Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / فرانس حملہ: یہ’’ اسلامی شدت پسندی‘‘ نہیں ’’ شدت پسندی کا ’’ اسلاما ئزیشن ‘‘ہے

فرانس حملہ: یہ’’ اسلامی شدت پسندی‘‘ نہیں ’’ شدت پسندی کا ’’ اسلاما ئزیشن ‘‘ہے

تسلیم خان
وہ محض 31 سال کا نوجوان تھا، تیونس سے آکر فرانس میں آباد نسل کی دوسری نسل سے تھا۔ وہ ایک جانا پہچانا مجرم تھا، اکثر ہتھیاروں کا استعمال کیا کرتا تھا۔ پولیس کی اس پر نظر رہتی تھی، لیکن کبھی بھی اس کے بارے میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ وہ کسی بنیاد پرست اسلامی تنظیم سے وابستہ رہاہے۔جس وقت وہ فرانس کے نیشنل ڈے کا جشن منا رہے لوگوں کی بھیڑ میں ٹرک لے کر انہیں کچلتا ہوا گھسا تو اس کے پاس ایک پستول اور ایک دوسرا گن بھی تھا۔ اس نے اسی گن سے فائرنگ بھی کی۔ اس ٹرک سے کچھ دستی بم اور دیگر ہتھیار ملے، لیکن جانچ میں پتہ چلا کہ وہ جعلی تھے۔ وہ ایک مسلم تھا اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نے فائرنگ کرنے سے پہلے اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ آنے والے دنوں میں اس بارے میں اور معلومات سامنے آئنگے اور پتہ چلے گا کہ جتنا پولیس اس کے بارے میں جانتی تھی یا اس وقت تک جتنے اطلاعات اس کے بارے میں ہیں وہ اس کے علاوہ بھی کیا تھا۔ 84 لوگوں کی جان لینے والا دہشت گرد ہی ہوتا ہے، اس ناتے وہ دہشت گرد تو تھا، لیکن اتنا ظالمانہ اقدامات کرنے کی اس حوصلہ افزائی یا ٹریننگ کہاں سے ملی، یہ پتہ لگایا جانا ابھی باقی ہے۔تحقیقات میں جو بھی نکلے، لیکن اتنا تو طے ہو ہی جائے گا کہ اسلامی اسٹیٹ یعنی ’’داعش‘‘ ایک مستقل داعشی ہوچکا ہے، بالکل اسی طرح جیسا کچھ برسوں پہلے تک القاعدہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن ’’داعش‘‘ القاعدہ سے دو قدم آگے ہے، القاعدہ محض دہشت گردی پھیلانے کا کام کر رہا تھا تو ’’داعش‘‘ نظریاتی دہشت گردی کا ایک ایسا خیال جو عام سے نظر آنے والے عام لوگوں کو تشدد طریقے اپنانے کے اخلاقی جواز کے لئے اکساتا ہے۔ اسی لئے اس کا اثر القاعدہ سے کہیں زیادہ اور خوفناک ہے۔آج ’’داعش‘‘ دہشت کا بالکل اسی طرح کی ایک علامت ہے جیسا کہ صارفین کی مارکیٹ کے لئے عالمی برانڈ۔ جس طرح دیسی مصنوعات پر گلوبل برانڈ کا ٹھپہ لگتے ہی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے ویسا ہی کسی بھی طرح کے تشدد میں ’’داعش‘‘ کا ٹھپہ لگتے ہی وہ عالمی ایونٹ میں بدل جاتا ہے۔جدید دور کی دہشت گردی کا چہرہ کوئی خاص مختلف نہیں ہے،

لیکن جیسے ہی اس پر ’’داعش‘‘ کی مہر لگتی ہے ہماری ریڑھ کی ہڈی میں کپکپیاں چھوٹ جاتی ہے، یہ ہمیں زیادہ ڈراتا ہے۔ ’’داعش‘‘ محض قتل نہیں کرتا، بلکہ مہذب سماج اور بربریت کے درمیان کا فاصلہ کم کرتا ہوا ایسی حرکت کو منصفانہ اور صحیح ٹھہراتا ہے۔ یہ بھی سمجھاتا ہے کہ ایسا کرنے میں گئی ان کی جان دراصل بدبختی کی علامت ہے۔ ’’داعش‘‘ ایک ایسی فرنچائز ہے جو کوئی بھی ہتھیا سکتا ہے، بغیر اس کی اجازت کے۔ صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ حملہ کرو، تشدد پھیلاؤ، بے گناہ اور معصوم لوگوں کی جان لو …. اور حملے سے ٹھیک پہلے ایک پیغام جاری کر دو کہ اس حملے کا تعلق ’’داعش‘‘ سے ہے۔ ’’داعش‘‘ کو برا نہیں لگتا، وہ بھی فوری سے پیشتر ایسے حملوں کی ذمہ داری یا کہیں کہ کریڈٹ لینے میں پیچھے نہیں رہتا۔جب دہشت گردی کا روپ ایسا ہو جائے تو چیلنج یہی ہے کہ اس سے نمٹا کس طرح جائے۔ تمام ممالک کی سیکوریٹی ایجنسیاں کس طرح روکیںاس طرح کے حملوں کو، جہاں نہ تو کوئی گروہ کام کر رہا ہے، نہ کوئی ٹریننگ یا اشتعال انگیزی کے کیمپ چل رہے ہیں، نہ کوئی بڑا ہتھیار وں کا ذخیرہ جمع کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ کے زمانے میں تو یہی ہوتا رہا ہے کہ ایجیسیا ںایسے لوگوں پر نظر رکھتی تھیں جو اپنے ملک سے باہر شام، افغانستان یا پاکستان جاتے تھے یا ان کے یہاں ان ممالک سے کوئی آتا تھا۔ ایسے لوگ جب حملے کرنے کی پوری تیاری کر چکے ہوتے تو دبوچ لئے جاتے۔ان ایجنسیوں کو اس کام میں مقامی لوگوں کی مدد ملتی، کئی بار تو ان لوگوں کے کمیونٹی کے لوگ ہی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیتے تھے۔ ایسے لوگوں کی شناخت یوں بھی ہو جاتی تھی کہ ان میں بنیاد پرستی کی علامات صاف نظر آنے لگتے تھے۔لیکن ’’داعش‘‘ سے منسلک حملوں میں ایسا کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ کئی بار تو حملہ کرنے والے ایسے لوگ ہیں جو اپنی ذاتی زندگی میں کسی وجہ سے ناراض ہیں اور انہوں نے عام لوگوں کی جان لے کر اپنا غصہ نکالا ہے۔ ایسے لوگ یا تو سماجی اور ثقافتی طور پر غیر منظم ہیں، سوچتے ہیں کہ جدید دور کی سماجی طریقہ کار ہی ان مسائل کی جڑ ہے۔

’’داعش‘‘ ایسے ہی لوگوں کو ان کی ذاتی زندگی کی مشکلات اور ناراضگیوں سے باہر لے جا کر یہ سمجھانے میں کامیاب ہو رہا ہے کہ ان کی پریشانی کا سبب محض وہ نہیں جو ان کے ارد گرد ہے۔ بلکہ پورا عالم ان کا دشمن ہے، ہر وہ شخص جو خدا کو نہیں مانتا ان کا دشمن ہے اور ان کے خراب حالات کے لئے ذمہ دار ہے۔ ہر وہ شخص جو اسلام کو نہیں مانتا اسے زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔’’داعش‘‘ انہیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ ایسے لوگوں کا خاتمہ کرنے میں اگر ان کی جان جاتی ہے تو یہ بے سبب نہیں ہوگا۔ وہ سمجھاتا ہے کہ بے معنے زندگی جینے سے بہتر ہے مر جانا۔ ’’داعش‘‘ سمجھاتا ہے کہ ایسا کرنے پر ہی وہ ہیرو بن سکتے ہیں۔ ان خطرناک خیالات سے دنیا بھر کے نوجوان بغیر کسی ٹریننگ کے اشتعال انگیزی میں آ رہے ہیں اور فرانس کے نیشنل ڈے کے جشن میں بغیر کسی بڑے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی 84 لوگوں کی جان لینے جیسے کام کر رہے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے یہ نوجوان خودکار فوجی بن رہے ہیں۔ایک مہینہ پہلے ہی امریکہ کے آرلینڈو میں عمر متین نام کے شخص نے ایک کلب میں اندھا دھند فائرنگ کر 50 افراد کی جان لے لی تھی۔ اخبارات میں شائع بیان میں ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمزکومی نے متین کو ایک بھٹکا ہوا نوجوان بتایا تھا۔ جیمز کے مطابق ایف بی آئی کی متین پر مسلسل نظر تھی، اس سے تین بار پوچھ گچھ بھی ہوئی تھی، لیکن ایف بی آئی کو کبھی بھی نہیں لگا کہ وہ سرپھرا دہشت گرد ثابت ہوگا۔ ایف بی آئی اس نتیجے پر اس لیے پہنچی کیونکہ متین کبھی لبنان کے شدت پسند تنظیم حز ب اللہ کا حامی ہوتا تھا اور کبھی ’’داعش‘‘ کا۔ ایف بی آئی کے اس نتیجے پر پہنچنے کی بنیاد تھا کہ حزب اللہ شام میں ’’داعش‘‘ کے خلاف لڑ رہا ہے۔ آرلینڈو حملے سے ٹھیک پہلے متین نے پولیس کو فون کیا، لیکن کاٹ دیا۔ کچھ دیر بعد اس نے پھر پولیس کو فون کیا اور اعلان کیا کہ وہ ’’داعش‘‘ کا دہشت گرد ہے اور حملہ کرنے والا ہے۔ پولیس حرکت میں آتی اس سے پہلے ہی اس نے 50 افراد کی جان لے لی۔فرانس کے دہشت گرد اور متین میں کافی مماثلت ہے۔ فرانس کا حملہ بھی پولیس کی نظر میں تھا، متین بھی۔ دونوں ہی کے بارے میں پولیس کو لگتا تھا کہ وہ ناراض نوجوان ہیں، اور تشدد کی اس انتہا تک نہیں پہنچ سکتے۔ دونوں صورتوں میں پولیس اور ایجنسیاں غلط ثابت ہوئیں۔جب دہشت گردی ہتھیاروں اور گولہ بارود سے آگے بڑھ کر نظریاتی سطح پر آ جائے تو خطرہ زیادہ بڑا ہے۔ ایسے نوجوان جن کا بنیاد پرستی سے تعلق کسی ٹریننگ کیمپ، کسی مدرسے یا مسجد میں نہیں ہو رہا ان سے نمٹنا تو دور ان پر نظر رکھنا تک مشکل ہو گیا ہے۔ ایجنسیاں ایسے دہشت گردوں کو‘‘ الون ولف ‘‘یا تنہا بھیڑیا کہتی ہیں ۔۔۔ لیکن الون ولف تو باقاعدہ ٹریننگ لے کر کسی خاص مشن پر نکلنے والے دہشت گرد ہوتے ہیں۔ پھر فرانس کا حملہ اور متین کون ہیں؟ فرانس کے ایک دانشور کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بھی معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتے۔ یہ لوگ ایک غیر حقیقی دنیا میں رہتے ہیں اور یہ اسلام کے بنیاد پرستی سے نہیں بلکہ اپنے ہی دل کے بنیاد پرستی سے متاثر ہیں۔ حملوں میں ’’داعش‘‘ کا نام لینا انہیں اچھا لگتا ہے کیونکہ ’’داعش‘‘ واحد سماج مخالف اور عالم مخالف تنظیم ہے۔ ’’داعش‘‘ جدیدیت کے خلاف ہے اور دنیا کو اسلام کے ابتدائی دور میں لے جانا چاہتا ہے۔ دراصل اسلام کی یہ ’’شدت پسندانہ شکل ‘‘نہیں ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ’’شدت پسندی کا اسلامائزیشن ‘‘ہے۔

TOPPOPULARRECENT