Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / غیر مسلم کے گھر میں قرآن کی تلاوت کرنا

غیر مسلم کے گھر میں قرآن کی تلاوت کرنا

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ کسی محلہ میں چند غیر مسلم اصحاب رہتے ہیں جو ہر سال پابندی کے ساتھ گیارہویں شریف کی نیاز کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں قرآن شریف کے ختم کا اہتمام کرتے ہیں کیا اگر وہ قرآن پڑھنے کیلئے ہم سے خواہش کریں تو اس کی اجازت ہے یا نہیں ؟
جواب : قرآن شریف و دیگر اذکار کے لئے یہ شرط ہیکہ ناپاک مقامات میں نہ پڑھیں جائیں بلکہ پاک و صاف مقام میں جو خوشبو سے معطر کیا گیا ہو اور پڑھنے والے بھی باوضو پاک و صاف لباس پہنے ہوئے ہوں تو درست ہے ۔ عالمگیری جلد ۵ کتاب الکراھۃ میں ہے ’’ و یکرہ ان یقرأ القرآن فی الحمام و موضع النجاسات و لا یقرأ فی بیت الخلاء ‘‘کذا فی فتاوی قاضیخان ۔ بناء بریں غیر مسلم حضرات اگر مکان کو اچھی طرح پاک و صاف اور آراستہ و پیراستہ کریں اور کسی قسم کی نجاست و قبیح چیز وہاں نہ ہوتو مسلمان کے وہاں قرآن پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں ۔
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نصرانیوں کو قرآن شریف اور فقہ کی تعلیم دینا جائز ہے ۔ اس امید پر کہ انھیں ہدایت حاصل ہوجائے اور وہ اپنے مذہب کو ترک کر کے مشرف باسلام ہوجائیں ۔ اسی بنیاد پر نصرانی کا نہا دھو کر قرآن کو ہاتھ لگانا بھی امام صاحب  کے پاس جائز ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد ۵ کتاب الکراھۃ میں ہے ’’قال ابو حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالیٰ  یعلم النصرانی الفقہ والقرآن لعلہ یھتدی و لا یمس المصحف و ان اغتسل ثم مس لا بأس بہ کذا فی الملتقط ‘‘۔
پس صورت مسؤل عنہا میں غیر مسلمین کی اس خواہش پر اگر مسلمان اس نیت سے ان کے گھروں میں قرآن پاک کی تلاوت کریں کہ شائد اللہ تعالیٰ اسکے سننے سے ان کو اسلام کی توفیق و ہدایت دے یا اس نیت سے کہ بیمار کو شفاء اور مصیبتوں سے حفاظت ہو تو درست ہے ۔
ممنوع اوقات میں سجدہ تلاوت کرنا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ طلوع آفتاب، زوال آفتاب، غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا صحیح نہیں۔ اگر اِن اوقات میں قرآن شریف کی تلاوت کے دوران، آیتِ سجدہ کی تلاوت کی جائے تو کیا سجدۂ تلاوت ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔
جواب : شریعت اسلامی میں ان تینوں ممنوعہ اوقات میں فرض و نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ ہے ۔تاتارخانیہ جلد اول میںہے: ’’الاوقات التی یکرہ فیھا الصلوۃ  ثلاثۃ یکرہ فیھا التطوع و الفرض و ذلک عند طلوع الشمس و وقت الزوال عند غروب الشمس لا عصر یومہ فانھا لا یکرہ عند غروب الشمس۔
مذکورہ اوقاتِ ممنوعہ میں تلاوتِ قرآن مکروہ نہیں، اگر ممنوع وقت میں تلاوت کرتے ہوئے آیتِ سجدہ کی تلاوت کی جائے تو سجدۂ تلاوت کرنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے۔ ’’ أما  لو تلا فی وقت مکروہ و سجدھا فیہ جاز من غیر کراھۃ ۔
اگر آیتِ سجدہ کی تلاوت مذکورہ اوقات کے علاوہ میں ہو اور تلاوت کرنے والا واجب شدہ سجدۂ تلاوت اِن مذکورہ اوقات میں کرنا چاہے تو شرعاً درست نہیں ۔
فقط واﷲ تعالی أعلم بالصواب۔

TOPPOPULARRECENT