Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / فرانسیسی پولیس سربراہ اور بیوی کا قتل ، داعش ذمہ دار

فرانسیسی پولیس سربراہ اور بیوی کا قتل ، داعش ذمہ دار

پیرس14 جون س(سیاست ڈاٹ کام) داعش نے فرانس میں ایک پولیس چیف اور ان کی بیوی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔یہ قتل جس چاقو بردارشخص نے کیا وہ سیکیورٹی اداروں کی جوابی کارروائی میں مارا گیا ۔ اس واقعے میں بہر حال مقتولین کے موقع پر موجود بیٹے کو بچا لیا گیا۔داعش کی نیوز ایجنسی اعماق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ داعش کے ایک 25 سالہ رکن نے کیا۔فرانسیسی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق حملہ آور نے پیرس کے قریب 42 سالہ پولیس کمانڈر کے پیٹ نو(9)  بار چاقو گھسایا اور پھر اسے گھسیٹ کر گھر کے اندر لے گیا، جہاں کمانڈر کی اہلیہ اور ان کا تین سالہ بیٹا بھی موجود تھے ۔یہ واقعہ پیرس کے قریبی علاقے لمورو میں پیش آیا۔پولیس اور عدالتی ذرائع کے مطابق حملہ آور کو 2013 میں شدت پسندوں کو پاکستان جانے میں مدد دینے کے الزام میں 3 برس قید کی سزا ہوئی تھی، جس کے بعد سے اس کا نام سیکیورٹی اداروں کی نگرانی کی فہرست میں شامل تھا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچنے والی پولس نے حملہ آور کو خود سپردگی کا حکم دیا۔انکار پر پولیس نے کارروائی شروع کی اور اسے ہلاک کردیا ۔جب پولیس اہلکار گھر کے اندر داخل ہوئے تو پولیس کمانڈر کی اہلیہ کی موت ہوچکی تھی۔عدالتی ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری انسداد دہشتگردی یونٹ کو سونپی گئی ہے کیوں کہ حملہ آور اور مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے ۔برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ میں مقامی آر ایم سی ریڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حملہ آور کا نام لاروسی ابالا ہے جس کا ریکارڈ پولیس کے پاس پہلے سے موجود تھا۔ہلاک ہونے والے پولیس افسر کا نام جین بپتست سالوائنگ بتایا گیا ہے ، حملے کے وقت وہ سول ڈریس میں تھا۔واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے واقعے کے بعد ہنگامی اجلاس کی سربراہی کی۔داعش کا دعویٰ سچ ثابت ہونے کی صورت میں نومبر 2015 کے بعد داعش کا فرانسیسی سرزمین پریہ پہلا حملہ ہوگا، قبل ازیں فرانس میں 13 نومبر 2015 کو ہونے والے حملوں میں تقریباً 130 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT