Monday , June 26 2017
Home / آپ کے سوال / غیر مسلموں کے برتن میں کھانا

غیر مسلموں کے برتن میں کھانا

سوال :  غیر مسلموں کے برتن میں کھانا یا غیر مسلموں کا کھانا کھانا ، تقریباً ہم معنی افعال ہیں اور کھانے کی حد تک قرآن بھی ایک دوسرے کا کھانا باہمی طور پر جائز رکھا ہے ۔ مگر آپ کے مجریہ فتوے میں کھانے کے ساتھ جو ماکول الحم جو گوشت شامل ہوتا ہے خواہ وہ اہل کتاب کی برتنوں میں ہو یا مشرکین اور کافر کی برتن میں ہو جب تک کہ تحقیق نہ کرلیں کیسے حلال سمجھا جاسکتا ہے ؟ مثال کے طور پر اہل کتاب کی برتنوں میں لحم الخنزیر بھی ہوسکتا ہے اور مشرکین اور کافروں کی برتنوں میں غیر اللہ کے نام پر غیر اللہ کی خوشنودی کے لئے ذبح کیا ہوا گوشت بھی ہوسکتا ہے ؟
محمد عبدالرحمن، محبوب نگر
جواب :  غیر مسلم کے پاس پکا ہوا کھانا کھانا اور کسی ہاسٹل میں رہنے والے مسلم اور  غیر مسلم لڑکوں کا ایک دوسرے کے برتن میں کھانا کھانا علحدہ علحدہ چیز ہے ۔ چونکہ انسان خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کا پس نوشیدہ و پس خوردہ پاک ہے ۔ اس لئے اس کا استعمال شدہ برتن کو مسلمان کا استعمال کرنا درست ہے۔ تاہم اس میں حرام چیزیں استعمال کی گئی تھیں تو جب تک اس کو اچھی طرح پاک و صاف نہ کرلیا جائے ان برتنوں کا استعمال درست نہیں۔ اب رہا خنزیر کا گوشت غیر مسلم کا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور شرعاً حرام ہے ۔ اس کا استعمال ناجائز ہے۔ بعد تحقیق و تصدیق عمل کیا جائے ۔ ورنہ احتیاط بہتر ہے۔
لڑکیوں کو جائیداد سے محروم کرنا
سوال :  زید بقید حیات ہیں ان کے تین لڑکے چھ لڑکیاں ہیں۔ اب وہ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے تینوں لڑکوں کو دے دینا چاہتے ہیں۔ اپنی لڑکیوں کو کچھ بھی دینا نہیں چاہتے۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
شیخ طاہر، کاروان
جواب :  مالک جائیداد اپنی ملک میں اپنی حین حیات جس طرح چاہے تصرف کرنے کا مجاز ہے، مالک جائیداد اگر زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کردینا چا ہے تو ان کو اس کا اختیار ہے۔ اپنی اولاد میں سے کسی کو ان کی احتیاج کی بنیاد پر زیادہ یا کم دینا چاہے تو شرعاً یہ درست ہے۔ بشرطیکہ اس امر سے کسی پر زیادتی کی نیت نہ ہو اور اگر ایسا کوئی زیادتی کا رجحان پایا جائے تو تمام اولاد کے درمیان بلا امتیاز ذکور و اناث سب کو مساوی مساوی طور پر دیں۔ اپنی اولاد میں سے اگر چند کو دیں اور چند کو محروم کردیں تو یہ عمل شرعاً جائز ضرور ہے لیکن بعض کو نہ دینے کی وجہ سے عنداللہ گناہگار رہے گا : وفی الخانیۃ لا بأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لا نھا عمل القلب و کذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الا ضرار و ان قصدہ سوی بینھم یعطی البنت کا لابن عند الثانی و علیہ الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و أثم ۔ (شامی جلد 4 کتاب الھبۃ ص : 573 )
صورت مسئول عنھا میں زید اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کریں اور صرف لڑکوں کو دیں تو اس کا اختیار ان کو حاصل ہے اور ھبہ کر کے جب ان لڑکوں کو جائیداد کامل طور پر قبضہ میں دیں گے تو  ھبہ درست ہوجائے گا لیکن لڑکیوںکو نہ دینا گناہ کا باعث ہے ۔

سابقہ امتیں اور طلاق کے احکام
سوال :  روز بروز دشمنانِ اسلام ، اسلامی احکامات کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں، چھوٹی سی بات کو میڈیا ایک پہاڑ بناکر پیش کرتا ہے، اکثر و بیشتر طلاق کے مسئلہ کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے ۔ آپ سے التماس یہ ہے کہ آپ براہ کرم یہود و نصاری اور دیگر امتوں کے پاس طلاق کے احکام اور قوانین کیا ہیں بیان فرمائیں تو مہربانی ہوگی ؟
محمد انور صدیقی، فلک نما
جواب :  سابقہ آسمانی شریعتوں میں طلاق کے احکام سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں ملتے ہیں، اگرچہ اس دور کے احکام کی کوئی مستند دستاویز ہمارے پاس نہیں ہے، تاہم موجودہ تو رات میں مرد کو طلاق کا کلی اختیار دیا گیا ہے، البتہ طلاق کے لئے صرف ایک طریقہ مذکور ہے کہ طلاق نامہ لکھ کر دیا جائے۔ موجودہ تو رات کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اگر کوئی مرد کسی عورت سے  بیاہ کرے اور پیچھے اس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اس عورت کی طرف اس کا التفات نہ رہے تو وہ اس کا طلاق نامہ لکھ کر اس کے حوالے کرے اور اسے اپنے گھر سے نکالدے اور جب وہ اس کے گھر سے نکل جائے تو وہ دوسرے مرد کی ہوسکتی ہے ۔ اگر دوسرا شوہر بھی اس سے ناخوش رہے اور اس کا طلاق نامہ لکھ کر اس کے حوالے کرے اور اسے اپنے گھر سے نکال دے، یا وہ دوسرا شوہر جس نے اس سے بیاہ کیا ہو مرجائے تو اس کا پہلا شوہر جس نے اسے نکال دیا تھا، اس عورت کے ناپاک ہوجانے کے بعد پھر اس سے بیاہ نہ کرنے پائے کیونکہ ایسا کام خدا وند کے نزدیک مکروہ ہے ، (استثناء 24 : 1 تا 4 ) ۔ یہی حکم حضرت ارمیاء علیہ السلام کے صحیفے میں بھی موجود ہے (یرمیاہ ، 3 : 1 ) اور اسی بناء پر اصل یہودی مذہب میں مرد کو طلاق کا غیر محدود اختیار تھا، اگرچہ بعد میں خاص طور سے گیارھویں صدی عیسوی میں ، علمائے یہود کی طرف سے اس اختیار پر سخت پا بندیاں عائد کردی گئی تھیں (انسائیکلو پیڈیا بری ٹانیکا، مطبوعہ 1950 ء ، 453/7 ، بہ ذیل مادہ (Divorce) ، لیکن موجودہ بائیبل میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے طلاق کی اجازت کو نہایت محدود کردیا اور اس صورت کے سوا کہ عورت زنا کی مرتکب ہو ، اسے طلاق دینا ناجائز قرار دے دیا۔ بائیبل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ اقوال منسوب ہیں : جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے ‘‘ (متی ، 5 : 32 ) اور ’’ وہ اور اس کی بیوی دونوں ایک جسم ہوں گے ، پس وہ دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں، اس لئے جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے … جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ اس پہلی کے برخلاف زنا کرتا ہے۔ (مرقس ، 10 : 9 تا 11 ) ۔ اسی قسم کے احکام متی (9:19) اور لوقا ( 18:16) میںبھی مذکورہ ہیں۔ اسی بناء پر اصل عیسائی مذہب میں مرد کو طلاق دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ صرف بیوی کی زنا کاری کی بنیاد پر وہ کلیسائی عدالتوںمیں طلاق کا دعویٰ کرسکتا تھا لیکن رفتہ رفتہ زناکاری کے علاوہ طلاق کے دعوؤں کے لئے مزید بنیادیں بھی مختلف ادوار میں تسلیم کرلی گئیں، لیکن 1857 ء تک طلاق دینے کا اختیار صرف کلیسا کی عدالتوں  کے پاس رہا ۔ 1857 ء میں انگلستان کے ’’ قانون ازدواجی مقدمات‘‘ (Matrimonial causes Act) نے یہ اختیار کلیسا کی عدالتوں کے بجائے ایک عام عدالت کے حوالے کردیا جو خاص اسی غرض کے لئے قائم کی گئی تھی، بعد میں مختلف قوانین کے ذریعے طلاق کی وجوہ میں اور اضافہ کیا گیا ، یہاں تک کہ اب طلاق حاصل کرنے کے لئے مرد اور عورت دونوں کو مساوی طور پر بہت وسیع بنیادیں میسر ہیں ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے انسائیکلو پیڈیا بری ٹانیکا، بذیل مادہ (Divorce ۔
اسلام نے نظام طلاق کی اصلاح کے لئے وسیع اخلاقی اور قانونی ہدایات دی ہیں اور اس کے کئی مدارج رکھے ہیں۔ اسلام کا اصل منشاء یہ ہے کہ رشتہ نکاح دائمی ہو اور اس کے ٹوٹنے کی نوبت کم سے کم آئے، چنانچہ مردوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ عورتوں کی صرف برائی پر نظر رکھیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں بہت سی بھلائیاں بھی ہوں (4 (النساء) : 19) ، پھر اگر کوئی وا قعی نا قابل بر داشت خرابی محسوس ہو تو حکم دیا گیا ہے کہ وہ فوراً طلاق دینے کے بجائے پہلے بیویوں کو فہمائش کریں اور اگر وہ ناکافی ہو تو اظہار ناراضی کے طور پر اپنا بستر ان سے الگ کرلیں ، یہ بھی ناکافی ہو تو تادیب کی بھی اجازت ہے (دیکھئے 4 (النساء : 34 )  اگر پھر بھی موافقت نہ ہو تو ہدایت کی گئی ہے کہ ایک ثالث مرد کی  طرف سے اور ایک ثالث عورت کی طرف سے بھیجا جائے، اور وہ دونوں مل کر تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ چاہیں گے تو اس طرح اللہ موافقت پیدا کردے گا (دیکھئے 4 (النساء) : 35 ) ۔ اگر یہ تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو طلاق کی اجازت یہ کہہ کر دی گئی ہے کہ مباحات میں اللہ کو سب سے زیادہ مبغوض طلاق ہے (الترمذی : الجامع ،1 : 142 )

سرمایہ لگاکر مقررہ نفع لینا
سوال :  میرے ماموں میرے دوست کی دوکان میں پیسہ لگائے اور ہر ماہ دس ہزار کے حساب سے پیسہ لیتے ہیں ، اس میں میں بھی گواہ کا رول ادا کیا ۔ کیا میں بھی ایسے زمرے میں آؤں گا کہ سود کا لینا ، دینا اور گواہ بننا برابر کے شریک ہیں۔ اس کے تدارک کے لئے میں کیا کروں ۔ ایک بوجھ سا دل میں کھٹکتا ہے ؟
شیخ علی، مصطفیٰ نگر، بی بی کا چشمہ
جواب :  ایک آدمی کا سرمایہ ، دوسری کی محنت سے جو تجارت ہوتی ہے وہ شرعاً ’’ مضاربت ‘‘ کہلاتی ہے ۔ اس میں اگر ماہانہ نفع مقرر کیا جائے تو وہ ناجائز ہے ۔ ہاں نفع کا فیصد مقرر کیا جائے ۔ نفع کا نصف حصہ ، سرمایہ دار کے لئے اور نصف محنت کرنے والے کے لئے تو یہ جائز صورت ہے۔
پس آپ کے ماموں آپ کے مسلمان دوست کی دوکان میں سرمایہ لگاکر ماہانہ دس ہزار روپئے بطور نفع لے رہے ہیں تو یہ معاملہ بالکل درست نہیں۔ ایسے حرام معاملہ میں بطور گواہ آپ کو شریک نہیں رہنا چاہئے بلکہ آپ اپنے ماموں کو متذکرہ بالا جائز صورت پر کاروبار کرنے کی ترغیب دیں کہ جو بھی کاروبار سے نفع ہو، اس نفع کا فیصد مقرر کیا جائے ۔ بھلے دو تہائی نفع آپ کے ماموں کیوں نہ لیں وہ جائز ہے۔ نیز یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر خدانخواستہ کاروبار میں نقصان ہوجائے اور اس نقصان کا سبب محنت کرنے والے کی غفلت ، لاپرواہی یا نہ تجربہ کاری نہ ہو بلکہ کسی دوسری وجہ سے نقصان ہوجائے ۔ مثلاً مارکٹ ٹھپ ہوجائے ، اس کاروبار کی مانگ کم ہوجائے تو ایسی صورت میں آپ کے ماموں بھی نقصان میں شریک رہیں گے۔

خطبہ ثانیہ میں ’’ ان اللہ یأمربالعدل ‘‘ پڑھنے کی وجہ
سوال :   خطبہ جمعہ کے آخر میں تمام ائمہ وخطیب  ’’ ان اللہ یأمربالعدل والاحسان‘‘ کی آیت شریف پڑھتے ہیں اور اس پر خطبہ ختم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟
شیخ عمران، مہدی پٹنم
جواب :  ابوالحسنات علامہ محمد عبدالحی لکھنوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے فتاوی میں اس کی وجہ بیان کرتے ہیںکہ بنوامیہ کے فرما نروا ، خلیفہ رابع، شہنشاہ ولایت، شیر خدا ، حیدر کرار ، فاتح خیبر حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ پر خطبہ ثانیہ کے آخر میں طعن و تشنیع کیا کرتے تھے ، جب بنوامیہ میں سے حضرت عمر بن عبدالعزیز سریرآ رائے سلطنت ہوئے تو آپ چونکہ نہایت خدا ترس ، دیندار عبادت گزار ، زہدو تقوی کے پیکر تھے، آپ نے بنو امیہ کے حکمرانوں کے اس مذموم طریقہ و رواج کو ختم کردیا اور متذکرہ بالا آیت قرآنی خطبہ ثانیہ کے آخری میں تلاوت کرنا طئے کیا جس پر امت کا عمل نسل در نسل توارث کے ساتھ چلا آرہا ہے ۔
نفع المفتی والسائل ص : 84 میں ہے : کانت ملوک بنی امیۃ یفتحون لسان الطعن علی الخلیفۃ الرابع فی آخر الخطبۃ الثانیہ فلما ولی عمر بن عبدالعزیز و کان و رعا  متدینا عابد ازا ھدا نسخ ھذا المروج و قرر قراء ۃ ھذہ الایۃ فی آخرالخطبۃ الثانیۃ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT