Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / فاروق حسین کی تجویز و ترغیب پر اقامتی اسکولس میں اضافہ

فاروق حسین کی تجویز و ترغیب پر اقامتی اسکولس میں اضافہ

بچپن کی دوستی اور عوامی خدمات کی ستائش ، کے سی آر چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/13اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین کو اپنے بچپن کا ساتھی اور عوامی خدمات میں ساجھیدارقرار دیا اور کہا کہ اقامتی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ میں فاروق حسین کی تجاویز کا اہم رول ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گورنر کوٹہ کے تحت قانون ساز کونسل کی 2 نشستوں کیلئے نامزد کئے گئے ارکان محمد فاروق حسین اور راجیشور راؤ کی خدمات کی زبردست ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ چیف منسٹر آج پرگتی بھون میں فاروق حسین اور راجیشور راؤ کے حامیوں کی کثیر تعداد سے خطاب کررہے تھے جو چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیلئے پہنچے تھے۔ کے سی آر نے فاروق حسین سے اپنے دیرینہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں اور فاروق حسین بچپن سے ہی سدی پیٹ میں عوامی خدمات سے وابستہ ہیں، میونسپل کونسلر سے آج اس مقام تک پہنچے ہیں۔ چیف منسٹر نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں فاروق حسین کسی اور اہم عہدہ پر فائز کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کے سلسلہ میں فاروق حسین کی تجاویز اور رہنمائی کا بطور خاص تذکرہ کیا اور کہا کہ اقامتی اسکولس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے فاروق حسین نے کریم نگر اور میدک کا دورہ کیا۔ مجھے اطلاع دیئے بغیر ہی انہوں نے میرے حلقہ انتخاب گجویل کے اقامتی اسکول کا معائنہ کیا اور کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ اقامتی اسکولس بہتر طور پر کام کررہے ہیں لہذا ہر ضلع میں مزید اسکولوں کے قیام کی ضرورت ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ فاروق حسین کے کہنے پر ہی انہوں نے 71 اقامتی اسکولس کی تعداد کو بڑھا کر 203 کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس میں بچوں کو پبلک اسکول اور کانونٹ اسکولوں کی طرح معیاری تعلیم حاصل ہوگی اور وہ اللہ کے کرم سے دنیا سے مقابلہ کرنے کی طاقت حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں سے تلنگانہ کیلئے ایک قابل اور اچھی نسل کو تیار کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ہماری ملکیت تھا لیکن اسے غیر افراد لوٹ رہے تھے۔ تلنگانہ کے حصول کے بعد یہ ہماری ملکیت بن چکا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر نیت صاف ہو تو ضرور اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے، اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کا حصول صرف اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے اور 14 برسوں کی طویل جدوجہد کے بعد ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ جب کابینہ میں انہوں نے گورنر کوٹہ کی دونوں نشستیں اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو دینے کی تجویز پیش کی تو ساری کابینہ نے اس تجویز کا خیرمقدم کیااور کہا کہ اس سلسلہ میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی۔چیف منسٹر نے تلنگانہ ریاست میں تمام طبقات کیلئے درخشاں مستقبل کا عہد کیا اور امید ظاہر کی کہ فاروق حسین اور راجیشور راؤ قانون ساز کونسل کیلئے اپنی دوسری میعاد میں عوامی خدمات کا اپنا تسلسل جاری رکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT