Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / غیر محسوب اثاثہ جات کیس میں ضمانت سے دستبرداری

غیر محسوب اثاثہ جات کیس میں ضمانت سے دستبرداری

سی بی آئی جج کے حکم پر اوم پرکاش چوٹالہ دوبارہ محروس

نئی دہلی ۔ 21 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ہریانہ کے سابق چیف منسٹر اوم پرکاش چوٹالہ جنہیں ٹیچرس اسکام میں 10 سال کی سزاء قید ہوئی ہے ۔ غیر محسوب اثاثہ جات کیس میں ایک شخص کی جانب سے دی گئی ضمانت واپس لئیے جانے کے بعد آج حراست میں لے لیا گیا ۔ سی بی آئی کے خصوصی جج سنجے گارگ نے سرجیت سنگھ کی عرضی کو سماعت کے لیے قبول کرلیا ۔ جس نے 81 سالہ چوٹالہ کی ضمانت کے لیے شخصی مچلکہ پیش کیا تھا ۔ درخواست گذار نے بتایا کہ شخصی وجوہات کی بناء پر وہ ضمانت جاری رکھنے کے خواہش مند نہیں ہے جس پر خصوصی جج نے عدالت میں موجود چوٹالہ کو حراست میں لینے کا حکم دیدیا ۔ اور ایف ڈی آر کی شکل میں شخصی مچلکہ کو انہیں واپس کردیا ۔ واضح رہے کہ ہریانہ میں سال 2000 کے دوران 3,206 جے بی ٹی ٹیچرس کے تقررات کا اسکام پیش آیا تھا اور اس کیس میں سابق چیف منسٹر اوم پرکاش چوٹالہ کو 10 سال کی سزائے قید ہوئی تھی اور وہ پیرول پر جیل سے رہا ہوئے ہیں ۔ بعد ازاں ہریانہ کانگریس لیڈر شمشیر سنگھ سرجیوالا کی شکایت پر چوٹالہ اور ان کے دو فرزندان اجئے اور ابھئے کے خلاف بھی غیر محسوب اثاثہ جات کے 3 علحدہ علحدہ کیسیس درج کئے ہیں ۔ اور سی بی آئی نے 26 مارچ 2010 کو پیش کردہ چارج شیٹ میں چوٹالہ کے خلاف 6.09 کروڑ کے غیر محسوب اثاثہ جات رکھنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ جب کہ اجئے کے پاس 27.7 کروڑ اور ابھئے کے پاس 119.69 کروڑ کے غیر محسوب اثاثہ جات پائے جاتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT