Sunday , August 20 2017
Home / Health / فالج ۔ عڈمات ۔ احتیاط اور بچاو کے طریقے

فالج ۔ عڈمات ۔ احتیاط اور بچاو کے طریقے

فالج ایک ایسا مرض ہے، جو صرف جسم کے کسی حصے کو مفلوج نہیں کرتا بلکہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔فالج دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی اور طویل مدتی معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ فالج ، دماغ میں خون کی شریانوں کے بند ہونے یا ان کے پھٹنے سے ہوتا ہے۔ جب فالج ہوتا ہے ،تو دماغ کے متاثرہ حصوں میں موجود (Cells) آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسم میں کمزوری اور بولنے اور دیکھنے میں دشواری سمیت اور بہت سی اور علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سے جسم کا پورا، آدھا یا کچھ حصہ کام نہیں کرتا۔

فالج کا حملہ اس وقت شدیدہوتا ہے،جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی شریان میں خون اور آکسیجن بلاک ہوجائے یا پھٹ جائے (برین ہیمرج)اور ہاں اگر آپ کا خیال ہے کہ یہ صرف بڑھاپے میں لوگوں کو شکار بناتا ہے، تو ایسا بالکل نہیں۔ درحقیقت فالج کسی بھی عمر کے فرد کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کی وجہ آج کا طرز زندگی ہے، جو فشار ِخون کو بڑھا کر اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ فالج کی علامات میں شدید سردرد، سرچکرانا، بینائی میں تبدیلی یا دھندلاہٹ، بولنے میں مشکلات، جسم میں سنسنی کی لہر دوڑنا وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم چلتے چلتے اچانک گرجانا یا گردن میں درد بھی اس کی نشانہ ہوسکتے ہیں اور ان علامات میں سے کسی کی موجودگی کی صورت میں طبی ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہے ،چاہے وہ بعد میں عام بیماری ہی کیوں نہ ثابت ہو،تاہم گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلیاں لاکر فالج کے خطرے کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں ، جو درج ذیل ہیں:
ٹماٹر کھانا : لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے اور ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق جن افراد کے خون میں لائیکوپین کی مقدار زیادہ ہو، اُن میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ 55 فیصد، stroke ischemic کا خطرہ 59 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ اس اینٹی آکسائیڈنٹ کی زیادہ مقدار ٹماٹر میں ہی پائی جاتی ہے جبکہ تربوز اور امرود بھی اس کے حصول کے لئے بہترین قرار دیئے جاتے ہیں۔
پسینہ بہانا : ورزش کرنا بھی فالج کے خطرے کو کم کرنے کا ایک بہترین ذیعہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سخت ورزش جیسے جاگنگ یا سائیکلنگ سے خاموش فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے، جو یادداشت کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آ ئی تھی کہ صحت مند طرز ِزندگی جیسے تمباکو نوشی سے گریز، روزانہ ورزش کرنا، جسمانی وزن معمول پر رکھنا اور الکحل سے دوری فالج کے خطرے کو 80 فیصد کم کرسکتا ہے۔
(سلسلہ جاری ہے )
نمک کا کم استعمال : امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے روزانہ آدھا چائے کا چمچ نمک استعمال کرنے کی سفارش کی ہے، مگر بیشتر افراد اس سے کافی زیادہ مقدار میں نمک کا استعمال کرتے ہیں۔ نمک بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، جو فالج کا خطرہ بڑھانے والا اہم ترین عنصر ہے، جو لوگ غذا میں نمک کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔
روزانہ ایک سیب: ایک تحقیق کے مطابق جو لوگسفید رنگ کے پھلوں اور سبزیوں کا روزانہ استعمال کرتے ہیں (171 گرام سے زیادہ) ان میں فالج کا خطرہ 52 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ سیب اور ناشپاتی فائبر اور سوجن سے لڑنے والے اینٹی آکسائیڈنٹ ہلوتین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ کیلے، گوبھی، کھیرے، لہسن اور پیاز وغیرہ بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔
چاکلیٹ: چاکلیٹ میں موجود کوکا فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو خون کی شریانوں کو ہونے والے نقصان سے لڑنے اور خون کے لوتھڑے بننے کی روک تھام کرتے ہیں، جو فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔
سویڈن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ چاکلیٹ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ 17 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ چاکلیٹ نہیں پسند تو سبز اور سیاہ چائے، بلیو بیریز، اسٹرابری اور لہسن بھی فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ بلڈپریشر معمول کے بلڈ پریشر میں کمی پر نظر رکھنا بھی فالج کی روک تھام کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ یا کمی بھی فالج کے خطرے کو 55 فیصد سے 79 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے روزانہ ورزش، صحت بخش غذا، جسمانی وزن میں معمولی کمی، تمباکو نوشی سے گریز وغیرہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ذہنی تشویش اور ڈپریشن:  ڈپریشن ایسی چیز ہے، جو فالج کے خطرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ 45 فیصد اور اس کے نتیجے میں موت کا امکان 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ مایوسی کے شکار عام طور پر تمباکو نوشی زیادہ کرنے لگتے ہیں، ناقص غذا کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں سے دور اختیار کرلیتے ہیں اور یہ سب فالج کے خطرے کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق معمولی ذہنی پریشانی اور مایوسی بھی خون کی شریانوں سے متعلق امراض سے موت کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ ادویات کا طبی ماہرین کے مشورے کے بغیر استعمال کچھ عام ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں جو لوگ بروفین کا اکثر استعمال کرتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ بھی تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوڑوں کے درد میں کمی لانے والی کچھ ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح جو خواتین تمباکو نوشی اور مانع حمل ادویات کا استعمال کرتی ہیں، ان میں خون کی روانی میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے جو فالج کا باعث بن سکتا ہے۔
دانتوں کا خیال : صحت مند دانت دل اور دماغ کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دانتوں کے امراض اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ طبی خیال ہے کہ خراب مسوڑے بیکٹیریا کی تعداد بڑھنے کا باعث بنتے ہیں جو کہ دل کی شریانوں پر حملہ کرکے خون کی روانی کو روکنے کے لیے رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔
(نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین، اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں)

TOPPOPULARRECENT