Friday , September 22 2017
Home / ادبی ڈائری / غیر حیدرآبادیوں کی نظر میں ماضی کا حیدرآباد

غیر حیدرآبادیوں کی نظر میں ماضی کا حیدرآباد

رحمت اللہ خان سوری
حیدرآباد کا نظارہ کرنے کے ارادے سے ہی خوشی محسوس ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ سفر کی کلفتیں بھی محسوس نہیں ہوتی تھیں۔ کاچیگوڑہ یا سکندرآباد  اسٹیشن پر اُترتے ہی شخصیت میں افتخار پیدا ہوجاتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں اب تک کچھ بھی نہیں تھا لیکن اب کچھ ہوں۔ یہ تھی دکنی تہذیب و تمدن کی تاثیر۔ حیدرآباد کے چند دن کے قیام میں چند مقامات کا نظارہ کرنا ، چند غذاؤں کا کھانا اور چند چیزوں کا خریدنا بھی پہلے سے طئے کیا جاتا تھا ۔ ورنہ اس طرح نہیں کر نے پر تشنگی باقی رہتی تھی ۔ وہ مقامات جن کو بارہا دیکھنے پر بھی طبیعت سیر نہیں ہوتی تھی ، وہ ہیں چارمینار، مکہ مسجد ، باغ عامہ ، سالار جنگ میوزیم ، چومحلہ اور بہت دور سے فلک نما ۔چارمینار کے پاس ہریس برس کے بارہ مہینے ملتی تھی ۔ لذیذ اور کم یاب ہونے کے ناطے ضرور کھائی جاتی تھی پھر لب بند ، لب سوز لب ریز چائے کے مزے لئے جاتے ۔ پھر چارمینار مکہ مسجد ، لاڈ بازار ، پتھر گٹی ، میر عالم منڈی کی سیر کی جاتی ۔ ان مقامات میں گھومتے وقت کوئی وضع دار ، مہذب اور باسلیقہ بچے ، بوڑھے اور جوان شیروانیوں یا جھبے پہنے نظر آنے پر رفتہ و گزشتہ تہذیب کی یادیں تازہ ہوجاتی تھیں کہ کیا زندہ دل ، خوش مزاج بلند کردار اور خوش اخلاق لوگ تھے جن کو دیکھ کر فرشتے بھی شرماتے تھے ۔ یہ وہ تہذیب تھی جس کا تعلق خدا کی رضا جوئی اور روحانی آسودگی سے تھا اور ہے نہ کہ دنیا کی چند روزہ جاہ و حشمت سے تھا اور نہ ہی آسمانوں کو چھونے سے تھا اورنہ ہی جسمانی خوبصورتی سنوارتے رہنے سے تھا ۔

میں عالمپور میں پیدا ہوا جو تلنگانہ کے محبوب نگر ضلع میں ہے لیکن بڑا ہوا اور تعلیم پائی کرنول میں۔ بچپن میں چند سال عالم پور میں تھا ۔ میرے دادا کے دو بھائی اور دو بہنیں حیدرآباد میں تھیں ۔ پھوپا صاحب حیدرآباد کے تھے ۔ میرے ایک چچا صاحب عبدالمجید خان سوری مدرسہ فوقانیہ میں مدرس تھے جو چنچل گوڑہ میں رہتے تھے۔ چچا صاحب مجھے بہت چاہتے تھے جس کی وجہ میں بچپن میں بھی ان سے ملنے کیلئے حیدرآباد جایا کرتا تھا اور وہاں کی تہذیب و تمدن سے متاثر ہوتا تھا۔ 1955 ء یا 56 میں حیدرآباد میں دو یا تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ ویسے عالمپور میں بھی وہی تہذیب و تمدن اور آداب زندگی کو ملحوظ رکھا جاتا تھا جو حیدرآباد میں رائج تھی۔
مکانوں ، گلی کوچوںاور بازاروں میں چیخ و پکار یا بلند آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ یہاں تک کہ مجالس ، محافل اور تقاریب میں بھی بلند آواز اور چیخ و پکار سنائی نہیں دیتی تھی۔ بلند آواز نہ انسانوں کے منہ سے نکلتی تھی نہ ساز و سامان کے برتنے سے نکلتی تھی اور نہ ہی سواریوں کے چلنے سے نکلتی تھی۔ نرم اور خوش کلامی ، دھیمی اور مصلحت آمیز گفتگو کو تہذیب کی بنیاد یا اہم جز مانا جاتا تھا ۔ الصبح خالق کائنات کی کبریائی کی آواز اس خاموشی کو توڑتی تھی ۔ صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی ہر کوئی ایک دوسرے کو تم سلامت رہو تم سلامت رہو کہتے ہوئے اٹھتا تھا ۔ گھر سے باہر جاتے وقت یا گھر میں داخل ہوتے ہی سلامتی کی پرخلوص صدائیں اس خاموشی کو بہت آہستہ اور نرمی سے توڑتی رہتی تھیں۔ جیسے مکیں کے دل وسیع ، عریض اور کشادہ تھے ، اسی طرح مکانات بھی کشادہ ، وسیع و عریض تھے ۔ دالان اور پیش دالان کے نیچے آنگن ہوا کرتے تھے ۔ آنگن میں آم ، جام ، گلاب ، انجیر اور پپئی کے درخت ہوا کرتے تھے اور کہیں کہیں مرغی خانے بھی ہوتے تھے جن میں بے انتہا خوبصورت مرغیاں پائی جاتی تھیں جن کے نام اس طرح تھے پیلی مترا Ply Mouth Rock وائٹ لگھارن ، آسٹرلاپ اور روڈ رالس وغیرہ۔ ان گول مٹول اور خوبصورت مرغیوں کو گھنٹوں دیکھنے پر بھی طبیعت سیر نہیں ہوتی تھی ۔ دیواریں بلند و بالا کہیں کہیں سیاہی مائل اور سبزے سے ڈھکی ہوئی ۔ کہیں کہیں منڈیروں پر ہریالی لہلہاتی نظر آتی تھی ۔ کہیں کہیں زخم حیات کے کنگورے دار دبیز خوشنما پتے اور لمبی ٹہنیوں پر گھنڈی نما پیلے پیلے پھول نظر آتے تھے ۔ طوطے ، مینا، کبوتر اور فاختوں کی آوازوں اور کبھی کوئل کی کوک سے فضا گونجتی تھی ۔ گلی کوچوں میں شیروانیوں میں ملبوس خاموشی کے پتلے ایک دوسرے کو آداب و سلام کرتے نظر آتے تھے ۔ مکانوں میں صاف ستری چاندنی بچھی رہتی تھی جس پر گاؤ تکیے اور خوش نما پنکھے پڑے رہتے تھے ۔ پان دان اور اگالدان بھی نظر آتے تھے ۔ ہاون دستے ، پن کٹنیاں اور ٹونٹی کے لوٹے استعمال کئے جاتے تھے ۔ غریب غربا غیرت سے جیتے تھے اور کبھی کسی سے کچھ مانگنے کو عیب سمجھتے تھے ۔ دال روٹی کھٹا کھچڑی میں ہی مست اور بے نیاز رہتے تھے ۔ درون و دل میں جو سوچتے تھے زبان پر وہی لاتے تھے ۔ ظاہر و باطن ایک تھا ۔ ان اخلاص کے پتلوں کے دل دماغ ڈر اور شک سے خالی تھے ۔ اسی روحانی قوت سے چہروں پر نور تھا ۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی یا ملتے ہی ہشاش بشاش ہوجاتے تھے ۔ اتنے شگفتہ ہوجاتے تھے گویا کوئی خزانہ مل گیا ہو۔
آدابِ زندگی کے متعلق جہاں تک میں نے غور و خوض کیا تھا طعام نوش فرماتے وقت غذا چبانے کی آواز اور بار بار دانت نظر آنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ کبھی کسی کو کہیں تھوکتے ہوئے یا تھوکتے ہوئے یا باآواز ڈکار لیتے ہوئے دیکھا نہیں جاتا تھا ۔ خود اپنے مکان میں کسی کو ناک یا کان صاف کرتے ہوئے بھی دیکھا نہیں جاتا تھا ۔ چول ہونے پر بے ساختہ کھجاتے اور جمائی لیتے ، کسی کو دیکھا نہیں جاتا تھا ۔ بچے ،  جوان اور بوڑھے خود اپنے مکان میں بغیر بنین کے نہیں رہتے تھے ۔ یہاں تک کہ معمر حضرات جب کبھی وضو کرنے بیٹھتے وضو ہوتے ہی فوراً قمیض کے کف کو کہنی سے کلائی تک لاکر گھنڈیاں لگالیتے تھے۔ تھوڑی دیر کیلئے بھی اپنے ہاتھوں کو کہنی سے کلائی تک برہنہ رکھنا گوارا نہیں کرتے تھے ۔ یہ تھی غیرت ، شرم و حیا۔ فرش پر اس طرح بیٹھتے اُٹھتے تھے کہ چاندنی پر سلوٹ یا شکن تک نہیں پڑتی تھی ۔ عورتوں کے سر ہمیشہ ساری کے پلو یا اوڑھنی سے ڈھکے رہتے تھے ۔ عورتوں کو کبھی بلند آواز سے ہنستے یا قہقہے لگاتے سنایا دیکھا نہیں جاتا تھا ۔ جب کبھی کسی کو آواز دی جاتی تو جی ممی ابھی آئی جی پپا ابھی آیا کہتے ہوئے بچے فوری آکر دست بستہ سرنگوں کھڑے ہوجاتے تھے اور دھیمی آواز میں جی جی کہتے ہوئے حکم کی تعمیل کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے ۔ اشاروں کنایوں میں گفتگو کرنے یا کانا پھوسی کرنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ اہل خانہ ملازمین ، خانسا ماں اور ہرکاروں سے بھی ادب سے پیش آتے تھے ۔ ملازمین کے ہاتھوں سے کبھی کوئی کانچ کا برتن گر کر ٹوٹ جاتا تو چیں بجیں نہیں ہوتے تھے ۔ ملازمین اہل خانہ کو بڑے صاب چھوٹے صاب ، دلہن پاشاہ دلہے پاشاہ بڑی بی بی وغیرہ پکارتے اور اہل خانہ بھی ملازین کو معروف ناموں سے پکارا کرتے تھے۔ مثلاً بخت آور ، برکت ، شکریہ ، مبارک اور بسمہ اللہ وغیرہ۔

لاڈ بازار میں مسجد کی ملگی میں مقبول بک ڈپو نامی پرانی کتابوں کی دکان ہے جس کے مالک  غوث پاشاہ صاحب ہیں ۔ یہیں سے میں نے بہت سی اردو کی پرانی کتابیں خریدی تھیں۔ اتوار بازار کے فٹ پاتھ کے کتابوں کے میلے بھی دلچسپ ہوتے ہیں۔ عابڈس میں اردو کے مشہور شاعر مرحوم سید دلاور حسین حزیں صاحب کے فرزند محمد یونس صاحب انگریزی کتابوں کا میلا لگاتے ہیں جس میں اکا دکا اردو کی کتابیں بھی رہتی ہیں۔
دکنی تہذیب و تمدن کی تشکیل و تعمیر میں کئی اقوام ، مذاہب اور ادوار کا ہاتھ رہا ہے۔ ہند آریائی تہذیب ، دراوڑی تہذیب ، ایرانی تہذیب ، سنسکرت زبان ، عربوں ، افغانوں ، ترکوں اور مغلوں کی آمد ، خصوصاً محمد بن تغلق کا انتقال۔ صدر مقام ، اورنگ زیب کا دکن میں طویل قیام، بہمنی ، قطب شاہی اور آصفیہ دور حکومت اور آخر میں انگریزوں کی تعلیم و طرز  معاشرت کے اثرات دکنی تہذیب و تمدن کی تشکیل میں اپنے اپنے اثرات ڈالتے گئے ہیں ۔ دکنی تہذیب و تمدن کی تعمیر میں جامعہ نظامیہ حیدرآباد کا بڑا حصہ رہا ہے ۔ صوفیوں، سنتوں ، بھکیتوں اور اولیائے کرام یعنی حضرت خواجہ معین ا لدین چشتی رحمت اللہ علیہ ، حضرت نظام ا لدین اولیاء رحمت اللہ علیہ ، حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمت اللہ علیہ ، امیر خسرو رحمت اللہ علیہ اور خصوصاً حضرت بابا شرف الدین رحمت اللہ علیہ ، حضرت یوسفین رحمت اللہ علیہ ، حضرت برہنہ شاہ رحمت اللہ علیہ ، حضرت جہانگیر پیراں رحمت اللہ علیہ اور حضرت حسین شاہ ولی رحمت اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ اور حضرت انوار اللہ فاروقی رحمت اللہ علیہ وغیرہ کی خدمات کی وجہ دکنی تہذیب و تمدن آج بھی قائم و دائم ہے
زندگی نام ہے حقیقتوں کو دوہراتے رہنے ، بار بار سیکھتے اور کرتے رہنے کا ۔ جس طرح دن رات ، صبح شام ، موسم ، خورد و نوش عبادات اور حرکات و سکنات دہرائے جاتے تہیں اسی طرح تہذیب و تمدن کی پشتی بانی کرنے والے اعمال و عادات کو دہراتے رہنے اور اعلیٰ اقدار زندگی کی نگہبانی اور تقلید کرتے رہنے سے معاشرے میں چین و سکون ، آسودہ حالی ، تہذیب و تمدن اور نیک خصائل قائم رہتے ہیں ورنہ شیطانیت کو سر اٹھانے کے مواقع ملتے ہیں جس سے ڈر اور شک کا ماحول پیدا ہوتا ہے ۔ ڈر اور شک سے افراد ہر لمحہ مرتے رہتے ہیں۔ معاشرے میں ایک دوسرے سے بے رخی ، سرد مہری اور بیزاری Blase Attitude پیدا ہوتی ہے ۔ ماضی میں نہ صرف معلمین ، مدرسین اور والدین بلکہ سارا معاشرہ کردار سازی کے عمل میں سرگرم رہتا تھا ۔

آمدم برسر مطلب حیدرآبادی تہذیب و تمدن کی اساس دین اسلام پر ہی تھی ، ہے اور رہے گی ۔ معاشرے میں نیکوکاری ، حق پرستی ، انسان دوستی اور راست بازی جیسی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔ حیدرآبادی تہذیب و تمدن کی سب سے نمایاں  خصوصیت ایثار اور نرم و رسیلی آواز میں گفتگو ہے ۔ قدرے چیخنا چلانے کوہی تہذ یب کی دھجیاں اڑادینے اور باہمی روابط کو نیست و نابود کردینے کیلئے کافی سمجھا جاتا تھا ۔ ہر نوجوان حسن اخلاق اور حسن سلوک کی وجہ والدین ، بھائی بہن رشتہ داروں اور دوست و احباب کی آنکھوں کا نور اور اطمینان قلب کا پیہم رواں چشمہ نظر آتا تھا ۔ کوئی بھی فرد زندگی کے شرف و وقار اور شخصیت کے تقدس کو کسی ناجائز و غیر متشرع حرکت سے پامال کرنا گوارا نہیں کرتا تھا ۔ جب تک دوسروں کیلئے جیتے تھے تو زندہ دل تھے ۔ اب معاشرے کا جو بھی طبقہ خود کے لئے جی رہا ہے ، وہ نیم مردہ ، خوف زدہ ، متشکک اور ایک دوسرے پر اعتماد سے خالی نظر آتا ہے ۔ اگر تہذیب و تمدن کا دارومدار ایثار و قربانی پر ہو اور ہر فرد دوسروں کیلئے جیتا ہو تو شر اور غصے کا جذبہ نیست و نابود ہوجاتا ہے۔ جہاں شر اور غصہ نہ ہو، دوسروں کی دل شکنی کا سوال ہی نہ ہو اور ہر آدمی دوسروں کے لئے جیتا ہو، دوسروں کی حفاظت آرام ، ترقی اور خوشی کو اپنی خوشی اور ترقی پر ترجیح دیتا ہو تو پھر کہاں کی پولیس ، کہاں کے وکیل ، کہاں کی جیل ، کہاں کے دواخانے کہاں موت کا ڈر اور کہاں کی دوزخ۔ ابھی بھی حیدرآباد میں ایسے نوجوان ہیں جو ہوٹلوں میں ٹھی ٹھی ٹھا ٹھا کرتے گپے مارتے نہیں بیٹھتے ، لڑکیوں پر للچاتی نظریں نہیں ڈالتے ، مفت خوری اور دعوتوں کے متمنی نہیں رہتے۔ ماں باپ ، خاندان اور معاشرہ پر بوجھ نہیں بنتے اور اوروں کی کمائی پر تکیہ نہیں کرتے بلکہ روزانہ سولہ گھنٹے کام کرتے ہیں، تعلیم اور ہنر و فن کے حصول میں کمال و مہارت پاتے ہیں۔ اللہ کے حقوق ادا کرتے رہتے ہیں۔ زمین پر گرد نیں جھکائے ہوئے نگاہیں نیچی کئے ہوئے نرمی سے چلتے ہیں، بڑوں کی تعظیم کرتے ہیں، چھوٹوں سے شفقت سے پیش آتے ہیں، گرتوں کو

TOPPOPULARRECENT