Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / فرانس میں صدارتی انتخابات کیلئے رائے دہی

فرانس میں صدارتی انتخابات کیلئے رائے دہی

LE TOUQUET, APR 23 :- Emmanuel Macron (L), head of the political movement En Marche !, or Onwards !, and candidate for the 2017 French presidential election, casts his ballot in the first round of 2017 French presidential election at a polling station in Le Touquet, northern France, April 23, 2017. At C, his wife Brigitte Trogneux. REUTERS-13R

پیرس۔23 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) فرانس میں آج سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پہلے مرحلے کے صدارتی انتخابات کا برسوں بعد انعقاد ہوا ۔ نتائج کی پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی لیکن ایک بات یقینی ہے کہ انتخابی نتائج آئندہ کی پریشان حال یوروپی یونین کیلئے انتہائی اہم ثابت ہوں گے ۔ دائیں بازؤ کے انتہا پسند قائد میرین لیپن اور اعتدال پسند ایمانیول میکرون کے درمیان سخت مسابقت ہے ۔ امکان ہے کہ گہرے انتشار کا شکار ملک کے رائے دہندے فیصلہ کن نتائج ظاہر نہیں کریں گے ۔ 48سالہ لیپن نیشنل فرنٹ کی امیدوار ہیں اور انہیں اُمید ہے کہ صیانتی اندیشوں سے انہیں فائدہ حاصل ہوگا ۔ اپنی انتخابی مہم کے ذریعہ انہوں نے پیرس کے چیمپس الیسیس ایونیو میں ایک ملازم پولیس کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے گولی مار کر ہلاک کردینے کے واقعہ کو انتخابی موضوع بناتے ہوئے فرانسیسی عوام میں صیانت کے بارے میں اندیشے پیدا کردیئے ہیں ۔ وہ چاہتی ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح ملک گیر سطح پر صیانتی اندیشے پیدا کر کے وائیٹ ہاؤز تک پہنچ گئے اور برطانیہ نے بریکزٹ کی تائید کی ‘ اُسی طرح وہ بھی صیانتی اندیشے پیدا کرتے یہوئے برسراقتدار آجائیں ۔ وہ چاہتی ہیں کہ فرانس یورو کا استعمال ترک کردیں ‘ وہ یوروپی یونین سے ترک تعلق کیلئے اس الیکشن کو ایک ریفرنڈم سمجھتی ہیں ۔ تبصرہ نگاروں کی پیش قیاسی ہے کہ لیپن کی کامیابی یوروپی یونین کیلئے ایک مہلک ضرب ثابت ہوگی ‘ جب کہ برطانیہ کے ترک تعلق سے یوروپی یونین پہلے ہی پریشان ہے ۔ 39سالہ مائیکرون فرانس کے اب تک کے کم عمر ترین صدر بننے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کی انتخابی مہم یوروپی یونین اور بزنس پلیٹ فارم کی بھرپور تائید میں تھی ۔ ان کی خواہش ہے کہ عالم گیر سطح پر سیاسی پارٹیوں سے دوری اختیار کریں ‘ وہ سابق بینک کار اور وزیر معاشیات ہیں ۔ انہوں نے اپنی تحریک کا اپنے طور پر آغاز کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ تاہم رائے دہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکینڈل زدہ قدامت پرست امیدوار فرینکوئی فلون سابق وزیراعظم اور سخت گیر بائیں بازو کے شعلہ بیان جان لوک میلن چان بھی انتخابی مقابلہ میں ہیں ۔ تقریباً چار کروڑ 70لاکھ افراد رائے دہی کے اہل ہیں ۔ بیشتر مراکز رائے دہی پر گرینچ مینٹائم ( جی یم ٹی ) کے بموجب  5بجے شام رائے دہی اختتام پذیر ہوگی ۔ بڑے شہروں میں مزید ایک گھنٹے کی مہلت دی جائے گی ۔ انتخابات کا اعلان اس کے کچھ ہی دیر بعد کیا جائے گا ۔ جمعرات کے دن ایک ملازم پولیس کی گولی مار کر ہلاکت کے واقعہ کی وجہ سے 50ہزار ملازمین پولیس 7ہزار فوجی ملک گیر سطح تک رائے دہندوں کے تحفظ کیلئے تعینات کئے گئے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT