Sunday , April 30 2017
Home / Top Stories / غیر محسوب دولت رکھنے والوں کو مذہبی مقامات کا سہار!ا

غیر محسوب دولت رکھنے والوں کو مذہبی مقامات کا سہار!ا

نوٹوں کی تبدیلی کیلئے ساز باز، عطیہ جات میں اضافہ، حکومت کی رعایت کا غلط استعمال مہنگا ثابت ہوسکتا ہے
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) ملک میں بڑی کرنسی کو تبدیل کرنے کے اعلان نے غیر محسوب رقومات کی تبدیلی میں مذہبی مقامات کو دیئے گئے استثنی کا زبردست استحصال کیا جانے لگا ہے اور مذہبی مقامات منادر‘ گوشالہ ‘ مٹھ ‘ آشرم و دیگر مقامات کے ذمہ دار‘ نگران و متولیان کے علاوہ منیجنگ کمیٹیوں کے اراکین نوٹوں کی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کرنے لگے ہیں۔ باباؤں کے آشرم‘ گوشالہ ‘ منادر ‘ مدارس اور مذہبی مقامات کو کسی بھی حد سے مستثنی قرار دیئے جانے کے بعد دولتمند ان مذہبی مقامات کی جانب راغب ہونے لگے ہیں اور ان مقامات کے ذمہ داروں سے ساز باز کرتے ہوئے بھاری رقومات منادر اور گوشالہ کی ہانڈیوں میں ڈالے جانے لگے ہیں اور اسی طرح کچھ اور مقامات پر متولیوں و نگران کاروں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے مریدین کو غلوں میں 1000اور 500کے نوٹ ڈال دینے کی ترغیب دی جانے لگی ہے کیونکہ حکومت نے مذہبی مقامات کو ان نوٹوں کی حد سے مستثنی قرار دیا ہے۔ یہی حال کچھ مدارس کا بھی جن سے مذہبی عبادتگاہیں منسلک ہیں ان مقامات پر بھی یہ بھاری رقومات ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ 31ڈسمبر کے بعد یہ ادارے ان نوٹوں کی تبدیلی کے بعد غلوں اور ہانڈیوں میں ڈالی گئی رقومات کو بہ آسانی تبدیل کرسکتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا شائد اندازہ نہیں ہے کہ ان کی یہ حرکات حکومت کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے ان اداروں میں جمع کی جانے والی اور ان مذہبی مقامات کی جانب سے تبدیل کروائی جانے والی دولت کا اگر انکشاف ہوتا ہے تو ان کی معاشرے میں کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ منادر و گوشالہ میں ایک مخصوص تجارتی طبقہ کی جانب سے اپنی غیر محسوب رقومات جمع کی جانے لگی ہیں جو 31ڈسمبر کے بعد بغیر کسی حد کے تبدیل کرنے کا حکومت نے اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں گوشالاؤں کے ذمہ دار اور کمیٹیوں کے نگران وغیرہ بڑے پیمانے پر معاملتیں کرنے لگے ہیں اسی طرح دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے دولتمند بھی ایسے مقامات کے متولیان اور ذمہ داروں سے رابطہ میں ہیں جہاں’ غلہ‘ کی سہولت موجود ہے۔ ملک بھر میں جاری ان سرگرمیوں کے اثرات شہر حیدرآباد میں بھی دیکھے جانے لگے ہیں اور شہر کے بھی بعض اداروں کے ذمہ داران غیر محسوب رقومات کی مذہبی اداروں کے نذرانوں و امداد کے طور پر 31ڈسمبر کے بعد تبدیلی کروانے کے لئے تیار ہیں اور ایسا کر بھی رہے ہیں۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی چند مذہبی شخصیتیں جو کہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں اپنے مریدین کے ساتھ شراکت دار ہیں وہ اپنے کاروباری شرکاء اور اپنی غیر محسوب رقومات کے متعلق بے فکر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ’غلہ‘ کا بھرپور استعمال کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔بعض ایسے مدارس جن سے عبادت گاہیں منسلک ہیں ان میں بھی اس طرح کی سرگرمیاں دیکھی جانے لگی ہیں۔منادر‘ مٹھ‘ آشرم‘ گوشالہ وغیرہ میں اس طرح کی سرگرمیاں کو ئی نئی بات نہیں ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ سے ان مقامات پر یہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور بابا اور پنڈت اپنے کروڑپتی بھکتوںومریدوں سے انعام و اکرام کے علاوہ نذرانے وصول کرنے میں مصروف ہو چکے ہیں۔مذہبی اداروں میں جاری ان سرگرمیوں اور ان کی آمدنی کے متعلق حکومت کے پاس پہلے سے موجود رپورٹ کی بنیاد پر ہی ان کی آمدنی اور منسوخ شدہ نوٹوں کی تبدیلی کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔دونوں شہروں میں ایسے مذہبی مقامات جہاں نذرانہ‘ غلہ‘ ہانڈی‘ چندہ‘ تحفہ ‘ امداد اور عطیات حاصل کرنے کے زمرے میں جو ادارے آتے ہیں ان میں آشرم‘ گوشالہ‘ مٹھ (جن میں منادر ہوں)‘ منادر‘ مساجد‘ مدارس (جن میں مساجد ہوں)‘ درگاہیں‘ چرچ‘ چھلہ شامل ہیں ۔ان اداروں کے نگران جو رئیل اسٹیٹ یا تعمیراتی سرگرمیوں جیسی تجارت کے علاوہ دیگر کاروباروں میں ملوث ہیں وہ لوگ کچھ زیادہ ان سرگرمیوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں ۔کرنسی تبدیلی کے لئے پریشان حال لوگ جو 30تا40فیصد کے عوض اپنی غیر محسوب کرنسی تبدیل کروانے تیار ہیں ان لوگوں کیلئے یہ راستہ آسان نظر آنے لگا ہے لیکن یہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان غلوں اور ہانڈیوں سے نکلنے والی دولت کے بعد ان اداروں کی آمدنی اور ان کے خرچ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔یہ بات درست ہے کہ ان اداروں کے ذمہ داروں سے یہ دریافت نہیں کیا جائے گا کہ یہ دولت کہاں سے آئی لیکن ان سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ وہ اس دولت کو کہاں خرچ کر رہے ہیں اور کس طرح اس کا استعمال کیا جارہا ہے؟اسی طرح گذشتہ برسوں میں اس طرح نذرانوں‘ عطیات‘ امداد کے نام پر کتنی رقومات حاصل کی ہوئی تھیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT