Friday , July 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / فرقہ وارانہ غنڈہ گردی کو سختی سے کچلا جائے

فرقہ وارانہ غنڈہ گردی کو سختی سے کچلا جائے

کرناٹک ڈی جی پی دفتر میں اعلیٰ پولیس افسران کو چیف منسٹر سدرامیا کی تاکید

بنگلورو۔11جولائی:دکشن کنڑا ضلع میں پچھلے تین چار دنوں سے جاری فرقہ وارانہ فسادات کو قابو میں کرنے میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں کی ناکامی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پولیس عہدیداروں کو اختیار دے دیا ہے کہ اشرار کے خلاف کوکا یا غنڈہ قانون سختی سے لاگو کریں۔کل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ساتھ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے والے مذہبی بنیاد پرستوں پر سخت نظر رکھی جائے۔انہوں نے ڈی جی پی آر کے دتہ کو ہدایت دی کہ فوری طور پر وہ منگلور پہنچ کر امن میٹنگ کا اہتمام کریں۔ سدرامیا نے اس میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ منگلور میں ہوئے واقعات افسوسناک ہیں۔ منگلور ریاست کا ایک امن پسند خطہ رہا ہے، لیکن چند فرقہ پرست طاقتوں کی وجہ سے یہاں اشتعال انگیزی ہوئی اور فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی نوبت آگئی، اس کی سرکوبی کیلئے آفسران کو ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شرپسندوں کے خلاف انسداد غنڈہ گردی قانون اور کوکا جیسے سخت قوانین کو استعمال کرنے پولیس کو آزادی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کہیں بھی اگر فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی صورتحال پید ا ہو، سڑکوں پر اترکر بلوا مچانے والوں کے ساتھ ان کے پیچھے کام کرنے والی طاقتوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے،کیونکہ ہر بار فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والی طاقتیں آسانی سے بچ نکلتی ہیں، آر ایس ایس ہو ، بجرنگ دل ہو یا ایس ڈی پی آئی کسی کی بھی طرف سے اشتعال انگیزی قطعاً برداشت نہ کی جائے اور ان تنظیموں کے کارندوں کے خلاف بے رحمی سے کارروائی کی جائے۔ ایسے وقت میں جبکہ امتناعی احکامات لاگو ہوں کسی کو بھی احتجاج ،جلوس یا کسی بھی پروگرام کی اجازت نہ دی جائے۔ اس ریاست میں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر ضلع کی ذمہ داری وہ ایک اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے سپرد کریں گے اور وہاں نظم وضبط کیلئے وہ ضلع ایس پی کے ساتھ نگرانی کریں گے۔ اضلاع میں اگر حالات بگڑیں گے تو اس کیلئے ایس پی اور متعلقہ اے ڈی جی پی کو مل کر پہل کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ایسے مرحلے میں جبکہ انتخابات سر پر ہیں ، سیاسی فائدہ کیلئے لوگوں کو بھڑکایاجارہاہے اور مذہبی جذبات کو ہوا دی جارہی ہے۔ پولیس کو اس صورتحال سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ شہر بنگلور میں گلابی ہوئسلا گاڑیوں کی تعداد کو 50 سے بڑھاکر 110 کیا جائے گا اور ہر پولیس تھانہ کو ایک گلابی ہوئسلا مہیا کرائی جائے گی، خواتین واطفال پر مظالم کی روک تھام کیلئے ان گاڑیوں کو خصوصی اختیارات دئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس افسروں کو تاکید کی کہ نظم وضبط میں خلل پڑنے پر وہ مناسب کارروائی کریں اور سماج میں بدامنی پھیلانے والوں کے مقام اور مرتبے کی پرواہ کئے بغیر ان کے خلاف کارروائی کریں ، بھلے ہی وہ کسی بھی پارٹی سے وابستہ کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی ترقی اسی وقت ہوسکتی ہے جب نظم وضبط کا نظام زیر قابو رہے۔ نظم وضبط میں اگر خلل پڑا تو ریاست کی ترقی بھی متاثر ہوگی۔انہوں نے آفسران سے کہا کہ وہ عوام میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے ضروری قدم اٹھائیں۔ بعض اوقات آفسران کی لاپرواہی اور بے توجہی محکمہ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے، ہر معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے ورنہ محکمہ کی نیک نامی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہوجائے تو وہ بین الاقوامی سطح پر سرخیوں کا موضوع بن جاتاہے، اسی لئے یہاں کے حالات کی خاص طور پر نگرانی کی جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT