Tuesday , June 27 2017
Home / مضامین / غیر بی جے پی پارٹیوں کا اتحاد ممکن ہے

غیر بی جے پی پارٹیوں کا اتحاد ممکن ہے

غضنفر علی خان
چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے تجویز پیش کی ہے کہ 2019 ء میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے ان تمام پارٹیوں کو جو جمہوریت اور سیکولرازم پر ایقان رکھتی ہیں اپنا ایک عظیم اتحاد بنانا چاہئے۔ ان کی یہ تجویز لائق تحسین اور قابل عمل ہے۔ اس سلسلہ میں نتیش کمار نے ان کے دعوے کے مطابق ملک کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں سے ابتدائی نوعیت کی بات چیت بھی کی ہے۔ بی جے پی کو یکا و تنہا ہرانے کی کسی ایک جماعت میں طاقت نہیں ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ البتہ یہ قوت ملک کی سیاسی پارٹیوں میں اب بھی موجود ہے کہ اگر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں تو بی جے پی کو اقتدار پر آنے سے روک سکتی ہیں۔ ابھی حال میں 5 ریاستوں کے چناؤ میں یہ بات صاف ہوگئی جبکہ بی جے پی کو اترپردیش میں شاندار کامیابی کے باوجود 4 ریاستوں میں جہاں رائے دہی ہوئی تھی کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے حاصل کردہ ووٹ بی جے پی کو جانے والے ووٹوں سے 10 فیصد زیادہ تھے۔ لیکن چونکہ یہ منقسم تھے یکجا نہ ہوسکے تھے اس لئے عددی غلبہ کے باوجود اپنے انتشار کی وجہ سے بی جے پی کو شکست نہ دے سکے۔ نتیش کمار ہی نہیں بلکہ اب کئی ماہرین بھی یہی بات کہہ رہے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی مخالف بی جے پی ووٹوں کی تقسیم بلکہ انتشار اور بکھراؤ کا لازمی نتیجہ تھا۔ بہار ملک کی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے یہاں اسمبلی چناؤ میں نتیش کمار کی جنتادل یونائیٹیڈ اور لالو پرساد کی راشٹریہ جنتادل نے بی جے پی کے خلاف عظیم اتحاد (مہا گٹھ بندھن) بنایا تھا۔ یہی عظیم اتحاد نے بی جے پی کو شکست سے دوچار کردیا تھا اور ایسی مثال قائم کی تھی کہ غیر بی جے پی جماعتیں اگر متحد ہوجائیں، اپنے اختلافات کو ختم کردیں تو آج بھی ملک میں بی جے پی یا اس قسم کی کسی اور فرقہ پرست پارٹی کو ہرایا جاسکتا ہے۔ اپنی اسی کامیابی اور کامیاب تجربہ کی بنیاد پر چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے تجویز پیش کی ہے کہ غیر بی جے پی جماعتیں اپنا ایک عظیم اتحاد (مہا گٹھ بندھن) بنائیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں کوشش بھی شروع کردی۔ کانگریس حالیہ شکست کے باوجود ایک بڑی جماعت ہے۔ ملک گیر سطح پر اگر فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرسکتی ہے تو یہی پارٹی ہے لیکن اس پارٹی کو اپنے سیکولر ہونے کا زعم ہے جو صرف غلط ثابت ہورہا ہے۔ اس وقت ملک کی جمہوریت اور اس کے سیکولرازم کو بچانے ملک کی دستوری حیثیت قائم رکھنے کے لئے کسی ایک پارٹی پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو فرقہ پرستوں کے خلاف شاندار کامیابی اس وقت ملی جب بہار میں عظیم اتحاد قائم ہوا تھا۔ ایسے اتحاد میں تمام اُن جماعتوں کو بلا شرط شامل ہونا چاہئے جو ملک میں یکطرفہ طور پر انفرادی آزادیوں کو کچل رہی ہیں۔ ریاست گجراتمیں جو وزیراعظم نریندر مودی کی اپنی ریاست ہے گائے ذبح کرنے والے کو عمر قید کی سزا دینے کا فیصلہ تو چھتیس گڑھ میں اس جرم کے ارتکاب کی صورت میں پھانسی دینے کا فیصلہ، نماز اور سوریہ نمسکار میں نعوذباللہ مماثلت تلاش کرنے کی کوشش، مسلم مذہبی اداروں کے نام بدلنے کی کوشش، دینی جامعات پر رفتہ رفتہ شکنجہ کسنے کی حرکت اس بات کے ثبوت ہیں کہ بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں ہندو راشٹرا قائم کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں۔ غذائی عادات میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے جانوروں کے ذبح پر امتناع کتنا غلط فیصلہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ملک کے 70 فیصد عوام گوشت خور ہیں۔ صرف 30 فیصد اپنے عقیدہ کی وجہ سے سبزی خور ہیں۔ تو پھر کس بنیاد کس جمہوری اصول کے تحت غذائی عادات کو بدلنے کے لئے زور زبردستی کی جارہی ہے۔ آہستہ آہستہ عوام کے جمہوری اور انفرادی بنیادی حقوق پر دست درازی کی جارہی ہے۔ اگر آج غیر بی جے پی پارٹیاں عظیم تر اتحاد نہ کریں تو پھر کبھی ایسی صورت پیدا نہ ہوگی۔ اس اتحاد میں سبھی پارٹیوں کو جو بی جے پی حکومت کے فرقہ پرستانہ ایجنڈہ سے اختلاف رکھتی ہیں، شامل ہونا چاہئے۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی، عام آدمی پارٹی کے اروند کجریوال، خود نتیش کمار، لالو پرساد یادو، دونوں کمیونسٹ پارٹیوں کو اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے پارٹیوں کو متحد ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہاں شاید یہ مشکل پیش آئے گی کہ کون ایسی کوشش کی شروعات کرے۔ تمام جماعتوں میں اپنا اپنا دائرہ اثر رکھنے والے لیڈر موجود ہیں لیکن کوئی ایسی قیادت نہیں پائی جاتی جو تمام پارٹیوں کے لئے قابل قبول ہو۔ دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اگر عظیم تر اتحاد قائم بھی ہوجائے تو اس کی طرف سے وزیراعظم کے لئے کس کا نام پیش کیا جائے گا، اس کے کئی دعویدار پیدا ہوجائیں گے جبکہ بی جے پی کے لئے ایسی کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ ان کے پاس تو وزارت عظمی کے لئے وزیراعظم مودی کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں لیا جاسکتا ہے اور نہ سنا جاسکتا ہے۔ ایسے چند مشکلات عظیم تر اتحاد کی تشکیل کی راہ میں اور تشکیل کے بعد پیش آسکتی ہیں۔ لیکن اگر مختلف پارٹیوں کے لیڈر مل بیٹھ کر ان مسائل کو حل کریں گے تو ساری مشکل ختم ہوجائیں گے۔ ماضی میں 1975 ء کی ایمرجنسی کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں نے متحد ہوکر جنتادل بنائی تھی۔ اس تشکیل میں آنجہانی جئے پرکاش نارائن کا سب سے بڑا رول تھا۔ جئے پرکاش نارائن تو نہیں رہے لیکن ان کی فکر اور ان کے مکتب خیال (لوہیا منچ) کے تربیت یافتہ نتیش کمار اور بڑی حد تک لالو پرساد یادو موجود ہیں جو اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرسکتے ہیں۔ اگر غیر بی جے پی پارٹیوں کو اس بات سے دلچسپی ہے کہ انھیں ملک کو بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی سے بچانے کے لئے اپنی انا کو چھوڑنا ہے تو یہ کام بھی آسان ہوجائے گا۔ اس سے پہلے ان جماعتوں کو اپنے اندر پیدا شدہ احساس شکست اور شکست خوردگی کو جو بڑی تیزی سے ان میں سرائیت کرگیا ہے نکال باہر پھینکنا ہوگا۔ یہی ذہنیت Defeatist Trend ان پارٹیوں کی صفوں میں دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کئی پارٹیوں کے لیڈر اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر بی جے پی سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ان کو اپنی پارٹی میں اپنا کوئی مستقبل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ بھی ایک نفسیاتی مرض ہے جو پھیلتا جارہا ہے۔ اس پس منظر میں اگر چیف منسٹر بہار نتیش کمار ایک آواز ’’اتحاد‘‘ کی اٹھارہے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔ کم از کم ہماری سیاسی پارٹیوں میں کوئی تو ایسا لیڈر ہے جو مرض کو سمجھتا ہے اور اس کے علاج سے بھی واقف ہوسکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اور بھی ایسے لیڈر ان کی تقلید میں آگے بڑھیں اور نتیش کمار یہ کہنے کے موقف میں آجائیں کہ میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ آتے گئے کاروان بنتا گیا۔ ایک راہ دکھائی دے رہی ہے ناامید کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی اور اُمید کی ایک کرن نمودار ہوئی ہے۔ اس کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔ ملک کسی پارٹی کی انا یا خود پرستی کی وجہ سے فرقہ پرستوں کے حوالہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان سیاسی پارٹیوں کو یہ فیصلہ کرنے بلکہ آئندہ فرقہ پرستوں سے انھیں نبردآزما ہونا ہے اور یہ جنگ جیتنے کا واحد راستہ ہے کہ وہ اپنا عظیم تر اتحاد یا مہا گٹھ بندھن بنائیں اور اس کو برقرار بھی رکھیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT