Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / فاضل بجٹ کی پیشکشی میں تلنگانہ کو ملک میں پانچویں ریاست کا مقام

فاضل بجٹ کی پیشکشی میں تلنگانہ کو ملک میں پانچویں ریاست کا مقام

مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس، شادی مبارک اور دیگر اسکیمات کے بجٹ میں اضافہ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔14 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر فینانس مسٹر ایٹالہ راجندر نے سال برائے 2016-17ء کیلئے 3.718 کروڑ روپئے کا فاضل بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سارے ہندوستان میں ریاست تلنگانہ کا فاضل بجٹ پیش کرنے والی پانچ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ 70 مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے جارہے ہیں اور شادی مبارک اسکیم کے فنڈز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اسمبلی میں بجٹ کی پیشکشی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹالہ راجندر نے کہا کہ خیالی پلاؤ پکانے کے بجائے حکومت نے وہی وعدے کئے ہیں، جس کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سال 2016-17ء کیلئے تلنگانہ کا 1,30,415.87 کروڑ روپئے کا مجموعی بجٹ پیش کیا ہے جس میں پہلی مرتبہ منصوبہ جاتی بجٹ کو غیرمنصوبہ جاتی بجٹ پر فوقیت دیتے ہوئے 5,000 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل تلنگانہ کے بارے میں جو شکوک پیدا کئے گئے تھے، اپنی عمدہ کارکردگی سے حکومت نے تمام شکوک و شبہات کو دُور کرتے ہوئے تلنگانہ کو فاضل بجٹ والی ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ تلنگانہ کی شرح ترقی اور فی کس آمدنی میں جاریہ سال زبردست اضافہ ہوا ہے۔ برقی، پانی، قدرتی وسائل، انسانی وسائل اور امن و امان کی وجہ سے جاریہ سال تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہونے کے امکانات ہیں۔ حکومت صحت مند معاشرے کی تعمیر کیلئے شہر حیدرآباد میں کارپوریٹ طرز پر چار سرکاری ہاسپٹلس قائم کرے گی۔ تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور کے جی تا پی جی تک مفت تعلیم نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ عمل آوری شروع ہوجائے گی۔ اقلیتی طبقات کیلئے 70 ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ ایک اسکول 100 سرکاری اسکولس کے مماثل ہوں گے۔ شادی مبارک، کلیان لکشمی اسکیم کے فنڈز میں  اضافہ کیا گیا۔ اسکولس اور ہاسٹلس کو سربراہ کئے جانے والے باریک چاول اسکیم کو کالجس اور یونیورسٹیز تک توسیع دینے کی تجویز ہے۔ جرنلسٹس کی فلاح و بہبود کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ خشک سالی، بورویلز کے خشک ہوجانے اور برقی مسائل سے کسان خودکشی کررہے ہیں۔ ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے جاریہ سال 9,000 تالابوں کا احیاء کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ شہر حیدرآباد میں ایک لاکھ اور تلنگانہ کے اضلاع میں ایک لاکھ اس طرح جملہ 2 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کیلئے 11 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہڈکو سے 3,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ گھر گھر نل کنکشن فراہم کرنے سے متعلق بھگیرتا اسکیم کیلئے بجٹ میں 40 ہزار کروڑ روپئے اور آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیرات کیلئے 40 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن، کمرشیل ٹیکس اور وہیکل رجسٹریشن میں حکومت کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ کی 840 اسکیمات میں سے 461 اسکیمس میں کمی کی گئی ہے اور کارآمد رہنے والی 380 اسکیمس کو برخاست کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT