Thursday , March 30 2017
Home / مضامین / غیر ملکیوں کو سہولت مہیا کرنے کا رجحان

غیر ملکیوں کو سہولت مہیا کرنے کا رجحان

کے این واصف
خلیجی ممالک میں برسرکار خارجی باشندوں کو پچھلے کچھ ماہ سے یہاں کی حکومتوں کی جانب سے سہولتیں بہم پہنچانے کا رجحان بڑھتا نظر آرہا ہے ۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے اور یہاں کام کرنے والے خارجی باشندوں کے حق میں بہتر بھی۔  ہم  یہاں یہ واضح کرنا چاہیں گے کہ جہاں ہم مسلسل طور پر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے خارجی باشندوں کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور انہیں اس اخبار کی وساطت سے ارباب مجاز تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ دیانتدارانہ صحافت کے تقاضہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کالم میں ان خبروں یا اعلانات کا بھی ذکر کریں جس سے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے این آر آئیز  کو ان کی حکومتوں کی جانب سے راحت یا سہولت مہیا ہوئی ہے ۔ پچھلے چند ماہ کے اندر قطر اور بحرین کی حکومتوں کی جانب سے وہاں کے خارجی باشندوں کو بڑی سہولتیں بخشنے کے اعلانات کئے گئے اور اب پچھلے ہفتہ وزارت محنت مملکت سعودی عرب نے یہاں کے گھریلو ملازمین کیلئے کچھ سہولتیں دینے کا اعلان کیا ہے جس کی تفصیلات اس طرح ہیں۔ وزیر محنت و سماجی فروغ ڈاکٹر علی الغفیض نے (13) صورتوں میں گھروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین اور ان کے زمرے میں آنے والے دیگر کارکنوں کو نقل کفالے کا استحقاق دے دیا۔ ان حالات میں ایک کفیل (آجر) سے دوسرے آجر کے ہاں نقل کفالہ کرایا جاسکے گا ۔ یہ سولت لیبر مارکٹ کو منظم کرنے کی غرض سے دی جارہی ہے ۔ گھریلو ملازمین اور ان کے زمرہ میں آنے والے دیگر کارکنان نئی ملازمت کے مجاز ہوں گے ۔ وہ یہ استحقاق حاصل کر کے ان حالات کا خمیازہ نہیں بھگت سکیں گے جن کے وہ ذمہ دار نہ ہوں۔

وزارت محنت نے نقل کفالہ والے حالات کا تعین کر کے فیصلہ کیا کہ کفیل نے مسلسل 3 ماہ تک تنخواہ نہ دی ہو یا وقفے وقفے سے 3 ماہ کی تنخواہ ادا نہ کی ہو اور اس کا ذمہ دار گھریلو ملازم نہ ہو تو اس حالت میں گھریلو ملازمین کو نقل کفالہ کا حق حاصل ہوگا ۔اس طرح اگر گھریلو ملازمہ کو ایرپورٹ، بندرگاہ یا بری سرحدی چوکی پہنچنے پر کفیل نے نظر انداز کردیا ہو یا مملکت پہنچنے کے بعد 15 دن تک کفیل نے ملازمہ کو ’’حفاظت گھر‘‘ سے وصول نہ کیا ہو۔ یا کفیل نے اقامہ نہ بنوایا ہو یا اقامے کے اجراء یا توسیع کی سہولت پر 30 دن کے اندر اقامہ کی کارروائی نہ کرائی ہو یا کفیل نے گھریلو ملازم یا ملازمہ کی لاعلمی میں اسے کسی اور کے ہاں کام پر لگادیا ہو یا درجہ دوم کے رشتے داروں سے الگ دیگر اعزہ کے ہاں کام پر بھیج دیا ہو یا ملازمین کی صحت و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کام کی ذمہ داری تفویض کردی ہو۔ ان سب حالات میں گھریلو ملازمین کو نقل کفالہ کا استحقاق حاصل رہے گا ۔ وزارت محنت کے بیان میں صراحت کی گئی کہ کفیل یا اس کے گھر والوں میں سے کسی ایک کے خلاف گھریلو یا ملازمہ کے ساتھ بدسلوکی ثابت ہوگئی یا کسی گھریلو ملازمہ نے کفیل کے خلاف شکایت درج کرائی ہو اور کفیل نے اس کی سماعت میں تاخیر کردی ہو تو ان حالات میں بھی گھریلو ملازمین کو نقل کفالہ کا حق حاصل ہوگا بشرطیکہ ملازم یا ملازمہ مقدمے کی سماعت میں کسی بھی طرح تاخیر کے ذمہ دار نہ ہوں۔
یہاں گھریلو ملازمین خصوصا ً ملازمہ کے استحصال کے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں ۔ 30 مقامی جرائد میں رپورٹ بھی ہوتے رہتے ہیں۔ وزارت محنت کے اس اقدام سے ان واقعات کا سدباب ہوگا ۔ یہاں کئی ہندوستانی بشمول بڑی تعداد حیدرآبادی عورتیں استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے وزارت خارجہ ہند نے ہندوستان سے گھریلو ملازمہ کے طور پر یہاں لانے کے قوانین بہت سخت کردیتے ہیں ۔ مگر کچھ عورتیں یا تو خود اپنی غلطی سے یا ایجنٹ کی چال بازی کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور پھر یہاں آکر پریشان یوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اول تو خوا تین کو بطور گھریلو ملازمہ یہاں آنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اگر آئیں بھی تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنے ملازمت کے دستاویز (اگریمنٹ) کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں یا کسی سے کروائیں۔ اپنی ایمبسی اور اگر وہ یہاں کسی کو جانتے ہیں تو اس کا رابطہ نمبر اپنے پاس رکھیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی کی صورت میں فون کر کے اپنا مسئلہ حل کرواسکیں۔ اکثر ا یسے واقعات بھی یہاں سننے میں آتے ہیںکہ عورتیں گلف میں ملازمت حاصل ہونے کی خوشی میں یہاں آ تو جاتی ہیں لیکن یہاں پہنچ کر نئے مقام ، اجنبی لوگ اور نئے ماحول سے اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کر پاتے اور فوری طور پر واپس جانے کی ضد کرنے لگتے ہیں جبکہ کفیل ان کو یہاں لانے پر کافی رقم خرچ کر کے لاتا ہے ۔ لہذا وہ بھی بضد ہوتا ہے کہ اگریمنٹ میں طئے وقت کے بعد ہی چھٹی یا خروج (Exit) کرے گا ۔ لہذا گھر یلو ملازمہ کے طورپر آنے والی عورتوں کو ذہنی طور پر اپنے آپ کو اچھی طرح تیار کر کے یہاں آنا چاہئے ۔

خلیجی ممالک میں کام کرنے والے خارجی باشندے جو یہاں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں ، اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں ۔ خصوصاً جن کے بچے کمیونٹی اسکولس میں محدود گنجائش کی وجہ سے داخلہ حاصل نہیں کرپاتے وہ لوگ اپنے بچوں کو خانگی اسکولس میں داخل کرواتے ہیں ۔ واضح رہے کہ کمیونٹی اسکولس جو متعلقہ سفارت خانے کی نگرانی میں کام کرتے ہیں وہاں فیس بہت کم ہوتی ہے کیونکہ ان اسکولس کو فیس کے ذریعہ وصول رقم سے کوئی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہوتا جبکہ خانگی اسکولس ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ان کیلئے یہ ایک بزنس ہے ۔ ان خانگی اسکولس میں کمیونٹی اسکولس کے مقابلے فیس بھی زیادہ ہوتی ہے اور جن اسکولس میں برٹش یا امریکن نصاب تعلیم رائج ہوتا ہے وہاں کی کتابیں بھی بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔ نیز یونیفارم اور دیگر اخراجات الگ اور اس بات سے تو سب ہی واقف ہیں کہ یہاں کے سرکاری اسکولس میں تعلیم مفت ہوتی ہے لیکن یہاں خارجی باشندوں کا داخلہ ممکن نہیں یا کم از کم آسان نہیں ہوتا کیونکہ یہ سرکاری اسکولس کا ذریعہ تعلیم عربی ہوتا ہے اس لئے ایسے خارجی طلباء جن کا تعلق عرب ممالک سے ہو ان کا داخلہ سرکاری اسکولس میں ہوسکتا ہے لیکن ان اسکولس میں گنجائش کا مسئلہ رہتا ہے ۔ لہذا خانگی اسکولس میں تعلیم حاصل کرنے والے خارجی طلباء کو کس حد تک مالی راحت کی خاطر سعودی وزیر تعلیم نے نجی اور انٹرنیشنل اسکولوں کیلئے تعلیمی فیس میں اضافے کی منظوری معطل کردی ۔ وزارت تعلیم نے نجی انٹرنیشنل اسکولوں کو تعلیمی سال 1436 اور 1437-38 کے دوران تعلیمی فیس بڑھانے کی منظوری دیدی تھی ۔ انہوں نے اس منظوری کو معطل کردیا ہے ۔ وزارت تعلیم نے نیا نجی اور انٹرنیشنل ا سکولوں میں تعلیمی فیس جدید خطوط پر استوار کرنے کی پالیسی کے تحت کیا ہے ۔ بتایا گیا کہ وزارت کو رپورٹیں ملی تھیں کہ متعدد اسکول اس سلسلے میں مقررہ دائرے سے ہٹ رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے ہدایت کی کہ کوئی بھی نجی اور انٹرنیشنل اسکول اپنے طلبہ و طالبات کو کسی ایک تجارتی مرکز سے یونیفارم خریدنے کا پابند نہ بنائے ۔ اسکول یونیفارم کی خصوصیات متعین کرنے پر ہی اکتفا کرے تاکہ طلبہ و طالبات کسی بھی دکان سے یونیفارم خرید سکیں ۔ وزیر تعلیم نے اسکولوں پر یہ بھی پابندی لگائی ہے کہ وہ نصابی کی کتابیں یا تدریس و تربیت سے متعلق مختلف اشیاء کسی ایک دکان سے خریدنے کی پابندی عائد نہ کریں ۔ ایک پابندی یہ بھی لگائی کہ ایسی کتابیں متعین نہ کی جائیں جو کسی ایک ہی ناشر کے یہاں سے شائع ہورہی ہوں۔ طلبہ کو مناسب نرخوں پر کسی بھی ناشر کی کتاب خریدنے کا موقع دیا جائے۔ وزارت تعلیم کے اس اعلان سے ا یسے حارجی باشندوں کو راحت حاصل ہوئی جن کے بچے خانگی اسکولس میں زیر تعلیم ہیں۔

خلیجی ممالک میں سفارت خانوں کی نگرانی میں چلنے والے کمیونٹی اسکولس میں محدود گنجائش کی وجہ سے جن ممالک کے باشندوں کی تعداد یہاں بہت زیادہ ہے ان کے بچے ان اسکولس میں داخلہ حاصل نہیں کرپاتے اور ایسے بچوں کی تعلیمی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے یہاں سینکڑوں خانگی اسکولس قائم ہیں اور ہوسکتا ہے کہ والدین کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کیلئے کچھ اسکولس کتابیں ، اسٹیشنری اور یونیفارم و غیرہ مخصوص دکان سے خریدنے کا پابند بناتے ہوں گے تاکہ ان سے کچھ کمیشن حاصل کرسکیں۔ وزارت تعلیم کا یہ نیا اعلان اس استحصال کا سدباب بنے گا ۔ خلیجی ممالک میں مقیم خارجی باشندوں کے متعلقہ سفارت خانے بھی وقتاً فوقتاً اگر حکومتوں سے اپنے ہم وطنوں کے مسائل کی نمائندگی کرتے ہیں تو ان کے حل ہوتے آسانی ہوسکتی ہے۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT