Thursday , September 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / فاف ڈیو پلیسی ورلڈ الیون کے کپتان مقرر

فاف ڈیو پلیسی ورلڈ الیون کے کپتان مقرر

لاہور۔24 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام ) آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والی ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان کا فیصلہ ہو گیا ہے اور جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیو پلیسی ٹیم کی قیادت کریں گے۔دورہ پاکستان پر آنے والی ورلڈ الیون کی قیادت کیلئے فاف ڈیو پلیسی کے علاوہ ہاشم آملہ کا نام بھی زیر غور تھا لیکن حتمی فیصلے میں ڈیو پلیسی کو یہ ذمے داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اہم عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فاف ڈیو پلیسی کو ورلڈ الیون کا کپتان بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں جنوبی افریقی بیٹسمین کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے اور باضابطہ اعلان جلد کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کرکٹ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور پاکستان کرکٹ بورڈ، ورلڈ الیون میں شامل کھلاڑیوں کے مالی معاملات اور بیمہ کو حتمی شکل دینے کے لئے کام کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ دنیا کی 7 بہترین کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ’’ورلڈ الیون‘‘ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گی جس میں دنیائے کرکٹ کے صف اول کے کھلاڑی شریک ہوں گے۔تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز پاکستان میں کھیلی جارہی ہے اور پاکستان آنے والی ورلڈ الیون کے دورے کا اصل مقصد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ہے۔2009 میں سری لنکائی ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے زمبابوے کے علاوہ کسی بھی ٹسٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق جن کھلاڑیوں نے پاکستان آنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے ان میں سابق کیوی کپتان برینڈن مکالم، ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی، کیرون پولارڈ، ڈیرن براوو، انگلینڈ کے عادل رشید، بنگلہ دیشی بیٹسمین تمیم اقبال، زمبابوے کے سکندر رضا بٹ، جنوبی افریقہ کے فاف ڈوپلیسی، ہاشم آملہ، عمران طاہر، افغانستان کے محمد نبی اور سری لنکا کے اپل تھارنگا شامل ہیں۔ورلڈ الیون ٹیم کے کوچ اور مینیجر کی حیثیت سے زمبابوے کے اینڈی فلاور پاکستان آئیں گے جنہیں آئی سی سی نے یہ ذمہ داریاں سونپی ہیں۔حال ہی میں نیوزی لینڈ کے جمی نیشام نے بھی پاکستان آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ گرانٹ ایلیٹ سمیت دیگر کھلاڑیوں سے بھی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کے بعد سری لنکائی ٹیم بھی ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی جبکہ ویسٹ انڈیز بھی پاکستان کا ممکنہ دورہ کر سکتی ہے جو دورہ ورلڈ الیون سے مشروط ہے۔

TOPPOPULARRECENT