Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / فرانس حملہ :صدر اوباما ، ٹرمپ اور آسٹریلیا کی جانب سے مذمت

فرانس حملہ :صدر اوباما ، ٹرمپ اور آسٹریلیا کی جانب سے مذمت

سخت گیر اسلام پسندوں کے خلاف جنگ کرنے ہلاری کا اعلان ،ہنگامی حالت میں تین ماہ کی توسیع

پیرس ۔ 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے جنوبی شہر نائس میں قومی دن پر جشن کے دوران ایک تیز رفتار ٹرک سے ہجوم کو کچلے جانے کے واقعہ میں بچوں سمیت 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہونے کے دلدوز واقعہ پر حکومت آسٹریلیا، امریکی صدر اوباما اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی جبکہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے سخت گیر اسلام پسندوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ صدر فرانسوا اولاند نے اس واقعے کو ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔ وہ وزیرِاعظم کے ہمراہ نائس کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ اْس وقت پیش آیا جب ہزاروں افراد قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں آتش بازی کا مظاہرہ دیکھ رہے تھے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹرک تلے کچل کر 50 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 18 کی حالت تشویش ناک ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرانسیسی پراسیکیوٹرژاں مشل پریتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرائیور ٹرک کو ہجوم کے اندر دو کلومیٹر تک چلاتا ہوا لے گیا اوراس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو روندا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹرک کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ٹرک میں سے بندوقیں اور دستی بم ملے ہیں۔ فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرک ڈرائیور تیونسی نڑاد فرانسیسی تھا اور ممکنہ طور وہ نائس کا ہی رہائشی تھا۔ ابھی تک کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اس واقعے کے بعد صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں نافذ ہنگامی حالت میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی ہے جس کے بعد فرانس میں سکیورٹی کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات رہے گی۔ فرانس میں ہنگامی حالت گذشتہ نومبر میں پیرس میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد سے نافذ ہے اور یہ 26 جولائی کو ختم ہونا تھی۔ نائس میں دہشت گردی کے اس واقعے کے فوراً بعد دارالحکومت پیرس میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس میں صدر اولاند نے کہا کہ ’فرانس کو بری طری نشانہ بنایا گیا ہے اور ہمیں اس طرح کے حملے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پورے فرانس کو اسلامی شدت پسندوں سے خطرہ ہے۔‘ اپنے خطاب میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مرنے والوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ نائس کے میئر اور پولیس نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ نائس میں ماٹن نامی اخبار سے تعلق رکھنے والے صحافی کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر ’بہت زیادہ خون اور متعدد افراد زخمی تھے۔‘ ایک عینی شاید نے فرانس کے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا ’ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ بھاگو بھاگو، یہاں حملہ ہو گیا ہے، بھاگو بھاگو۔‘ عینی شاید کے مطابق ہم نے کچھ دھماکے سنے تاہم ہمارا خیال تھا کہ فرانس کے قومی دن کے حوالے سے کی جانے والی آتش بازی کی وجہ سے ہے۔

TOPPOPULARRECENT