے تیزتر کردیا،انکی اس منصوبہ بندمہم میں کامیابی مرکزمیں اقتدارکی صورت میں ان کو مل گئی ،کچھ ریاستیں انکے اقتدارسے محفوظ تھیں ان میں چندموجودہ ضمنی انتخابات میںانکے زیراقتدارآگئیں ۔ زعفرانی طاقتوں نے اپنے مقصدکی تکمیل کیلئے پورے ملک میں شاکھاؤں کا جال بچھا دیا ہے ،دوسری ریاستوں میں کامیابی کے بعدآئندہ عام انتخابات  ۲۰۱۹؁ء میں ریاست تلنگانہ میں بادشاہ گرکا موقف حاصل کرنے کی عملی کوششوں کا آغاز کردیاہے ،منقسم آندھراکی دو ریاستیں آندھراوتلنگانہ انکے دست بردسے بڑی حدتک محفوظ تھیںاب اس پر انہوں اپنی توجہ مرکوزکرلی ہے ،اس مقصدکیلئے آرایس ایس نے پہلے سے موجودشاکھاؤں میں مزید ۷۰۰ شاکھاؤں کے اضافہ کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ ریاست تلنگانہ میں پہلے ہی سے ۱۴۹۵شاکھائیں کام کررہی ہیں، جن میں ۳۷۰شاکھائیں ہفتہ واری اساس پر منظم اندازسے چلائی جارہی ہے، اس سمت انکی خاموش تیزتر سرگرمیاں جاری ہیں۔اس مقصد کی تکمیل کیلئے جنوبی ہندکی چھ ریاستوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کرناٹک اورتلنگانہ کو ترجیحی اساس پر منتخب کیا گیا ہے،تمام ریاستوں میں شہری علاقوں سے زیادہ دیہاتی علاقوں میں عملی سرگرمیوں کوتیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے شہری عوام جس سے بے خبرہیں۔ حیدرآباد میں رام نومی شوبھا یاتراکے عنوان سے منعقدہ ریالی کے جلسہ میں وشواہندو پریشدکے ایک اہم ذمہ دار نے زہرآفشانی کی اوراشتعال انگیزبیان دیا اوراس سے منسلک دیگراصحاب نے بھی جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیاہے لیکن حکومت کی طرف اسکا کوئی خاص نوٹ نہیں لیا گیااس سے اندازہ کیا جاسکتا کہ شرپسندعناصرخالص سیکولرملک میں کیسے نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیںاورسیکولر طاقتیں انکے آگے کیسی بے بس ہیں۔امت مسلمہ کی حیثیت اس وقت گویا ’’آتش فروعملہ‘‘ (fire brigade)کی ہے ، پیارومحبت ، رواداری ومروت، ہمدردی وخیرخواہی ،خیراندیشی وخیرسگالی جیسے اسلامی انسان دوست اقدارکی ٹھنڈی پھوارسے پورے ملک میں لگائی گئی اس نفرت کی آگ کو فروکرنے کی مضبوط ومنصوبہ بند مہم چلائے۔ حیدرآبادکے باسی بلالحاظ مذہب وملت امن پسندرہے ہیں ،پورے ملک میں امن پسندشہریوں کی کثرت ہے جو سیکولرذہن وفکرکے حامل ہیں،لیکن رام مندرکی تعمیراوررام راج کے قیام کے عہدکے پس منظر میں امن پسندانہ رجحانات کی بیخ کنی کی جارہی ہے ۔مذہبی رخ سے نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے کیلئے گاؤرکھشاکوبھی موضوع بحث بنایا گیاہے جسکی آڑمیں ظلم وبربریت کا ننگا ناچ پورے ملک میں کھیلا جارہا ہے، حکومت کے ذمہ دارتو بس آنکھیں بندکئے منہ پر تالا لگائے بیٹھے ہیں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ اورانکی علمی وسماجی ترقی سے توانکوخداواسطے کا بیرہے لیکن مسلمانوں کے مذہبی وعائلی مسائل جوکہ مسلم سماج کا کوئی اہم اورقابل توجہ مسئلہ کم ازکم حکومت کے تئیں نہیں ہے اسکو اہم گردانا جارہا ہے ،ظاہر ہے طلاق ثلاثہ وغیرہ کا مسئلہ حکومت اورعدلیہ کی طرف سے انکے ان عزائم کا پتہ دے رہاہے ۔مسلم پرسنل لاء کے مخصوص مسائل زیربحث لائے جارہے ہیں اورانکو تنقیدکا نشانہ بنا یا جارہاہے ،جمہوری وسیکولرملک کو اسکی صحیح سمت سے ہٹاکر غلط رخ پر لیجانے کی غیرخیرخواہانہ کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔جبکہ حکومت کو رعایہ کی خیرخواہی اورانکی خوشحالی اورتمام شعبوں میں ملک وقوم کی فلاح وبہبودجیسے اہم ایجنڈہ پر اپنے توجہ مرکوزکرنی چاہئیے تھی ۔الغرض غیرمسلم طبقات میں اتحادواتفاق قائم کرنے کی غرض سے سیاسی حکمت عملی پر مبنی ’’ سب کیلئے ایک مندراورایک شمشان‘‘ کا عنوان بھی دیدیا گیاہے جوکہ انکے مذہبی ومعاشرتی اقدارکے یکسرمغائرہے،جبکہ امت مسلمہ میں اتحاد واتفاق کی اہم بنیادیں موجودہیں، علامہ اقبال رحمہ اللہ کی زبان میں :
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
ایسے میں ہم کو اپنا انفرادی واجتماعی جائزہ لینا چاہئیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئیے تھا اورہم نے کیا کیا ہے؟اوراسکے نتیجہ میں ہم نے بہت کچھ پانے کے بجائے کتنا کچھ کھودیاہے؟اوراب’’ ہم کوکیا کرنا چاہیئے‘‘ لیکن’’ ہم کیا کررہے ہیں ‘‘اس تناظرمیںاحقرکا یہ شعرقابل توجہ ہے:
غیرکی منصوبہ بندی اپنی نادانی بھی دیکھ
کامیابی کیوں ہے اسکی اپنی ناکامی بھی دیکھ
اس پرتدبروتفکرکرکے پوری حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی کرنی چاہئیے تاکہ بگاڑوفسادکے اس ماحول میں ہم اپنے منصب (خیرامت ہونے)کا حق اداکرتے ہوئے مصلحانہ رول اداکرسکیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT