Thursday , June 29 2017
Home / اداریہ / فرانس کے نئے صدر

فرانس کے نئے صدر

پیچھے پلٹ کے دیکھ نہ اب اے جنونِ شوق
بڑھنا ہے آگے، منزلِ غربت کے بعد بھی
فرانس کے نئے صدر
یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی اور صدر امریکہ کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ توجہ ملنے کے بعد فرانس کے صدارتی انتخابات میں نوجوان لیڈر کی کامیابی کو اس خطہ میں بڑی انقلابی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ 39 سالہ سابق سرمایہ اور بنکر ایمانوکل ماکعنون کو فرانس کا نیا صدر منتخب کیا جانا ایک نئی تبدیلی کی علامت ہے۔ فرانس کو حالیہ برسوں میں کئی داخلی و خارجی مسائل سے دوچار ہونا پڑا ہے خاص کر مسلم دنیا اور اسلام کے تعلق سے فرانس کی سابق حکومت کی پالیسی نے ناراضگیوں اور بدامنی کے واقعات کو ہوا دی تھی۔ فرانس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد موجودہ حکومت کے خلاف عوامی ناراضگیوں کو ایک بہانہ کی ضرورت تھی اور صدارتی انتخاب نے قیادت کی تبدیلی کا موقع فراہم کردیا۔ فرانس کے 4 کروڑ سے زائد ووٹرز نے اعتدال پسند صدارتی امیدوار ایمانوئل مکعنون کو ترجیح دی جبکہ قوم پرست میرین لی پیٹی کو ان کی شدت پسندانہ پالیسی کی وجہ سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے جو تنگ نظری اور تعصب پسندی کو بڑھاوا دیا گیا تھا اسی کے نتیجہ میں اس ملک کو مسائل سے دوچار بھی ہونا پڑا تھا۔ اب نومنتخب صدر کو بھی اپنے ملک کے بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک کے مصارف کو کم کرنے، لیبر قوانین میں نرمی لانے، پسماندہ علاقوں میں تعلیم کو فروغ دینے ان کے انتخابی وعدوں کی تکمیل ایک سخت آزمائشی مرحلہ ہوگی۔ امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح فرانس کے نئے صدر بھی سیاسی طور پرناتجربہ کار اور نووارد لیڈر ہیں۔ سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے وہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرح اپنے ملک کے عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے وعدہ پر کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔ 3 سال قبل تک بھی انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب وہ یوروپ کے سب سے طاقتور لیڈروں میں شمار ہوئے ہیں۔ ان کے پسندیدہ ایجنڈہ میں فرانس میں سیاسی و معاشی اصلاحات لانا ہے۔ یوروپی یونین کو بھی ساتھ لیکر چلنا ہے۔ فرانس کے نتائج نے عالمی قائدین کو ایک طرح سے سکون فراہم کیا ہوگا خاص کر برسلس اور برلن میں سب سے بڑی راحت محسوس کی گئی کیونکہ انتخابات میں کٹر پسند اور یوروپی یونین کی شدید مخالفت عالمگیریت پروگرام کی نقاد لی پین کو شکست ہوئی ہے۔ فرانس کے سابق صدر غیرمقبول تھے۔ فرانکوئس ہولینڈ کے دور میں فرانسیسی مسلم طبقہ کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی تھی خاص کر 2015ء سے فرانس میں دہشت گرد حملوں کیلئے اسلامی تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ایک مخالف اسلام فضاء قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان دہشت گرد حملوں میں 230 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فرانس کے عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ اتنے احمق نہیں ہیں کہ جو خودساختہ یا نام نہاد قوم پرست کی اچھائی کی باتوں میں پھنس کر اپنا قیمتی ووٹ ضائع کریں گے۔ قوم پرستی کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہوئے اقتدار پر حاصل کرنے والی طاقتوں میں ہندوستان کی موجودہ قیادت کو شمار کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی عوام نے اس قوم پرستی کے جھانسہ کا شکار ہوکر ووٹ دیا تھا مگر فرانس کے عوام نے خالص اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کا وعدہ کرنے والے لیڈر کو منتخب کیا۔ لی پین نے امیدوارہ کی حیثیت سے گمراہ کن مہم چلائی تھی جس کے نتیجہ میں وہ عوام کو بے وقوف بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ فرانس کے نئے صدر نہ صرف ایک فلسفی ہیں بلکہ ادب نواز بھی سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کی سیاسی ناتجربہ کاری اور پارلیمانی نظام کے کام کاج سے ناواقفیت کے باوجود اگر وہ آئندہ ماہ ہونے والے لیجسلیٹیو انتخابات کے بعد باقاعدہ طور پر حکمرانی سنبھالیں گے تو ان کی صلاحیتوں کی بہت بڑی آزمائش بھی شروع ہوگی۔ جرمنی اور برطانیہ میں ہونے والے انتخابات سے قبل فرانس کے یہ انتخابات یوروپی خطہ میں دلچسپی کا باعث رہے کیونکہ برطانیہ نے یوروپی یونین سے علحدگی کا تہیہ کرلیا ہے تو اب فرانس ہی یوروپ کا ایک مضبوط رکن ہوگا اور یوروپ کے مستقبل کیلئے بھی ایمانوئل کی پالیسیوں پر سب کی نظر ہوگی اس کے ساتھ ساتھ فرانس میں بنیاد پرست اسلام اور عالمگیریت کے خلاف جو لہر پیدا کردی گئی ہے اس کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نومنتخب صدر کو اپنے پیشرو حکومت کی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے ایک مستحکم حکمرانی کی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا۔ خاص کر فرانس میں تقریباً 50 لاکھ مسلم آبادی کو احساس تحفظ فراہم کرنا نئے حکمراں کی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT