Tuesday , September 26 2017
Home / جرائم و حادثات / غیر سماجی عناصر کو منہ توڑ جواب ، سارقوں اور رہزنوں کی مجرموں کے انداز میں کارروائی

غیر سماجی عناصر کو منہ توڑ جواب ، سارقوں اور رہزنوں کی مجرموں کے انداز میں کارروائی

پولیس پر ناکامیوں اور تنقیدوں پر جوابی ردعمل ، کمشنر سائیبرآباد سی وی آنند کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /4 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) رہزنوں اور سارقوں کی سرگرمیوں سے پریشان سائبرآباد پولیس نے ناکامیوں اور تنقیدوں کا جواب دینا شروع کردیا ہے ۔ سارقوں و رہزنوں کے خلاف کارروائی میں اپنے آپ کو مثالی پیش کرتے ہوئے کہا کہ غیر سماجی عناصر کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے ۔ تاہم پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ اب وہ سارقوں اور رہزنوں کے خلاف کارروائی انہیں کے انداز میں کریں گے یعنی کمشنر پولیس کے مطابق پولیس اب سارق کے بھیس میں سارق کا تعاقب کرے گی جبکہ پولیس کے بھیس میں سارق کی سرگرمیوں سے پہلے بھی تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس خصوص میں آج سائبرآباد پولیس کمشنر مسٹر سی وی آنند نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی ۔ پولیس کی جانب سے اقدامات کے باوجود واقعات پیش آرہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے سائبرآباد میں پولینگ بہت بہتر ہے اور چین سنیاچنگ رہزنی اور سرقہ کی وارداتیں حیدرآباد سائبرآباد جیسے شہروں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے بڑے شہر اس جرم کے سبب پریشان ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی ، بنگلور اور ممبئی جیسے شہروں کی پولیس سائبرآباد پولیس سے مشورہ لے رہی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ سائبرآباد میں پولیس ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر اینٹی سنیاچنگ ٹیموں کی مشق کا جائزہ لیا جو خصوصی طور پر رہزنی کی وارداتوں پر روک تھام کیلئے تشکیل دی گئی ہیں ۔ مسٹر سی وی آنند نے بتایا کہ سائبرآباد حدود میں کل 55 ٹیموں کو تشکیل دیا گیا ہے ۔ جس میں دو کانسٹیبل پر مشتمل ٹیم رہے گی جو ہتھیار سے لیس رہے گی ۔ ان ٹیموں کیلئے جوشیلے پھرتیلے نوجوان پولیس کانسٹیبل کو مقرر کیا گیا ہے ۔ جنہیں زونل ٹاسک فورس کے علاوہ اے آر سی میں کام کا تجربہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان ٹیموں کو ایک نشانہ دیا گیا ہے کہ وہ تعاقب کریںاور گرفتار کریں ۔ ان کے یہاں ہتھیار بھی موجود رہیں گے جو کسی بھی قسم کے حملے کا جو اب یا پھر ضروری کارروائی کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کی بہ نسبت اس سال رہزنی و سرقہ کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس سال کی  کارروائیوں خواتین کا زخمی ہونا انہیں تشدد کا نشانہ بنانا یا پھر ان میں ہاتھا پائی بھی واقع ہوئی ہے ۔ کمشنر پولیس سائبرآباد نے بتایا کہ سابقہ چیرمین اور مجرمانہ واقعات کے ریکارڈ کے مطابق ان علاقوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے ۔ جہاں واقعے پیش آئے تھے ۔ ان علاقوں میں ٹیمیں متعین کردی جائیں گی ۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں فائرنگ کی تربیت بھی دی گئی ہے ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ ماہر موٹر سائیکل عرفان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے پولیس کو خصوصی تربیت دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عادی سارقین و مجرمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہے اور ان کے خلاف پی ڈی ایکٹ کا استعمال بھی جاری ہے ۔ تاہم کارروائی اور پولیس کی لاپرواہی کا الزام درست ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں سے پولیس اے ایس ٹی کی کارکردگی اور اس کی تربیت کے تعلق سے دریافت کیا جارہا ہے ۔ اس موقع پر پولیس کے دیگر اعلی عہدیدار موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT