Monday , August 21 2017
Home / مضامین / فرقہ وارانہ فسادات سے کس کا فائدہ ؟

فرقہ وارانہ فسادات سے کس کا فائدہ ؟

عقیل احمد
فرقہ وارانہ فسادات اپنے طور پر شروع نہیں ہوتے ۔ یہ کوئی فطری عمل نہیں ہے ۔ زلزلے ہوں یا آتش فشاں پھٹنا ہو یہ زمین کے اندر ہونے والی کچھ تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں تاہم فرقہ وارانہ تشدد ایسا نہیں ہوتا ۔ یہ کسی انسان کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ انسان ‘ جو اشرف المخلوقات ہے ۔ یہ ایک شیطانی کھیل ہے جو اشرف المخلوقات کا اعزاز رکھنے والا انسان منظم کرتا ہے اور بپا کرتا ہے ۔ اشرف المخلوق ہونے کے ناطے انسان کا کام یہ ہے کہ وہ زمین پر امن اور ترقی کو یقینی بنائے ۔ ایسا کرنے والا انسان در اصل اخلاقی اقدار کو مروڑتا ہے ‘ اپنے ضمیر کی آواز کو کچلتا ہے جو اسے سیدھی راہ چلنے کی ترغیب دیتی ہے لیکن فاشسٹ طاقتیں بہتری کا راستہ اختیار کرنے سے یکسر انکار کرتی ہے ۔ اقتدار اور دولت کی ہوس نے انسانی جذبات کو کچل کر رکھ دیا ہے اور وہ تمام معیارات ختم ہوگئے ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے انسان جو سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایسی سطح پر چلا جاتا ہے جہاں جنگلی جانور تک جانا شائد پسند نہ کریں۔ شائد اسی صورتحال کو فلاسفر ‘ شاعر اور مفکر علامہ اقبال نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
تضاد فطرت انساں نہ پوچھو
یہ فرشتہ بھی ہے اور شیطان بھی
بشر کی زد میں جنون بھی ہے آگاہی بھی
یہ مشت خاک آدمی بھی ہے اور حیوان بھی
ہمارے بیشتر سیاسی قائدین ایسا لگتا ہے کہ ذات پات ‘ مذہب و زبان سے قطع نظر سماجی خدمات کے جذبہ سے عاری ہوچکے ہیں۔ وہ جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا ہے ۔ اگر ہمارے سیاسی قائدین ملک کے عام آدمی کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر اپنا وقت ‘ اپنی توانائی صرف کرتے اور توجہ دیتے تو شائد ملک کی معاشی صورتحال بالکل مختلف ہوتی ۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین ہمیشہ فرقہ واریت کا زہر مختلف طریقوں سے پھیلاتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس غلط ماحول کے پس پردہ اصل محرک رائے دہندوں کو مذہب کی اساس پر منقسم رکھنا ہوتا ہے ۔ ایسا عموماً انتخابات سے قبل ہوتا ہے کہ ماحول کو اس قدر پراگندہ کردیا جاتا ہے کہ دو اصل برادریاں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوجاتے ہیں۔ ایسے فرقہ وارانہ فسادات رائے دہندوں کو تقسیم کرنے کا باعث ہوتے ہیں اور نتیجہ میں مفادات حاصلہ رکھنے والے سیاستدان اس کا پھل حاصل کرلیتے ہیں۔

گجرات کے 2002 فرقہ وارانہ فسادات اسمبلی انتخابات سے قبل ہوئے تھے اور ایک مخصوص سیاسی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کی ۔ یہ کامیابیاں تین لگاتار معیادوں تک چلتی رہیں۔ اس کے بعد مظفر نگر پر نظر ڈالئے ۔ یہاں مسلمانوں کا وجود ہی مشکل ہوگیا تھا ۔ کوئی بھی سنجیدہ شخص قوم مخالف عناصر کی جانب سے چلائی گئی نفرت کی مہم کو فراموش نہیں کرسکتا اور اس کا نتیجہ فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں ظاہر ہوا ۔ اب مرکز میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی شاندار کامیابی کے بعد غیر سماجی اور قوم دشمن عناصر اور فرقہ وارانہ طاقتیں جو فرقہ پرست تنظیموں سے تعلق رکھتی ہیں ‘ اپنے سر ابھارنے لگی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ طاقتیں مرکز میں اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی کامیابی کا انتظار کر رہی تھیں تاکہ ہندو راشٹر قائم کرنے ان کا دیرینہ خواب پورا کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ موجودہ سیاسی جماعت جس نے مرکز میں اقتدار حاصل کیا ہے وہ خود فرقہ پرست جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے ۔ یہ تاثر خود اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا بھی ہے ۔ اگر ان فرقہ پرست عناصر پر قابو نہیں پایا گیا اور ان کی سرگرمیوں کو روکا نہیں گیا تو یہ اندیشے ہیں کہ صورتحال بہت سنگین ہوجائیگی اور ملک میں تباہ کن خانہ جنگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ کچھ غیر سیاسی تنظیموں کے سربراہ اور کچھ ارکان پارلیمنٹ تک بھی مسلم برادری اور دلتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھے بغیر آگ سے کھیل رہے ہیں کہ خود ان کے ہاتھ بھی جل جائیں گے ۔ فرقہ پرست نظریات رکھنے والے قائدین اور ان کے زہریلے بیانات کے تعلق سے اکثر و بیشتر اخبارات میں شائع ہوتا رہتا ہے ۔ وی ایچ پی لیڈر پروین توگاڑیہ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر مسلمان گجرات فسادات کو بھول جائیں تو انہیں مظفر نگر کے فسادات کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ اسی طرح آنجہانی اشوک  سنگھل نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر مسلمان بابری مسجد کے ساتھ متھورا اور کاشی کی مساجد بھی ہندووں کے حوالے نہیں کرینگے تو انہیں ملک میں امن سے رہنے نہیں دیا جائیگا ۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا رہے ہے کہ اب مسلمانوں کیلئے وقت آگیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر زیادہ سنجیدگی سے غور کریں تاکہ پر امن بقائے باہم کو یقینی بنایا جاسکے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ فرقہ وارانہ تقسیم نے برسر اقتدار جماعت کو بھاری سیاسی فائدہ دیا ہے ۔ پہلے یہ فائدہ گجرات میں ہوا اور پھر ملک کے مختلف حصوں میں ہوا ۔ تاہم قوم اس سے متاثر ہوگئی اور اس کا سلسلہ جاری ہے ۔ نفرت کی گولی جو برسر اقتدار جماعت نے اتر پردیش کیلئے تجویز کی ہے وہ کافی موثر ثابت ہوسکتی ہے ۔ ہر صحیح العقل شخص اس بات سے اتفاق کریگا کہ سنگھ پریوار بھی ایک تقسیم پسندانہ طاقت ہے جو ہندوستان جیسے کثرت میں وحدت والے سماج پر غلبہ رکھتی ہے ۔ حال میں اخبارات کے مطالعہ میں ان مقامات کی نشاندہی ہوئی جہاں گذشتہ کچھ عرصہ میں فرقہ وارانہ جذبات شدت اختیار کرگئے تھے ۔ جمشید پور میں جو تشدد ہوا وہ فاشسٹ طاقتوں کے بند کا نتیجہ تھا ۔ یہ طاقتیں بی جے پی اور وی ایچ پی سے مربوط ہیں۔ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے ایک عام واقعہ کو انتہائی غلط رنگ اور پر تشدد موڑ دیدیا گیا ۔ اگر صحیح فکر سے کام کیا جاتا تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ اس کی بجائے بند کا اعلان کرنے والوں نے اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ تشدد کی راہ ہموار کی ۔ یہ بات ذہن میں رکھی جانی چاہئے کہ کچھ فرقہ پرستانہ ذہنیت رکھنے والوں کی زہر آلود تقاریر کے نتیجہ میں ہند ۔ مسلم تعلقات اور اس ملک کا سکیولر کردار متاثر ہوتا ہے ۔ صورتحال اور حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ مسلمان کی ایک معمولی چھینک پر بھی ہنگامہ کھڑا کیا جاتا ہے ۔ یہاں یہ شعر صورتحال کو بہتر طور پر ظاہر کرتا ہے کہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکتوں پر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں بھی مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ ایسے میں ولیم شیکسپئیر کا یہ خیال کتنا درست معلوم ہوتا ہے کہ جب فقیر مرجاتے ہیں تو کوئی تبصرہ نہیں کرتا اور جب کوئی شاہزادے فوت ہوتے ہیں تو آسمان بھی رونے لگتا ہے ۔ ہم مسلمانوں سے اپنے ہی ملک میں یہی سلوک ہو رہا ہے ۔
بحیثیت مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد فاشسٹ اور فرقہ پرست طاقتیں ایسا لگتا ہے کہ اس مقام پر پہونچ گئی ہیں جس کا انہیں انتظار تھا ۔ اور اب وہ ہندوتوا نظریہ اور فلسفہ کو مکمل طور پر لاگو کرنے اور یہاں اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتیں۔ لیکن اس ملک میں ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا جہاں مختلف مذاہب اور کلچر کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود اکثریتی برداری کے سنجیدہ اور صحیح الخیال افراد اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دینگے کہ ملک کو یرغمال بنالیا جائے ۔ بی جے پی کے بیشتر ارکان اور آر ایس ایس ‘ وشوا ہندو پریشد ‘ بجرنگ دل اور شیوسینا کے ارکان بھی  اکثر و بیشتر قوم پرستی اور حب الوطنی کی بات کرتے ہیں لیکن جب کبھی کوئی ایسا شخص اس پر اظہار خیا ل کرتا ہے جس سے ان کی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو اسے قوم مخالف قرار دیدیا جاتا ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قوم پرستی اور حب  الوطنی کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے بابائے قوم گاندھی جی کے قاتل کو ایک حقیقی قوم پسند قرار دیا تھا ۔ کیا اس طرح کی سوچ رکھنے والوں سے قوم پرستی اور حب الوطنی کا حقیقی مطلب واضح ہوسکتا ہے ۔ یہ لوگ فاشزم کی زبان بولتے ہیں اور انہیں اس کی بہترین تربیت بھی دی جاتی ہے ۔

اظہار خیال کی آزادی جمہوریت کا اہم ترین جز ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس آزادی کو یہ فاشسٹ طاقتیں پوری شدت سے کچل رہی ہیں۔ بی جے پی کی طلبا تنظیم کس طرح سے قوم پرستی اور حب الوطنی کا جذبہ پروان چڑھا رہی ہے وہ سب پر عیاںہے ۔ کیا اس طرح کے عناصر نے ملک کو یرغمال بنالیا اورہے اور اس کی ملکیت حاصل کرلی ہے ؟ ۔ یہ بات ضرور واضح ہے کہ ملک بتدریج سنگین صورتحال کی سمت جا رہا ہے اور ایسے میں یہ بہت اہم ہوگیا ہے کہ نفرت پیدا کرنے والے عناصر پر قابو پایا جائے اور ان کی ذہنیت کو بدلا جائے ۔ جس طرح ابتداء میں کہا گیا تھا کہ فرقہ وارانہ فسادات اور انتخابات کا ساتھ لازم ہے اس کو مختلف مثالوں کے ذریعہ ثابت بھی کیا گیا ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی انتخابات کا موسم قریب آتا ہے فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں آنی شروع ہوجاتی ہیں اور پھر سماج میں فرقہ وارانہ خطوط پر ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجاتی ہے ۔ ایسے میں سیول سوسائیٹی اور رضاکارانہ تنظیموں اور حکومت کو بھی اتر پردیش میں اور ملک کے دوسرے حصوں میں بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں اس طرح سے ماحول پراگندہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہونے پائیں ۔

TOPPOPULARRECENT