Thursday , August 24 2017
Home / آپ کے سوال / فرض نماز کی جماعت کے بعد دعاء

فرض نماز کی جماعت کے بعد دعاء

سوال :  شہر کی ایک مسجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا، تعجب ہوا کہ امام صاحب نماز کے بعد کچھ دیر خاموش بیٹھے پھر والحمدللہ… پڑھ کر اٹھ گئے جبکہ ایسا پہلی بار دیکھا گیا۔ ظہر ، مغرب ، عشاء کے فرضوں کے بعد طویل دعاء کا کیا حکم ہے۔ نیز فجر ، عصر ، جمعہ وغیرہ میں ہمارے شہر کی مساجد میں فاتحہ پڑھی جاتی ہے، اس کو بھی بعض حضرات منع کرتے ہیں۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
حافظ محمد جنید ہاشمی، ملک پیٹ
جواب :  اللہ سبحانہ کے ارشاد ادعونی استجب لکم ۔ فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔ الدعا منح العبادہ سے دعاء کی اہمیت و فضیلت اور اس کا امر محمود و مستحسن ہونا ظاہر ہے ۔ انفرادی دعاء آہستہ اولی ہے  جہراً جائز ہے ۔ اجتماعی دعاء جہراً مشروع ہے کہ امام دعاء جہر سے کرے اور مقتدی آہستہ آمین کہیں۔ حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتماعاً جو ادعیہ ثابت ہیں وہ جہر ہی سے ہیں تب ہی تو ادعیہ مبارکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہم تک پہونچے ہیں جو بکثرت کتب احادیث میں مروی ہیں۔ اگر وہ جہراً (آہستہ) نہ ہوں جیسے موجودہ دور میں بعض حضرات کا استدلال ہے تو بغیر سنے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کس طرح روایت فرماتے، حضرت امام سرخسی رحمتہ اللہ حنفی مذہب کے جلیل القدر امام اور مسائل ظاہر الروایت کے شارح ہیں۔ مبسوط سرخسی کے مؤلف ہیں جو حضرت امام محمد رحمتہ اللہ کے کتب ستہ کی مختصر شرح ہے۔ اس شرح میں ہے کہ حضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ نے بیرون نماز دعاء پرقیاس فرماکر یہ بیان فرمایا ہے۔ امام قنوت فجر کو جہراً پڑھے اور مقتدی آہستہ آمین کہیں (چونکہ قنوت فجر کی بعض خاص حالات میں عندالاحناف اجازت ہے) حضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قنوت فجر کو بیرون نماز دعاء پر قیاس فرمانا بیرون نماز بالجہر دعاء کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے۔ و عن ابی یوسف رحمتہ اللہ تعالی ان الامام یجھرہ والقوم یومنون علی القیاس علی الدعاء خارج الصلاۃ (مبسوط السرخی جلد یکم ص : 166 ) دعاء ہو کہ قرات قرآن یا ذکر و تسبیح وغیرہ میں چیخنا چلانا یقیناً منع ہے کہ جن کے بارے میں نصوص وارد ہیں۔ ان کو پیش کر کے جہر سے منع کرنا اور دعاء میں اخفاء (آہستہ آواز) کی ترغیب دینا غیر صحیح ہے ۔ جن فرائض کے بعد سنن ہیں جیسے کہ ظہر ، مغرب، عشاء امام کو طویل دعاء سے احتراز کرنا چاہئے کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض و سنن کے درمیان ’’ اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام کے بقدر ہی توقف ثابت ہے اس لئے عندالاحناف مذکورہ مقدار سے زائد توقف مکروہ اور سنت کے ثواب میں کمی کا باعث ہے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول ص : 77 میں ہے ۔ و فی الحجۃ اذا فرغ من الظھر والمغرب والعشاء یشرع فی السنۃ ولا یشتغل بادعیۃ طویلۃ کذا فی التاتر خانیہ مبسوط الرخسی جلد اول ص : 28 میں ہے ۔
اذا سلم الامام ففی الفجر والعصر یعقد فی مکانہ یشغل بالدعاء لانہ لا تطوع بعد ھما … واما الظھر والمغرب والعشاء یکرہ لہ المکث قاعدا لانہ المندوب الی النفل والسنن الخ درالمختار ص : 391 میں ہے ۔ و یکرہ تاخیر السنۃ الا بقدر اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال و الاکرام۔ اس کے حاشیہ رد المحتار میں ہے ۔ روی مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یقعد الابمقدار مایقول اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام۔
اب رہی یہ بات کہ فرض نمازوں کے بعد تسبیحات و بعض اذکار کی ترغیب جو احادیث میں وارد ہیں، ان کو علما ء احناف نے بعد الفرض سے انکا بعد سنن ہونا مراد لیا ہے کیونکہ سنن فرائض کے توابع اور اس کا تکملہ ہیں۔ جیسا کہ ردالمحتار جلد اول ص : 552 میں ہے۔
واما ماوردمن الاحادیث فی الاذکار عقیب الصلوٰۃ فلا دلالۃ  فیہ علی الاتیان بھا قبل السنۃ بل یحمل علی الاتیان بھا بعد ھا لان ا لسنۃ من لواحق الفریضۃ و تو ابعھا و مکملا لھا فلا تکن اجنبیہ عنھا فھما یفعل بعد ھا اطلق علیہ انہ عقیب الفریضۃ۔ جمعہ کے فرض  و فرض نمازوں کے بعد سورہ فاتحہ ، سورہ اخلاص ، سورہ فلق ، سورہ ناس ، آیت الکرسی ، سورہ بقرہ کی آخری آیات وغیرہ پڑھنے کی ترغیب بہت سی احادیث میں وار دہے۔ علامہ شامی عرف و عادات و آثار کی بناء فرض و سنن اور دعاء سے فراغت کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنے کو مستحسن لکھا ہے ۔ فاتحہ سے ایصال ثواب مقصود ہے اور ایصال ثواب اور دعاء مغفرت ہر دو کتب احادیث سے ثابت ہیں اس لئے جن مساجد میں فجر ، عصر ، جمعہ کے سنن کے بعد دعاء کے اختتام پر ’’ الفاتحہ‘‘ کہا جاتا ہے اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب ہے کیونکہ بندہ جب اپنے نیک عمل کا ثواب مرحومین کے لئے ہدیہ کرتا ہے تو اس کا ثواب ان کو پہونچتا ہے اور خود ہدیہ کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ کنز العمال جلد چہارم ص : 164 میں ہے۔
من قرأ بعد الجمعۃ بفاتحۃ الکتاب و قل ھو اللہ احد و قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس حفظ مابینہ و بین ا لجمعۃ الاخری در مختار ص : 418 میں ہے : قرأۃ الفاتحہ بعد الصلوۃ جھرالمھمات بدعۃ قال استاذ ناانھا مستحسنۃ للعادۃ والاثار  اور رد المحتار میں ہے ۔ (قولہ قال استاذنا) ھو البدلیع استاذ صاحب المجتبیٰ و اختار الامام جلال الدین ان کانت الصلاۃ بعد ہاسنۃ یکرہ والافلا اھ عن الھندیۃ  در مختار جلد اور ص : 943 ء میں ہے ۔ صرح علماء نا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا کذا فی الھدایۃ بل فی کتاب الزکاۃ فی التاتار خانیہ عن المحیط الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین و المومنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شئی اھ و ھو مذھب اھل السنت والجماعۃ۔

غیر مسلموں کے برتن میں کھانا
سوال :  غیر مسلموں کے برتن میں کھانا یا غیر مسلموں کا کھانا کھانا ، تقریباً ہم معنی افعال ہیں اور کھانے کی حد تک قرآن بھی ایک دوسرے کا کھانا باہمی طور پر جائز رکھا ہے ۔ مگر آپ کے مجریہ فتوے میں کھانے کے ساتھ جو ماکول الحم جو گوشت شامل ہوتا ہے خواہ وہ اہل کتاب کی برتنوں میں ہو یا مشرکین اور کافر کی برتن میں ہو جب تک کہ تحقیق نہ کرلیں کیسے حلال سمجھا جاسکتا ہے ؟ مثال کے طور پر اہل کتاب کی برتنوں میں لحم الخنزیر بھی ہوسکتا ہے اور مشرکین اور کافروں کی برتنوں میں غیر اللہ کے نام پر غیر اللہ کی خوشنودی کے لئے ذبح کیا ہوا گوشت بھی ہوسکتا ہے ؟
نجم الدین، نامپلی
جواب :  غیر مسلم کے پاس پکا ہوا کھانا کھانا اور کسی ہاسٹل میں رہنے والے مسلم اور  غیر مسلم لڑکوں کا ایک دوسرے کے برتن میں کھانا کھانا علحدہ علحدہ چیز ہے ۔ چونکہ انسان خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کا پس نوشیدہ و پس خوردہ پاک ہے ۔ اس لئے اس کا استعمال شدہ برتن کو مسلمان کا استعمال کرنا درست ہے۔ تاہم اس میں حرام چیزیں استعمال کی گئی تھیں تو جب تک اس کو اچھی طرح پاک و صاف نہ کرلیا جائے ان برتنوں کا استعمال درست نہیں۔ اب رہا خنزیر کا گوشت غیر مسلم کا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور شرعاً حرام ہے ۔ اس کا استعمال ناجائز ہے۔ بعد تحقیق و تصدیق عمل کیا جائے ۔ ورنہ احتیاط بہتر ہے۔

مرحوم بھائی کے لڑکوں کی کفالت
سوال :  زید کو تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھے۔ ان میں سے ایک لڑکے عمر کا ان کے والد کی زندگی میں انتقال ہوا، جس کی بیوی، دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے۔ 22 ستمبر 2009 ء کو زید فوت ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ عمر مرحوم کی اولاد کا نفقہ و کفالت شرعا کس کے ذمہ ہے ؟
ایک قاری
جواب :   صورت مسئول عنہا میں سعید علی مرحوم کے لڑکے اور لڑکیوں کے پاس کوئی مال نہ ہو تو ان بچوں کے نفقہ و خرچ کا تین حصوں میں سے ایک حصہ ماں پر بقیہ دو حصے سردار علی کے موجود دونوں لڑکوں کے ذمہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب النفقات ص : 516 میں ہے ۔ ولو کان لہ ام وجد فان نفقتہ علیھما اثلاثا علی قدر موار ثیھما الثلث علی الام والثلثان علی الجد و کذلک اذا کان لہ … عم لأب و أو و احد من العصبۃ فان النفقۃ علیھما اثلاثا علی قدر مواریثھما ۔

رزق میں کشائس کیلئے و ظیفہ
سوال :  میں کثیرالعیال ہوں۔ رزق و رو زی کے لئے کوئی وظیفہ بتائیں تو مہربانی ہوگی۔
محمد سبحان، بارکس
جواب :  رزق میں کشائش کے لئے بعد نماز فجر 111 مرتبہ یہ وظیفہ پڑھیں۔
یَا اَللّٰہُ یَا لَطِیْفُ یَا فَتَّاحُ یَا وَھَّابُ یَا بَاسِطُ یَا رَزَّاقُ یَا غَنِیُّ یَا مُغْنِی بِکَ نَسْتَعِیْنُ یَا فَتَّاحُ یَا عَلِیْمُ یَا خَبِیْرُ یَا نُوْرُ یَا ھَادِی یَا مُبِیْنُ آمَنْتُ باِللّٰہ

دو خطبوں کے درمیان دعا مانگنا
سوال :  کیا جمعہ کے دن دو خطبوںکے درمیان امام کے بیٹھ جانے کے وقت ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا مسنون ہے یا نہیں ؟
محمد سلیمان، وجئے نگر
جواب :  جمعہ کے خطبہ کے دوران ونیز دو خطبوں کے درمیان امام کے بیٹھنے کے وقت خاموش رہنا ضروری ہے اس لئے فقہاء نے دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر یا بغیر ہاتھ اٹھائے زبان سے دعا مانگنے کو مکروہ قرار دیا ہے البتہ امام کے بیٹھے رہنے تک دل سے دعا مانگ سکتے ہیں۔ مبسوط سہ خسی جلد : 2 باب الجمعۃ میں ہے۔ ’’ و وجوب الانصات غیر مقصود علی حال تشا غلہ بالخطبۃ حتی یکرہ الکلام فی حالۃ الجلسۃ بین الخطبتین ‘‘
خطبہ کے دوران امام کے بیٹھے رہنے تک دل میں اپنے مقصود و مراد کا استحضار کر کے دعا کی جائے اور یہی مسنون ہے۔ رد المحتار باب الجمعۃ میں ہے ۔ ’’ قال فی المعراج فیسن الدعاء بقلبہ لا بلسانہ لأنہ مأمامور بالسکوت ‘‘۔

مرحومہ کی روح مکان میں رہنا
سوال :  میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا ۔ وہ دواخانہ جانے سے پہلے میرے سے معافی اور سب سے معافی مانگ کر گئی، اس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا ۔ میں پریشانی میں سمجھ نہیں سکا۔ کیا مرحومہ کی روح مکان میں 45 دن تک رہتی ہے۔ کیا مرحومہ کی قبر پر ان کی مغفرت کی دعا کرسکتا ہوں ؟ مرحومہ کے ساتھ میں طویل عرصہ زندگی گذارا، ان کو بھولنے کی کوشش کر رہا ہوں، روز یاد ستاتی ہے ۔ میں روز نماز میں ان کے لئے مغفرت کی دعاء کرتا ہوں۔
عبداللہ ندیم، پھسل بنڈہ
جواب :  مرحومہ کی روح کا 45 دن تک مکان میں رہنے کا تصور وہم ہے، اسلام میں ایسی کوئی بات نہیں۔ نیز قبر کی زیارت مسنون ہے، آپ ان کی قبر پر ان کی مغفرت کی دعاء کرسکتے ہیں اور ہر نماز کے بعد ان کے لئے آپ کا دعاء مغفرت کرنا قابل تحسین ہے۔ آپ بھولنے کی کوشش نہ کریں، خود بخود وقت کے ساتھ ان کی یاد ختم ہوگی، جب ان کی یاد آئے ان کے لئے کچھ پڑھ کر ایصالِ ثواب کریں۔

TOPPOPULARRECENT