Friday , August 18 2017
Home / مضامین / فرانس پر حملہ اور ترکی میں بغاوت ، کون ہے اس کے پیچھے ؟

فرانس پر حملہ اور ترکی میں بغاوت ، کون ہے اس کے پیچھے ؟

ابو معوذ
فرانس میں جاریہ سال جنوری سے تاحال چار دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جن میں 216 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 600 سے زائد رہی جن میں سے کچھ مستقل طور پور معذوری کا شکار ہوگئے ہیں اس کے برعکس گذشتہ سال2015 میں اس ملک میں دہشت گردی کے پیش آئے 6 واقعات میں 152 جانیں گئی تھیں اور 352 مرد و خواتین شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔ اگر سال 2003 سے فرانس میں پیش آئے دہشت گردانہ واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردی کے 18واقعات وہاں رونما ہوئے ہیں اور حسب توقع ان حملوں میں حملہ آوروں کی مسلمانوں کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ ویسے بھی فرانس یا یوروپ کے دیگر ملکوں میں جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ پیش آیا اس میں مسلمانوں کو ہی ملوث پایا گیا یا بتایا گیا۔ اگر ان تمام واقعات کا غیر جانبداری اور انصاف پسندی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ فرانس کے نیس ہو یا پیرس میں جہاں بھی دہشت گردانہ حملے ہوئے ان سے نہ صرف فرانس اور مغربی دنیا میں بلکہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا لاوا اُبل پڑا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے فائدہ کسے ہوا، اور نقصان کسے برداشت کرنا پڑا ؟ اس کا فائدہ صرف اور صرف اسرائیل اور اس کے آقاؤں کو ہوا جبکہ نقصان عالم اسلام کو برداشت کرنا پڑا ہے اور پڑے گا۔ فرانس نے ہمیشہ فلسطینیوں کی تائید و حمایت کی ہے، اس نے علیحدہ مملکت فلسطین کی بھی پرزور تائید کی ہے اور عرب ملکوں کی طرح مشرقی یروشلم دارالحکومت کے ساتھ علیحدہ مملکت فلسطین سے متعلق فلسطینیوں کے مطالبہ کو حق بجانب قرار دیا ہے۔ ان حالات میں فرانسیسیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر گھولنے اور نفرت پیدا کرنے کی خاطر سرزمین فرانس پر دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچ کر وہاں تباہی مچائی گئی۔ آپ کو بتادیں کہ داعش جیسی تنظیموں کو جو خلافت اور جہاد کا نعرہ لگاتی ہیں اگر حقیقت میں مسلمانوں اور اسلام سے دلچسپی ہوتی تو وہ فرانس یا دوسرے مغربی ملکوں کے علاوہ سعودی عرب، مصر اور دیگر مسلم ملکوں میں فساد فی الارض برپا نہیں کرتی، مسلمانوں کا خون نہیں بہاتی،

انہیں ان کے گھروں سے بے گھر اور ملکوں سے ملک بدر نہیں کرتیں بلکہ اس کی سرگرمیوں کا رُخ اسرائیل کی طرف ہوتا۔ جہاد کے نعرے لگاکر بے قصور انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے والے داعش نے درندگی کی تمام سرحدیں عبور کرنے والے اسرائیل پر ایک معمولی سا پتھر بھی نہیں پھینکا جو قابل غور نکتہ ہے۔ فرانس کی جملہ 66,710,000 آبادی میں مسلمانوں کی آبادی 7ملین یعنی 70لاکھ ہے اور مسلمانوں نے اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، یوروپ میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی اسی ملک میں ہے، ایسے میں وہاں دہشت گردوں کی کاررائیوں کا مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے مقامی آبادی کو متنفر کیا جائے۔ دوسری جانب دشمنان اسلام کی نظریں ترکی پر مرکوز ہیں کیونکہ وہاں اسلام پسند AKP کی حکومت ہے اور صدر رجب طیب اردغان اپنی اسلام پسندی کے باعث دشمنوں کی نظروں میں کھٹکتے رہتے ہیں، سرِدست ترکی میں بھی اسلام پسندوں کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام مخالف طاقتیں چاہتی ہیں کہ اسی مصطفے کمال اتارترک کا دور واپس لایا جائے جس نے ترکی میں مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کی شیطانی کوششوں میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ عالم اسلام میں ترکی قائدانہ صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، وہاں فوجی بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی گئی جس میں تاحال 204 سے زائد افراد ہلاک اور زائد از 1000 زخمی ہوگئے ہیں۔ بغاوت کو کچلنے کی کوشش کے طور پریہ سب سے اچھی بات رہی کہ صدر رجب طیب اردغان کی آواز پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور باغی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ اب تک 1600 باغی سپاہیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ترکی میں 1960 سے یہ چوتھی فوجی بغاوت ہے، ان تمام حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ایک ایسی سازش پر عمل ہورہا ہے جس کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کی شبیہہ متاثر کی جائے اور خود مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرتے ہوئے قتل و خون اور غارت گیری کا بازار گرم کیا جائے۔ بہر حال ان موجودہ حالات میں عالم اسلام کو سخت چوکسی کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT