Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / فاتح خیبرحضرت سیدنا علیؓ ابن ابی طالبؓ

فاتح خیبرحضرت سیدنا علیؓ ابن ابی طالبؓ

مولانا حبیب عبدالرحمن بن حامد الحامد (اسلامک اسکالر)

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ خاندان ہاشمی کے چشم چراغ ہیں ۔ آپ کا نام علی ۔ ابوالحسن اور ابوتراب آپ کی کنیت کی ہے ۔ لقب حیدر (شیر) امیرالمؤمنین ہے۔آپ کی ولادت باسعادت ۱۳ رجب المرجب کو ہوئی ۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم کے اعلان نبوت کے وقت آپ کی عمر دس سال تھی ۔ بچوں میں سب سے پہلے ایمان سے مشرف ہونے کا اعزاز آپ کو عطا ہوا ۔ حضرت ابوطالب جو حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم کے چچا تھے وہ کثیرالعیال تھے۔ اس لئے کچھ ذمہ داریاں حضرت عباس بن عبدالمطلب اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے آپس میں بانٹ لیں۔ جعفر بن ابی طالب کو حضرت عباسؓ نے لے لیا اور حضور نے حضرت علیؓ کو ، اس طرح دامن رسول میں آپؓ کی پرورش ہوئی ۔ حضرت خدیجہ ؓبنت خویلد نے بھی آپؓ کی اچھی دیکھ بھال کی ۔ حضور اکرم اور حضرت خدیجہؓ کو عبادت کرتے دیکھ کر سوال کیا اور حضوؐر نے ان کو بتلایا اور آپ اس طرح داخل اسلام ہوگئے۔ حضرت ابو طالب نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو نماز پڑھتے دیکھ کر سوال کیا ۔ آپ نے بتلایا حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے عبادت کا یہ طریقہ بتلایا ہے۔ آپ نے فرمایا اُسی طرح ادا کرو جس طرح تمہیں تمہارے عم زاد نے بتلایا ہے ۔ جب اﷲ کے حکم پر حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے اپنے قبیلہ کو دعوت دی اور کوہ صفا پر آپؐ نے خطبہ دیا اور کہا اے خاندان عبدالمطلب سنو میں اﷲ کا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں ۔ اس میں میرا کون ساتھ دیگا ۔ تین مرتبہ یہ گرج دار آواز گونجی اور ہر بار حضرت علی ابن ابی طالبؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ اور کہا کہ میں عمر میں سب سے کم ہوں ، آشوب سے میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں ، میری پتلی پتلی ٹانگیں ہیں لیکن ہر موڑ پر میں آپ کا ساتھ دوں گا ۔ حضور اکرم نے آپ کو بہت دعائیں دیں ۔ پھر وہ خوش قسمتی بھی آپ کے مقدر میں آئی جب حضور کو اﷲ تعالیٰ نے ہجرت کا حکم دیا اور آپ نے اپنے بستر پر حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ سوجاؤ اور یہ امانتیں واپس کرکے یثرب (مدینہ ) چلے آنا۔ وہ گھر جس کا دشمنوں نے محاصرہ کیا ہوا ہے اور جو حضور کے خون کے پیاسے ہیں ایسے گھر میں حضرت علیؓ شیرخدا بڑی بے خوفی کے ساتھ آرام فرماتے رہے۔ دشمنوں نے آپ کو دیکھ کر سوال کیا مگر آپ نے لاعلمی ظاہر کی اور امانتیں واپس کرنے کے بعد آپ مکہ سے ہجرت کر گئے۔
دشمنوں نے بدر کی وادی میں مسلمانوں کو (نعوذباﷲ ) ختم کرنے کیلئے ایک ہزار کے لشکر کے ساتھ حملہ کیا تو اس جنگ میں حضرت علیؓ نے بڑی بہادر کے ساتھ عرب کے مشہور پہلوان ولید بن عتبہ بن ربیعہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد آپ کی شادی خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ زہرہؓ سے ہوئی ۔ اﷲ کے رسول نے دعائیں دیں اور کہا ’’اے علی! نبی کی بیٹی تمہیں مبارک ہو‘‘ ۔ اپنی صاحبزادی سے کہا ’’اے فاطمہ ؓ میں نے تمہارا عقد میرے خاندان کے سب سے اچھے شخص کے ساتھ کیا ہے ‘‘۔ جب تک خاتون جنت بقید حیات رہیں آپ نے دوسرا نکاح نہیں کیا ۔

جب اﷲ کے رسول نے خیبر فتح کرنے کیلئے مجاہدین اسلام کے ساتھ جن کی تعداد ۱۴۰۰ تھی پہنچے ۔ یہاں بڑے قلعہ چھ تھے جن میں پانچ فتح ہوچکے اور قلعہ قموص جو مرحب کا قلعہ تھا فتح کرنا تھا ۔ باوجود کوشش جاری رکھنے کے فتح حاصل نہ ہوسکی ۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے فرمایا کل میں عَلم اُس شخص کو دوں گا جس سے اللہ اور اﷲ کا رسول محبت کرتا ہے اور وہ بھی اﷲ اور اس کے رسولؐ کو چاہنے والا ہے اور وہ فاتح خیبر کہلائے گا ۔ یہ رات تمام صحابہ نے دعاؤں میں گذار دیئے کہ صبح کس کی قسمت کی یاوری ہوگی ۔ حضور نے صبح فرمایا علیؓ کہاں ہیں ۔ کہا یارسول اﷲ آشوب سے آنکھ آئی ہوئی ہیں۔ حضور اکرم ﷺنے طلب کیا ، لعاب دہن آنکھوں میں لگایا ۔ پٹی باندھی ، کچھ دیر بعد آنکھ شفاف ہوگئیں۔ علم عطا کیا اور ہدایت دی کہ پہلے اسلام پیش کرو ۔ اگر تمہاری تبلیغ سے ایک فرد بھی مسلمان ہوجائے تو سرخ اونٹ سے بہتر ہے ۔ الحاصل حضرت علیؓ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا وہ جنگ پر آمادہ ہوئے اور ان کا سردار مرحب رجز پڑھتا ہوا نکلا اور حضرت علی سے مقابلہ کیا ۔ حضرت علیؓ کی تلوار چلی جو خود اورسر کو کاٹتی ہوئی ڈاڑھ تک پہنچ گئی ۔ یہودی اس منظر اور مرحب کی موت سے دل چھوڑ بیٹھے اور حضرت علی نے قلعہ قموص پر فتح حاصل کرلی ۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے فرمایا مجھے غسل میرے اہل خاندان اور حضرت علیؓ دیں گے ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا میں واقف نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تم کو واقف کروایا جائیگا ۔ چنانچہ یہ خدمت آپ نے بخوبی انجام دی جس میں آپؓ کے ساتھ خاندان کے دوسرے افراد میں قشم بن عباس ، فضل بن عباس ، اسامہ بن زید ، اوس بن خولی شقران نے حصہ لیا۔
ثقیفہ بنوسعدہ میں حضرت ابوبکرصدیق خلیفہ منتخب ہوگئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے بیعت کرلی اور خلیفہ کے مشیر رہے ۔ آپ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں بحیثیت منصف فیصلے کیا کرتے ۔ حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں بھی اچھے مشوروں سے نوازے۔
عبدالرحمن ابن ملجم کے ہاتھوں  ۱۷ ؍ رمضان المبارک ۴۰ ہجری میں آپ زخمی ہوئے ۲۰؍ رمضان المبارک کو شہادت پائی ۔ یہ رشد و ہدایت کا آفتاب کوفہ کی سرزمین پر غروب ہوگیا ۔اناللہ وانا الیہ راجعون

Top Stories

TOPPOPULARRECENT