Thursday , June 29 2017
Home / مضامین / غیر قانونی تارکین کو انتباہ

غیر قانونی تارکین کو انتباہ

کے این واصف
حکومت سعودی عرب کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھانے والوں میں اکثریت لیبر کلاس ، فنی یا نیم فنی افراد کی ہے  جو اپنے قیام کے دوران یہاں عام طور سے یومیہ دہاڑی پر کام کرتے ہیں اور یہاں اپنے قیام کے قانونی دستاویزات رکھے بغیر برسوں کاٹ دیئے اور اب حکومت کی جانب سے دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھاکر اپنے اپنے وطن لوٹنے کیلئے خروج نہائی (Final Exit) حاصل کر رہے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ ہمیشہ سے یومیہ بنیاد پر کام کرنے کے عادی رہے ہیں اور ابھی مہلت کی مدد ختم ہونے میں کافی وقت ہے ۔ وزارت داخلہ سعودی عرب کو شاید یہ گمان ہوا ہوگا کہ یہ لیبر کلاس طبقہ Exit حاصل کرنے کے بعد مہلت کا وقت ختم ہونے تک یومیہ بنیاد پر کہیں کام نہ کرنے لگیں لہذا جوازات (وزارت داخلہ) کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی تارکین کو دی جانے والی 90 روزہ مہلت کا یہ مقصد نہیں کہ تارکین وطن فائنل ایگزٹ لگوانے کے بعد بھی کام کریں اور آخری وقت کیلئے اپنی واپسی کی سیٹ بک کروائیں۔ مہلت کے دوران جن غیر ملکیوں کے فائنل اگزٹ کی کارروائی مکمل ہوجائے وہ کسی صورت میں کہیں بھی کام کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ مہلت کے دوران دی جانے والی مراعات سے درست طور پر استفادہ کیلئے لازمی ہے کہ خروج نہائی لینے کے بعد انتظار نہ کیا جائے بلکہ فوری طور پر اپنے ملک روانہ ہوجائیں ۔ وہ افراد جنہوں نے فائنل ایگزٹ کی کارروائی مکمل کروالی ہے اور وہ دوران تفتیش کسی جگہ کام کرتے ہوئے پکڑے گئے ، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جس کے بعد وہ مہلت کے دوران دی جانے والی مراعات کے مستحق بھی نہیں ہوں گے ۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مملکت میں کام کرنے والی غیر ملکی کمیونٹی اپنے ایسے ہم وطنوں کو جو دور دراز گاؤں اور قصبوں میں مقیم ہوں جنہیں مہلت کے بارے میں علم نہ ہوا، انہیں چاہئے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کی رہنمائی کریں اور انہیں تفصیلات سے واقف کرائیں تاکہ وہ بھی اس سے فائدہ اٹھاسکیں ۔ تارکین وطن کی فلاحی تنظیمیں اور کمیونٹی کے افراد اپنے ان واقف کاروں جن کے پاس غیر قانونی طور پر مقیم افراد ہوں ، انہیں اس امر سے مطلع کریں کہ وہ مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے مملکت سے روانہ ہوجائیں ۔ وہ افراد جو غیر قانونی طور پر مملکت میں مقیم ہیں اور اس مہلت کے دوران وہ اپنے ملک روانہ ہوجاتے ہیں ، اس کے بعد وہ کسی بھی ورک ویزے پر دوبارہ مملکت آکر قانونی طور پر ملازمت حاصل کرسکتے ہیں جس میں ان کا بھی فائدہ ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے تارکین جن کے واجبات اداروں میں باقی ہیں اور وہ اس مہلت سے مستفیض ہونا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ اپنے سفارتخانے ، قونصلیٹ یا اپنے کسی قریبی عزیز کو اپنا قانونی نمائندہ بنادیں جو ان کی روانگی کے بعد کمپنی سے واجبات و حقوق وصول کر کے انہیں ارسال کرسکتا ہے ۔ واضح رہے مملکت میں غیر قانونی قیام کی سخت سزا ہے ۔ عمرہ ، حج یا وزٹ ویزے پر آکر غیر قانونی طور پر مقیم ہونے والوں پر مالی جرمانہ اور 3 برس کیلئے مملکت میں آنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ انہیں قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔ عام معافی کی مہلت میں جرمانے اور قید کے علاوہ بلیک لسٹ کی سزا بھی نہیں ہوگی اور وہ کسی بھی ویزے پر مملکت نہیں آسکتے ہیں ۔

حکومت سعودی عرب کی مہم ’’غیر قانونی تارکین سے خالی وطن‘‘ زور و شور سے جاری ہے ۔ اس مہم کو کامیاب بنانے حکومت غیر قانونی افراد کو بیسیوں سہولتیں مہیا کرا رہی ہے تاکہ یہاں  غیر قانونی حیثیت میں مقیم غیر قانونی افراد جلد از جلد اور بآسانی یہاں سے نکل جائیں۔ ان افراد کو سہولت کی خاطر اب محکمہ جوازات (وزارت داخلہ) کے دفاتر نے اپنے اوقات کار طویل کردیئے ہیں۔ محکمہ پاسپورٹ میں شعبہ تعلقات عامہ کے ریجنل ڈائرکٹر نے کہا کہ ’’غیر قانونی تارکین سے خالی وطن‘‘ مہم کے دوران جوازات کے دفاتر کا دورانیہ بڑھادیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے دوران تارکین وطن کی بری تعداد کو دیکھتے ہوئے جوازات کے ڈائرکٹر جنرل کی جانب سے جاری خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے غیر ملکیوں کی سہولت کیلئے جوازات کے دفاتر صبح سے رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے ۔ ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں تارکین کے معاملات کو بہتر طور پر نمٹایا جائے تاکہ وہ مہلت کے مقررہ دنوں میں اپنے ملک واپس جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی تارکین کو دی جانے والی 90 روزہ عام معافی کے دن تیزی سے گزر رہے ہیں۔ اس لئے وہ افراد جو اس مہلت سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں وہ جلد از جلد اپنے معاملات مکمل کروالیں تاکہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ ہو ۔ ایسے  غیر قانونی تارکین جو اس مہلت سے مستفیض ہوں گے ،ان پر کسی قسم کے جرمانے اور سزا کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ جب چاہیں دوبارہ کسی بھی ویزا پر قانونی طور سے دوبارہ سعودی عرب آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن کی یاد دہانی کی خاطر حکومت ہر روز مقامی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کرواتی ہے جس میں جلی حرفوں میں اُلٹی گنتی کے حساب یہ لکھا ہوتا ہے کہ آج سے مہلت کے اتنے دن باقی رہ گئے ہیں تاکہ لوگ اپنے جانے کی کارروائی میں تیزی پیدا کریں اور جلد از جلد یہاں سے نکل جائیں۔

پچھلے دنوں ہم نے بتایا تھا کہ حکومت سعودی عرب نے ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں سو فیصد سعودائزیشن لاگو کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس شعبہ میں غالب اکثریت خارجی باشندوں کی ہے، وہ روز اول سے ۔  اب حکومت نے اس سلسلے میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے Rent a Car کے شعبہ میں سعودائزیشن کا اعلان کیا ہے ۔ اس شعبہ پر بھی خارجی باشندے چھائے ہوئے ہیں۔ وزارت محنت و سماجی بہبود نے یقین دہانی کروائی ہے کہ رینٹ اے کار سروس کے شعبے میں مکمل طور پر سعودائزیشن کی جائے گی ۔ اعلان کے مطابق وزارت محنت نے اس ضمن میں طریقہ کار وضع کرنے کیلئے جامع منصوبہ مرتب کیا ہے جن پر عملدر آمد کرنے کیلئے متعلقہ اداروں کو سفارشات ارسال کی جارہی ہیں۔ وزارت محنت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رینٹ اے کار کے شعبہ میں سعودیوں کو کام کے بہتر مواقع میسر آسکتے ہیں جبکہ اس شعبہ میں قائم غیر ملکیوں کی اجارہ داری بھی ختم ہوگی جس سے بے روزگاری پر بھی قابو پایا جاسکے گا ۔ شعبے میں سعودائزیشن کے نفاذ سے تجارتی پردہ پوشی کا بھی خاتمہ ہوگا جس سے ملکی معیشت پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے ۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودائزیشن کے عمل کو مختلف شعبوں میں بہتر بنانے کیلئے وزارت کی جانب سے ویب سائیٹ پر لوگوں کی آراء اور تجاویز جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تاکہ بہتر تجاویز پر عمل کرتے ہوئے قوانین مرتب کئے جائیں جس سے عام شہری بہتر طور پر مستفیض ہوسکیں۔

حرمین ریلوے
حرمین ریلویز کی جانب سے ایک اعلان جاری کیا گیا ہے جو حجاج ، معتمرین اور زائرین مقامات مقدسہ کیلئے ایک خوشخبری ہے ۔ حرمین ریلوے پراجکٹ کے ڈائرکٹر نے کہا ہے کہ 8ماہ بعد جدہ ، مدینہ منورہ ریل سرویس شروع کردی جائے گی ۔ ا یک مقامی عربی اخبار کے مطابق ریلوے پراجکٹ اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ شاہ عبداللہ اکنامک سٹی کا ا سٹیشن مکمل ہوچکا ہے جہاں ٹکٹ خریدنے کیلئے خود کار مشینوں کی تنصیب کا کام جاری ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے تجرباتی سرویس بھی شروع کی گئی جس کا مظاہرہ جمعرات کو کیا گیا ۔ ریل میں انٹرنیٹ اور ڈائننگ کار کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے ۔ عام دنوں میں جدہ ، مدینہ منورہ ریل میں 13 ڈبے (کوچ) ہوں گے جن میں سے 5 فرسٹ اور 8 سیکنڈ کلاس کے ہیں جن میں 417 مسافروں کی گنجائش ہے ۔ ماہ رمضان اور حج سیزن میں ریل کے ڈبوں میں اضافہ کیا جائے گا جس کے بعد مسافروں کی تعداد 834 تک ہوجائے گی ۔ حرمین ریلوے کے ڈائرکٹر نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے سعودی نوجوانوں کو اسپین میں فنی تربیت فراہم کی گئی ہے ۔ آئندہ منصوبے کے تحت ریلوے ٹیکنیکل کالج بھی قائم کئے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ سعودی نوجوان اس میدان میں فنی مہارت حاصل کرسکیں۔ ریلوے ٹریک کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 90 فیصد ٹریک بچھائی جاچکی ہے جبکہ 10 فیصد مکہ مکرمہ اسٹیشن اور جدہ میں قویزہ کے علاقے کا کام باقی ہے جو جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا ۔ ریلوے اسٹیشنوں میں بجلی کی فراہمی کے تمام مراحل مکمل ہوچکے ہیں ۔ بتایا گیا کہ 6 اسٹیشنوں کی تعمیر پر 2 ارب ریال لاگت آئی ہے ۔ دوسری جانب ریلوے منصوبے کے ڈپٹی ڈائرکٹر نے بتایا کہ حرمین ریلوے میں سب سے بڑا اسٹیشن رابغ کا بنایا گیا ہے ۔ واضح رہے ریلوے سرویس سے سب سے زیادہ فائدہ عازمین حج اور ماہ رمضان کے معتمرین کو ہوگا جہاں ان کا وقت بچے گا ، وہاں ٹریفک حادثات سے بھی محفوظ رہیں گے ۔ ریلوے منصوبہ کی تکمیل کا سب کو انتظار ہے۔ تاہم تعمیر ہونے والے ایرپورٹ کی وجہ سے تاخیر کا سامنا ہے ۔ نئے ایرپورٹ پر ریلوے اسٹیشن تعمیر ہوگا جہاں سے عازمین حج کو براہ راست مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ لے جایا جائے گا ۔

حجاج اور معتمرین کی سہولت کیلئے حرمین ریلوے کا یہ پراجکٹ قابل ستائش ہے ۔ ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ سعودی ریلویز اگر ریاض ، جدہ ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ریل سرویس شروع کرے تو اس کا بہت بڑا فائدہ عوام کو ہوگا کیونکہ ریاض سے ہر ہفتہ ذاتی گاڑیوں اور پرائیوٹ بس کمپنیوں کی سرویس سے ہزاروں افراد عمرہ اور زیارت مدینہ منورہ کی سعادت حاصل کرنے یہیں سے جاتے ہیں ۔ اگر ان روٹس پر ریلوے سرویس ہوجائے تو عوام کیلئے یہ سفر آسان ، آرام دہ اور سڑک حادثہ کے خدشات سے بھی پاک ہوجائے گا اور عوام کا وقت بھی بچے گا۔ ریاض میں ویسے میٹرو سرویس کا کام تیزی سے جاری ہے ۔ اس پراجکٹ کے 2019 ء میں مکمل ہونے کی امید ہے ۔ میٹرو سرویس سے طلبہ ، غریب عوام ، لیبر طبقہ کے افراد وغیرہ کو فائدہ پہنچے گا اور ان کا روزانہ کا سفر سستا اور آسان بھی ہوجائے گا ۔ اس کے علاوہ ریاض کی سڑکوں کا اژدہام بھی کم ہوجائے گا۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT