Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / غیر مجاز سیل فون ٹاورس کے خلاف جی ایچ ایم سی کی مہم میں شدت

غیر مجاز سیل فون ٹاورس کے خلاف جی ایچ ایم سی کی مہم میں شدت

دو ٹیموں کی تشکیل ، ٹاورس کو نکالنے اور مالکین جائیداد پر جرمانہ متوقع
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) شہر میں غیر مجاز سیل فون ٹاؤرس کے خلاف مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے مہم میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دو علحدہ ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی ہے جو آئندہ ماہ کے اوائل میں جی ایچ ایم سی کو رپورٹ پیش کردے گی۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب شہر حیدرآباد کے کئی رہائشی علاقوں میں نصب کئے گئے موبائیل فون ٹاؤر کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے درکار اجازت نامے حاصل نہیں کئے گئے جس کے سبب جی ایچ ایم سی کے مالیہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسی لئے جی ایچ ایم سی نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں موجود تمام موبائیل فون ٹاؤرس کا سروے کرتے ہوئے مکمل تفصیلات اکٹھا کی جائیں گی۔کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تشکیل دی گئی دو علحدہ کمیٹیوں کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ شہر میں کتنے سیل بون ٹاؤرس ایسے ہیں جنہیں بلدیہ کی جانب سے اجازت فراہم کی گئی ہے اور کتنے ایسے سیل فون ٹاؤرس ہیں جو غیر مجاز نصب کئے گئے ہیں۔ دونوں شہروں میں ایک اندازے کے مطابق 6000سیل فون ٹاؤرس غیر مجاز نصب کئے گئے ہیں جن کی تنصیب کیلئے نہ سیل فون کمپنیوں نے اجازت حاصل کی ہے اور نہ ہی مالکین جائیداد کی جانب سے اجازت حاصل کی گئی ہے۔ بلدی قوانین کے مطابق سیل فون ٹاؤر کی تنصیب کیلئے پیشگی اجازت کا حصول لازمی ہے لیکن ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نصب کئے گئے ٹاؤرس کو نکالنے اور مالکین جائیداد پر جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ سیل فون کمپنیوں کو بھی جوابدہ بنانے کی سفارش متوقع ہے۔ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود سیل فون ٹاؤرس کی جملہ تعداد کی نشاندہی کے بعد ہی ان کمیٹیوں کی جانب سے رپورٹ پیش کی جائے گی اور رپورٹ کی پیشکشی کے بعد جی ایچ ایم سی کی جانب سے کاروائی کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہر وں میں کئی علاقوں میں سیل فون ٹاؤرس کی تنصیب کے متعلق مالکین جائیداد کے خلاف خود پڑوسیوں اور محلہ والوں کی جانب سے متعدد شکایات وصول ہونے کے بعد دریافت کرنے پر پتہ چلا ہے کہ شہر کے بیشتر سیل فون ٹاؤر غیر مجاز ہیں اسی لئے کمیٹی کی تشکیل دیتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ اجازت ناموں کے عدم حصول کے سبب جی ایچ ایم سی کو پراپرٹی ٹیکس اور اجازت ناموں کے لئے وصول کی جانے والی فیس کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT