Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / فاروق عبداللہ کی خام خیالی

فاروق عبداللہ کی خام خیالی

کلدیپ نیر
سری نگر کے ایک کثیر الاشاعت اردو جریدے میں شائع اپنے مضمون میں فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کے والد مرحوم شیخ عبداللہ کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کشمیری نوجوان اپنے حقوق کے مطالبے کے لئے بندوق اٹھارہے ہیں ۔ یہ محض فاروق کے اپنے ذہن کی اپج ہے ۔
یہاں تک کہ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو بھی اسی انداز پر سوچتے تھے ۔ انہوں نے تو اس امید پرکشمیر میں درانداز بھی اتار دئے کہ کشمیری عوام ہندوستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے میں ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے ۔
ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا ۔ کشمیری عوام جن کے مزاج میں صوفیانہ تعلیمات رچی بسی ہیں ۔ جنون پرستی اور مذہب یعنی اسلام کو معیار بنا کر الحاق کے مطالبے کے خلاف تھے ۔ پاکستانی دراندازوں کا سراغ خود کشمیری عوام نے لگایا اور انہیں فوج کے حوالے کردیا ۔
میں شیخ صاحب مرحوم کو بہت اچھی طرح جانتا تھا ۔ ایمرجنسی کے دوران اپنی تین ماہ کی حراست کے بعد جونہی میں نے سری نگر میں اپنی موجودگی کے بارے میں ان کے دفتر کو اطلاع دی تو وہ میرے ہوٹل میں آنے والے پہلے شخص تھے ۔ مجھے ان کے یہ الفاظ یاد ہیں ۔ اب تم بھی حاجی یعنی جیل کی زیارت کرنے والے ہوجاؤگے ۔
شیخ صاحب کا اشارہ تہاڑ جیل میں میری حراست کی طرف تھا کیونکہ میں نے اندرا گاندھی کے جابرانہ اقتدار کے خلاف بہت سخت پیرائے میں لکھا تھا ۔ اس واقعے نے شیخ صاحب کو تمل ناڈو کے کوڈائی کنال میں ہندوستان کے اولین وزیراعظم جواہرلال نہرو کے ہاتھوں ان کی حراست کی یاد دلائی تھی ۔ وہ نہرو سے اتنے قریب تھے کہ دہلی جب بھی آتے انہی کے گھر پر قیام کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ حراست کے بعد بھی شیخ صاحب نہرو کے ساتھ ہی قیام کرتے رہے کیونکہ نہرو نے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے ان سے معافی مانگ لی تھی ۔
ہر وقت یہ کہنے والے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ، اس اعتبار سے غلط ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کو آرٹیکل 370 میں دی گئی ضمانت کے مطابق خود مختاری حاصل ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ خارجی امور ، دفاع اور مواصلات کے معاملات کو چھوڑ کر مرکزی حکومت کو اختیارات دینے والی دفعات آئین کا اطلاق جموں وکشمیر پر ریاستی ائین ساز مجلس کی منظوری سے ہی ہوگا ۔

بالفاظ دیگر ان آئینی شقوں کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کو اس نوعیت کی خود مختاری حاصل تھی جو دیگر ریاستوں کو حاصل نہیں ہے ۔ اس کے بعد شیخ  صاحب نے ریاستی مجلس آئین ساز سے ایک قرارداد منظور کرائی کہ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کیا جاتا ہے اور یہ قرارداد ناقابل تنسیخ ہے ۔ ایسا کرنے سے پہلے انہوں نے صادق صاحب کو جو بعد میں اس ریاست کے وزیراعلی بنے ، اس کا اندازہ کرنے کے لئے پاکستان کے دورے پر بھیجا کہ اسلام آباد کس طرح کا سیاسی نظام اختیار کرنے والا ہے ۔
راولپنڈی کے پسندیدہ سیاسی نظام سے متعلق صادق صاحب کے خیالات جاننے کے بعد شیخ صاحب نے جو مہاراجہ اور انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جد وجہد کی پیداوار تھے ، ہندوستان میں شامل ہونے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی ،کیونکہ ان کا دل ایک تکثیری ریاست میں لگا ہوا تھا ۔ یعنی ایک ایسا جمہوری ہندوستان جہاں مذہبی آزادی ہو ، ان کا واضح انتخاب تھا کیونکہ اس وقت پاکستان پر اسلام کا غلبہ تھا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ شیخ صاحب اعتدال پسند رائے رکھنے والے واحد فرد رہ گئے اور ان کی آواز ہندوؤں اور مسلمانوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور جوابی اعتراضات کے درمیان صاف طور پر سنی جاسکتی تھی ۔ تہاڑ جیل سے رہائی پر مجھے یاد ہے کہ میرے ساتھی قیدیوں نے مجھ سے سری نگر جا کر شیخ صاحب سے ایمرجنسی کے خلاف بولنے کی درخواست کرنے کے لئے کہا تھا کیونکہ پورے ملک میں ان کا احترام کیا جاتا تھا ۔
جب میں سری نگر میں شیخ صاحب سے ملا تو شیخ صاحب کو میر بات مصنوعی لگی اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ۔ آنجہانی اندرا گاندھی نے اس بیان کو شیخ صاحب سے میارے مراسم سے جوڑ دیا ۔ لیکن اہم بات یہ تھی کہ ایمرجنسی میں حراست میں لئے گئے افراد کے حوصلے بلند ہوگئے ۔ اس وقت ملک کے تمام تر عوام نے خاموشی اختیار کرلی تھی اور کسی کو بھی لب ہلانے کی جرأت نہیں تھی ۔ عوام غلط اور صحیح میں امتیاز کرنے کی حس کھوبیٹھے تھے ۔
شیخ صاحب جب بھی بولتے تھے تو پورا ہندوستان انہیں سنتا تھا کیونکہ ان کے بیانات ملک کی سرحد سے ماورا ہوتے تھے ۔ اس عمل میں گویا وہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کررہے تھے ۔ اس حد تک کہ مخالف سیاسی پارٹیوں نے بھی ان کے بیانات کا خیر مقدم کیا ۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ اوچھی سیاست کے جال میں نہ پھنسنے والے بلند قامت قائد کی حیثیت سے ریاست کے مفادات پر ہندوستان کو فوقیت دیتے تھے ۔ فاروق عبداللہ نے شیخ صاحب کو صرف کشمیر تک محدود کرکے ان کا قد گھٹادیا ہے ۔ انہیں ریاست میں ایسے حالات پیدا کرنے کے لئے نئی دہلی کی سرزنش کرنی چاہئے تھی جن کی وجہ سے کشمیری نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے کیونکہ نئی دہلی نے اپنے وعدے کو نہیں نبھایا ۔ وعدہ یہ تھا کہ مرکز کے اختیار میں صرف تین معاملات یعنی دفاع ، خارجی امور اور مواصلات ہوں گے اور دیگر امور ریاست کے دائرہ اختیار میں رہیں گے ۔
فاروق عبداللہ کا سابقہ بیان تعمیری تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرکے اسلام آباد کو پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) پاکستان میں شامل کرنے کی اجازت دے ، جو سردست پاکستانی فوج کے قبضے میں ہے ۔ درحقیقت فاروق عبداللہ مسئلے کا اصل سبب سمجھ گئے ہیں کیونکہ دونوں ملک اکثر ایل او سی کی خلاف ورزی پر باہم الجھتے رہے ہیں ۔

ان کے عملی منصوبے یا آرزوئیں خواہ کچھ بھی ہوں ، دونوں ممالک کو اس حقیقت کا سامنا کرنا چاہئے کہ لائن آف کنٹرول بین الاقوامی سرحد ہے ۔ اپنے طور پر سرحدی مسئلہ سلجھانے کی کوشش ہندوستان اور پاکستان دونوں نے کی ہی ۔ ایک اور جنگ کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے ۔ خصوصاً جبکہ دونوں کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہیں ۔ وزیراعظم نواز شریف نے پٹھان کوٹ کے واقعے پر ہندوستان کے اندیشوں کا ازالہ کرکے اچھا کیا ۔ انہوں نے مزید تفصیلات طلب کی ہیں ، کیونکہ شاید انہیں ایسا لگا کہ ہندوستان کی طرف سے پیش کردہ ثبوت وافر نہیں ہیں ۔ انہوں نے مسعود اظہر کو جس کا ہاتھ ممبئی حملوں میں تھا ، حراست میں لے کر اچھا کیا ۔
یہ ایک صحت مند پیش رفت ہے کہ خارجہ سکریٹریوں کی ملاقات پٹھان کوٹ کے حملے کی وجہ سے یکسر منسوخ نہیں بلکہ موخر ہوئی ہے ۔ شاید نئی دہلی بھی اس دباؤ کو سمجھتا ہے جس میں نواز شریف کی حکومت کام کررہی ہے کیونکہ آخری فیصلہ کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کیونکہ نواز شریف ایران اور سعودی عرب دونوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لئے گئے ۔ یہ دیکھ کر مجھے فسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف ہر اس میٹنگ میں جس میں وہ شرکت کریں فوجی سربراہ کو یکساں پروٹوکول سے سرفراز کرتے ہیں ۔ تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کا المیہ یہ ہے کہ جب مسلح افواج حکومت کا حصہ بن جاتی ہیں تو پھر وہ بیرکوں میں واپس نہیں جاتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT