Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / فاشستوں کو رام مندر کی تعمیر کے اشارے مل گئے

فاشستوں کو رام مندر کی تعمیر کے اشارے مل گئے

اشاروں کا سہارا کون لے گا
ہمیں جب کام لینا ہے زباں سے
فاشستوں کو رام مندر کی تعمیر کے اشارے مل گئے!
ایودھیا میں شہید بابری مسجد پر رام مندر تعمیر کرنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ وشوا ہندو پریشد اس غیر قانونی کام میں سب سے آگے ہے ۔ اوراثار و قرائن سے ایسا لگتا ہے کہ وی ایچ پی رام مندر جنم بھومی نیاس اور ان کی قبیل کی دیگر جماعتوں و تنظیموں کو رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کے اشارے مل گئے ہیں اور یہ اشارے کسی اور کی جانب سے نہیں بلکہ مرکزمیں اقتدار پر فائز مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے ہی دیئے ہیں ورنہ کسی سیاسی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے بناء وی ایچ پی اور دیگر فاشسٹ طاقتیں ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے لئے راجستھان اور دیگر ریاستوں سے پتھر نہیں منگواتیں ۔ ہندوستانی عوام کے لئے بری خبر یہ ہیکہ ہندوتوا کی طاقتوں نے نہ صرف کارسیوک پورم میں راجستھان سے 20 ٹن پتھرمنگوایا بلکہ ان پتھروں کی شیلا پوجن بھی کی گئی ‘ حالانکہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں زر تصفیہ ہے 2010 میں الہ آباد ہائیکورٹ نے عقیدہ کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے شہید بابری مسجد کی اراضی کو متنازعہ قرار ددے کر کہا تھا کہ اسے تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ ہندوں ‘ دوسرا حصہ مسلمانوں اور تیسرا حصہ نرموہی اکھاڑہ میں  بانٹ دیا جائے لیکن سپریم کورٹ نے سال 2011 میں ہائیکورٹ کی رولنگ کو ہندو مسلم گروپوں کی اپیل پر معطل کر دیا ۔ اس کے علاوہ 2002 میں عدالت نے ایودھیا میں 67 ایکڑ اراضی پر کسی بھی مذہبی سرگرمی پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور وہاں کسی قسم کا سامان بشمول پتھر وغیرہ رکھنے کی ممانعت ہے ۔ ایسے میں ایودھیا کے کارسیوک پورم میں پتھروں کا لایا جانا اور پھر ان کی پوجا کا اہتمام ملک کے قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔ ہندوتوا طاقتیں بار بار اور ہر مسئلہ پر قانون سے کھلواڑ کر رہی ہیں ۔ انہیںروکنے والا کوئی نہیں ہے ‘ حد تو یہ کہ ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 23 سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود کسی خاطی کو سزاتک نہیں دی گئی سب کے سب آزاد پھر رہے ہیں اور کچھ تو زندگی سے ہی آزاد ہوگئے ہیں۔ یہ ہمارے نظام قانون کی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی ناکامی ہے ۔ان حکومتوں نے اپنی دستوری ذمہ داریوں سے مجرمانہ غفلت برتی ہے اور اس کا خمیازہ سارے ملک کوبھگتنا پڑ رہا ہے۔ 6؍ ڈسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے صرف بابری مسجد ہی شہید نہیں کی بلکہ ہندوستانی تہذیب کو زمین دوس کر دیا تھا ۔ اس سانحہ کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو جو نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر ہمارا وطن عزیز کی شبہیہ جس طرح متاثر ہوئی اس کی کسی بھی طرح اور کوئی بھی پابجائی نہیں کرسکتا ۔ آج ناجائز طور پر رام مندر تعمیر کرنے کے خواہاں طاقتیں بڑی بے چینی سے اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ انہیں رام مندر تعمیر کرنے کے اشارے مل رہے ہیں اس ضمن میں صدر رام جنم بھومی مہنت نرتیا گوپال داس کا وہ بیان کافی اہمیت رکھتا ہے کہ ایودھیا میں اب رام مندر تعمیر کرنے کے اشارے مل رہے ہیں ‘ انہوں نے یہ کہتے ہوئے بھی ملک کے امن پسند اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں یقین رکھنے والے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہیکہ مندر کی تعمیر کے لئے منگوائے گئے پتھروں کی پوجا کا مطلب رام مندر کی امکانی تعمیر بالکل قریب ہے ۔ مہنت رام داس اس پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ وہ یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور اسے لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے اور ان کی یہی خواہش ہے کہ مودی کی معیاد میں ہی رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوجائے۔ وی ایچ پی کے آنجہانی لیڈر اشوک سنگھل نے اپنی موت سے چند ماہ قبل ہی اعلان کیا تھا کہ را م مندر کی تعمیر کے لئے 2.25 لاکھ کیوبک فٹ پتھر کی ضرورت ہے جبکہ 1.25 لاکھ کیوبک فٹ پتھر ایودھیا میں وی ایچ پی کے ہیڈکوارٹر پہنچا دیا گیا ہے اور مابقی پتھر ملک بھر سے جمع کیا جائیگا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رام مندر کی تعمیر کیلئے درکار پتھر میں نصف سے زیادہ پتھر ایودھیا پہنچ چکا ہے اور 2007 سے اس کا سلسلہ جاری ہے اس کے باوجود مرکزی و ریاستی حکومتوں پولیس اور مسلم قائدین خواب غفلت میں پڑے رہے ۔ہندوستانی عوام خاص کر مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھ رہے ہیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے علاوہ ملت کی ہمدردی کا دم بھرنے والے مسلم قائدین کیا کر رہے ہیں ۔ ان کی خاموشی کئی ایک شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے ۔ بہرحال اکھلیش یادو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایودھیا میں پتھر لائے جانے کے سلسلہ کو روکے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر ہونے سے بچائے کیونکہ یہ سب کچھ 2017 میں منعقد ہونے والے یو پی اسمبلی انتخابات کے لئے کیا جا رہا ہے اور بی جے پی اس مسئلہ کو اٹھا کر ہی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی خواہاں ہے کیونکہ اسے دہلی اور بہار میں اندازہ ہوگیا ہے کہ صرف نفرت کی سیاست پر ہی اس کی بقاء ہے ۔

TOPPOPULARRECENT