Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / غیر قانونی افراد کو انتباہ

غیر قانونی افراد کو انتباہ

کے این واصف
مملکت میں مقیم خارجی باشندے جن کا قیام غیر قانونی ہوگیا ہے ، انہیں بار بار تلقین  کی جارہی ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور جلد از جلد یہاں سے نکل جائیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز محکمہ جوازات (وزارت داخلہ) کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مملکت میں مقیم  غیر قانونی تارکین 90 روزہ مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملکوں کو روانہ ہوجائیں جو افراد خود کو وطن واپسی کیلئے پیش کریں گے ، انہیں مہلت کے حوالے سے دی گئی مراعات حاصل ہوں گی جبکہ ایسے افراد جنہیں دوران تفتیش گرفتار کیا جائے گا وہ کسی قسم کی مراعات کے حقدار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا اکہ دوران تفتیش گرفتار کئے جانے والے افراد پر 3 برس کیلئے مملکت آنے کی پابندی ہوگی اور وہ کسی بھی ویزے پر مملکت نہیں آسکیں گے ۔  انہوں نے کہا کہ مقیم تارکین کی سہولت کیلئے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بندرگاہوں پر محکمہ جوازات کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ عمرہ ، وزٹ ، حج اور ٹرانزٹ ویزوں پر آکر غیر قانونی طور پر مقیم تارکین اپنے ملک کا فضائی ٹکٹ خرید کر براہ راست ایرپورٹ جاسکتے ہیں، جہاں سے ان کا فائنل ایگزٹ لگادیا جائے گا اور وہ بلیک لسٹ نہیں ہوں گے۔ مہلت میں دی جانے والی مراعات سے فائدہ اٹھانے والے تارکین جب چاہیں کسی بھی قانونی طریقے سے دوبارہ مملکت آسکتے ہیں۔ تارکین جنہوں نے جوازات کے ذیلی ادارے شعبہ ترصیل (Deportation Centre) اور لیبر آفس میں اپنا معاملہ جمع کرایا ہوا ہے اور ان کے پاس کنفرم ایر ٹکٹ ہے ، انہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ مقرہ مدت کے اندر رہتے ہوئے عمرہ ادا کرسکیں گے  ۔ تاہم اس کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنے ہمراہ سفری دستاویزات رکھیں تاکہ کسی قسم کی مشکل میں نہ پڑیں۔ ترصیل سے سفری اجازت نامہ (خروج نہائی) (Final Exit) حاصل کرنے کے بعد ملک روانگی میں تاخیر کریں جو افراد مقررہ وقت پر سفر نہیں کریں گے ، انہیں بعد ازاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان پر تمام جرمانے عائد کئے جائیں گے ۔
تارکین وطن کو چاہئے کہ وہ حکومت کی ان اطلاعات پر نظر رکھیں تاکہ وقتاً فوقتاً جاری کئے جانے والے احکامات سے مطلع رہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہماری سماجی تنظیمیں ایسے افراد جو حکومت کی دی ہوئی ان سہولتوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں، انہیں آگاہ کرنے کی کوشش کریں اور یہ بھی کوشش کریں کہ وہ اپنے علاقوں میں ایسے افراد کی مدد بھی کریں تاکہ وہ مقررہ مدت میں اپنی کاغذی کارروائی مکمل کر کے وطن لوٹ جائیں۔

خارجی باشندوں کے حقوق
سعودی عرب میں مقیم ہزاروں خارجی باشندے جن کی حیثیت کسی وجہ سے غیر قانونی ہوگئی ہے وہ سعودی حکومت کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ا پنے اپنے وطن لوٹ رہے ہیں ۔ وطن لوٹنے والے ایسے بہت سے تارکین وطن ہیں جن کے واجبات کفیل سے وصول نہیںہوئے ۔ اب اگر کفیل یہ واجبات ادا کرنے میں تاخیر کرتے ہیں تو یہ خارجی باشندے مہلت کی مدت میں وطن نہیں لوٹ سکیں گے اور وقت گزرنے کے بعد ان پر حکومت کے مقرر کردہ جر مانے واجب ہوجائیں گے ا ور یہاں حقوق کی ادائیگی میں کفیل اکثر تاخیر ہی کرتے ہیں۔ تارکین وطن کے اس مسئلہ کو پیش نظر رکھ کر اس کا ایک حل یہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ تارکین وطن مہلت کی مدت میں مملکت سے نکل جائیں اور اپنے حقوق سے بھی محروم نہ ہوں۔ اس سلسلے میں محکمہ جوازات کے ترجمان نے کہا کہ وہ افراد جن کے ذاتی مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں، وہ مقدمہ نمٹانے کے بعد وطن جاسکتے ہیں جبکہ ایسے افراد جن کے اپنے کفیلوں یا اداروں سے واجبات باقی ہیں ، وہ مہلت سے استفادہ کیلئے کسی کو اپنا وکیل مقرر کر کے روانہ ہوسکتے ہیں ۔ اس سوال پر کہ کفیل سے کچھ تنازعات ہیں ، ایسی صورت میں وہ اس مہلت سے کسی طرح فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔ اس پر ترجمان نے کہا کہ شخصی مقدمات ختم ہونے کے بعد مہلت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جبکہ ا یسے افراد جن کے مطالبات اپنے کفیلوں یا اداروں سے ہیں اگر وہ چاہیں تو کسی عزیز کو یا اپنے ملک کے سفارتخانے یا قونصلیٹ کو وکیل بناکر سفر کرسکتا ہے ۔ اس حوالے سے ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی کا کفیل اس کا فائنل ایگزٹ لگاتا تو ایسی صورت میں وطن جانے کے خو اہشمند کو چاہئے کہ وہ وزارت داخلہ کی ویب سائیٹ پر Appointment لینے کے بعد اپنے علاقے میں قائم کسی بھی جوازات کے ذیلی ادارے ڈیپورٹیشن سنٹر (ترصیل) سے رجوع کرے۔ جہاں اس کا فائنل ایگزٹ Stamp کردیا جا ئے گا ۔ (واضح رہے کہ یہ سہولت ان افراد کیلئے ہے جن کے اقاموں کی میعاد ختم ہوچکی ہے) عمرہ ویزا کے حوالے سے ایک سوال کہ ایک شخص کی اہلیہ 5 برس قبل عمرہ ویزا پر مملکت آئی تھی ، اب وہ اس مہلت سے استفادہ کس طرح کرے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جوازات کی جانب سے مملکت کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر قائم جوازات کے دفاتر کو مطلع کردیا گیا ہے جہاں خصوصی کاؤنٹرز قائم کئے گئے ہیں جواس مہلت کے دوران کام کر رہے ہیں۔ ایسے تارکین جو عمرہ ، وزٹ ، ٹرانزٹ اور حج ویزے پرآکر غیر قانونی طور پر مقیم ہوگئے ہیں ، وہ اپنے ملک کا ٹکٹ خریدیں ، سیٹ کنفرم کرائیں اور ایر پورٹ چلے جائیں جہاں ان کا فائنل ایگزٹ اسٹامپ کردیا جائے گا ۔ ایسے افراد جو اس مہم سے استفادہ کر رہے ہیں ،انہیں مملکت میں بلیک لسٹ نہیں کیا جائے گا ، وہ کسی بھی ویزے پر دوبارہ مملکت آسکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین اس مہم سے مستفید ہوں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کر نا پڑے۔
دریں اثناء محکمہ جوازات کے ریجنل ڈائرکٹر نے کہا کہ 90 روزہ مہلت سے استفادہ کیلئے ہفتہ واری تعطیل میں بھی جوازات کے تمام دفاتر کام کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو دی جانے والی عام معافی کے حوالے سے محکمہ پاسپورٹ ہر ممکن سہولت فراہم کر رہا ہے ۔ تارکین کی تعداد دیکھتے ہوئے انہیں سہولت پہنچانے کیلئے جوازات کی جانب سے کام کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔ جمعہ اور ہفتہ کی تعطیل میں بھی اضافی عملہ کام کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ 90 روزہ مہم سے استفادہ کرنے والی تارکین کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے جوازات کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس مہم سے مستفیض ہوکر اپنے ملکوں کو روانہ ہوسکیں ۔

سعودی گرین کارڈ
اب سے کوئی دس سال قبل حکومت سعودی عرب نے مملکت میں مقیم خارجی باشندوں کو سعودی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا ۔ اس وقت ہزاروں افراد نے درخواستیں دی تھیں لیکن چونکہ اس کے شرائط کافی سخت تھے تو ان ہزاروں درخواست گزاروں میں سے شاید چند ایک ہی کو قومیت حاصل ہوئی تھی ۔ اب حکومت سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ یہاں مقیم  غیر ملکی باشندوں کو ’’گرین کارڈ ‘‘ دیا جائے گا جس کی شرائط یوں بیان کی گئی ہیں۔ بتایا گیا کہ سعودی گرین کارڈ ممتاز ، منفرد اور نمایاں خدمات انجام دینے والے غیرملکیوں کو دیاجائے گا ۔ گرین کارڈ کے حصول کیلئے 9 شرائط رکھے گئے ہیں جن میں سے ایک پورا اترنے والا گرین کارڈ کا مستحق ہوگا۔ یہ بات مجلس شوریٰ میں مالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فہد بن جمعہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ گرین کارڈ جاری کرنے کا مطلب سعودی عرب میں امیگریشن کا دروازہ کھولنا نہیں ہے بلکہ یہ چند ممتاز اور منفرد خصوصیتوں کے حامل افراد کوہی دیا جائے گا ۔ گرین کارڈ کا اجراء متعدد وزارتوں کی منظوری سے ہوگا جن میں سرفہرست وزارت تجارت و سرمایہ کاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گرین کارڈ کے حصول کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ گرین کارڈ اس شخص کو دیا جائے گا جو کسی نادر شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ہو ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ نہایت دقیق اور پیچیدہ علوم کا ماہر ہو۔ تیسری شرط وہ کسی ایسے شعبے میں مہارت رکھتا ہو جس کی ملک کو ضرورت ہو ۔ گرین کارڈ کی چوتھی شرط یہ ہے کہ اس کے پاس علمی اور عملی تجاویز ہوں جو ملک کیلئے مفید ہوں ۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ وہ سرمایہ کاری کیلئے غیر معمولی ا ستطاعت رکھتا ہو۔ وہ طویل عرصہ کیلئے ملک میں مفید سرمایہ کاری کرسکتا ہو۔ سرمایہ کاری کے ذریعہ ملک کو منافع پہنچا سکتا ہو ۔ وہ سعودی شہریوں کی بڑی تعداد کو مناسب روزگار فراہم کرسکتا ہو۔ وہ ملک کے اقتصادیات کیلئے نافع اور فائدہ مند ہو۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT