Tuesday , October 24 2017
Home / اداریہ / فرانس میں تازہ اموات

فرانس میں تازہ اموات

بہاتے ہیں اسے اب لوگ گلیوں اور سڑکوں پر
سبھی کا ہوگیا ہے خون پانی دیکھتے جاؤ
فرانس میں تازہ اموات
فرانس میں انسانی اموات کے سلسلہ کو دیکھتے ہوئے عالمی سطح پر ایسے واقعات کی بروقت مذمت کی جاتی ہے اور ہر واقعہ کے بعد دہشت گردی کی ہولناکیوں پر ماتم شروع ہوتا ہے۔ فرانس کے شہر نائس کی سڑکیں ایک جنونی ٹرک ڈرائیور کی وجہ سے خونریز ہوگئیں اور اس حملے کو دہشت گرد کارروائی قرار دینے میں اس مرتبہ بھی تاخیر نہیں کی گئی جبکہ حملہ آور کے بارے میں ہنوز مختلف قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔ فرانس میں گذشتہ 18 ماہ سے خون ریزی کے واقعات نے شہریوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں پیرس کے کئی مقامات پر خودکش بم حملے ہوئے تھے جس سے 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مارچ میں بھی برسلس ایرپورٹ اور میٹرو اسٹیشن پر خودکش حملے سے 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کے پس پردہ حقائق یہ بتائے جارہے ہیں کہ عراق اور شام میں فوجی کارروائی کو مزید تیز کرنے فرانس کے منصوبوں کا جواب ہوسکتے ہیں۔ ان ملکوں میں امریکی زیرقیادت اتحادی فوج دولت اسلامیہ کا صفایا کرنے اندھادھند فوجی کارروائی کرتے ہوئے بے قصور انسانوں کی قیمتی زندگیاں تباہ کررہی اور لاکھوں افراد بے گھر بنائے جارہے ہیں۔ ساری دنیا کی کھلی آنکھ عراق اور شام کی تباہی کو دیکھ رہی ہے پھر بھی اس پر ندامت اور افسوس کے آنسو نہیں گرتے۔ فرانس کو اسلامی دہشت گردی کے خلاف لاحق ہونے کا ایک سے زائد مرتبہ ادعا کیا جاتا رہا ہے۔ فرانس کے مشہور سیاحتی شہر نائس میں لوگ قومی دن کا جشن منارہے تھے جہاں 14 جولائی 1789 کو آزادی ملی تھی۔ ٹرک ڈرائیور نے اس قومی دن کا جشن منانے کیلئے جمع ہزاروں افراد کے ہجوم میں گھس کر خون ریزی کیوں کی یہ ایک تحقیق طلب بات ہے۔ اب تک یہی سمجھا جارہا ہے کہ دہشت گرد حملہ ہے لیکن ابتدائی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حملہ آور کا دہشت گرد گروپ سے تعلق تھا۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق 11 بجے ہونے والے حملے میں ٹرک 86 سے زائد افراد کو روندتا ہوا چلا گیا۔ بعدازاں پولیس نے ٹرک ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ محمد لوائج بوبلال نامی 31 سالہ نوجوان شادی شدہ بتایا گیا جو جنوری 1975 میں تیونس میں پیدا ہوا تھا۔ اس نوجوان کی سابق بیوی کو پولیس نے حراست میں لیا اور گھر کی تلاشی لی تو کچھ نہیں ملا لیکن معمولی جرائم کے سلسلہ میں پولیس اس سے واقف تھی۔ فرانس کے صدر نے بار بار ہونے والے حملوں کو ایک بہت بڑا دہشت گردانہ خطرہ قرار دیا ہے مگر اب تک کے واقعات کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں لائی گئی۔ عراق اور شام کے تعلق سے فرانس کا موقف جس قدر شدت پسندانہ ہے اس پر نظرثانی نہ کرنے کی وجہ سے ملک دہشت گردی کے نشانہ پر ہے تو یہ تشویشناک کیفیت ہے۔ اپنے ملک کو غیرمستحکم ہونے سے بچانے کی فکر کرنے والی فرانس کی حکومت کو دہشت گردی کے بڑے خطرے سے بچنے کیلئے بھی ہوشمندانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دولت اسلامیہ کیلئے شدت پسندوں کو عراق اور شام میں ختم کرنے کی فوجی کارروائی کا جواب انسانی خون ہے تو ایسی کارروائیوں کی شدید مذمت کی جانی چاہئے۔ ایک طرف مغربی ممالک عالم اسلام کے قلب کو چھلنی کرنے متحد ہیں تو دوسری طرف براعظم یوروپ کے مختلف ممالک شدت پسندوں کے نشانہ پر ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ گذشتہ 6 برس میں عراق پر امریکہ کی جنگ مسلط کئے جانے کے بعد سے جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ انسانیت کا سب سے زیادہ خون بہانے میں کون سرفہرست ہیں۔ آج ساری دنیا کو ایک طرف بڑی طاقتوں کی جارحانہ پالیسیوں کے نقصانات کا سامنا ہے تو دوسری طرف ان جارحانہ پالیسیوں کا شکار گروپس سے نکلنے والے شدت پسندانہ نظریات کے حامیوں کی کارروائیوں میں ہر دو جانب انسانی خون کو بہایا جارہا ہے اور انسانیت کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے ملکوں کو ہوشمندی کا مظاہرہ کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ فرانس کے شہر نائس میں جو حملہ ہوا وہ دراصل فرانس کیلئے قومی دن کی حیثیت رکھتا تھا اور یہ قومی دن کا جشن اب ان کے لئے ایک سوگوار دن بن چکا ہے۔ فرانس کے لئے اس سے بڑی تعزیت کی بات کیا ہوگی کہ طاقتور لابی اپنی پالیسیوں پر ڈٹ کر قائم رہتے ہوئے انسانی جانوں کا اتلاف کرنا چاہتی ہے۔ اس خوفناک ٹرک حملے میں مرنے والوں کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ حملہ آور نے منظم طریقہ سے یا جنونی طور پر جو بھی کارروائی کی ہے اس کے پس پردہ عوامل کی جانچ ہونے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا جائے گا اس کے ردعمل کے طور پر مسلم دنیا کو مزید نشانہ بنایا گیا تو حالات کی سنگینی برقرار رہے گی بلکہ اس میں مزید خوفناک واقعات ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی یوروپ کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے یہ مسلمان فرانس کے نوآبادیات الجیریا، تیونس، مراقش اور افریقہ کے دیگر حصوں سے یہاں آ کر مقیم ہیں۔ مسلمانوں نے فرانس کی سیاسی تعصب پسندی کا سامنا کیا ہے۔ اس سیاسی تعصب پسندی کا شکار افراد میں ایک طرح کا انجان خوف گھر کرتا جارہا ہے۔ لہٰذا حکومت اور سیاسی گروپس کو سب سے پہلے اپنی پالیسی اور مسلمانوں کے تعلق سے تعصب کی سیاست ترک کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی
ہندوستانی کرنسی اور امریکی ڈالر کے شرح زرمبادلہ میں کمی کا اثر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت فروخت پر پڑا ہے جس سے پٹرول کی قیمت فی لیٹر 2.25 روپئے اور ڈیزل پر 0.42 پیسہ گھٹا دی گئی۔ اس ماہ یہ دوسری مرتبہ کٹوتی ہوئی ہے ۔ عالمی تیل مارکٹ میں آنے والی کمی کا فائدہ ہندوستانی صارفین تک پہنچانے کی غرض سے سرکاری ملکیت والی تیل کی ریٹیلرس کمپنی آئی او سی، بھارت پٹرولیم کارپوریشن اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹیڈ نے ہر ماہ قیمتوں پر نظرثانی کرنے کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی آنا ضروری ہے مگر دیکھا یہ جاتا ہیکہ جب کبھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے بہانے دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور پٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد یہ ضروری اشیاء کی اضافہ شدہ قیمتیں یوں ہی برقرار رہتی ہیں۔ اس سے صارفین کی جیب پرزائد بوجھ برقرار رہتا ہے۔ مختلف محکموں کا فریضہ ہے کہ وہ مارکٹ میں بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کا پیمانہ سخت کردیں۔ وزارت کامرس و صنعت نے جو ڈاٹا جاری کیا ہے اس کے مطابق ملک میں ہول سیل مارکٹ افراط زر کی شرح ماہ مئی کے دوران 0.8 فیصد سے بڑھ کر جون میں 1.6 فیصد ہوگئی ہے۔ اوسطاً افراط زر کی شرح 5.99 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ترکاریوں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کو موسم کے مطابق بتایا جارہا ہے جبکہ پٹرولیم اشیاء کی قیمت میں مئی کے مقابل 6.1 فیصد سے گھٹ کر جوں ہی 3.6 فیصد ہوگئی تھی لیکن ضروری اشیاء اور ترکاریوں کی قیمتوں میں ماہ مئی میں جتنا اضافہ کیا گیا اس میں کم نہیں کیا گیا۔ یہ متعلقہ محکموں کی عدم توجہ اور مارکٹ کے منافع خوروں کی من مانی کا نتیجہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT