Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / فرقہ وارانہ فسادات 2013ء مقدمہ سادھوی پراچی کی خودسپردگی

فرقہ وارانہ فسادات 2013ء مقدمہ سادھوی پراچی کی خودسپردگی

مظفرنگر ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وشوا ہندو پریشد کی قائد سادھوی پراچی نے آج ایک عدالت میں خودسپردگی کردی کیونکہ ان کے کئی وارنٹ ایک کے بعد ایک جاری کئے گئے تھے کیونکہ وہ مظفرنگر فسادات مقدمہ 2013ء میں عدالت میں پیش ہونے سے قاصر رہی تھیں۔ عدالت نے یاد دہانی کی کہ قابل ضمانت وارنٹ ان کے خلاف جاری کیا گیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے 20 ہزار روپئے کا مچلکہ داخل کیا اور ایک حلفنامہ بھی پیش کیا کہ وہ مقدمہ کی آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں گی۔ عدالت نے ان کے خلاف تازہ وارنٹ جاری کیا جبکہ وہ 23 جنوری کو عدالت کے اجلاس پر حاضر نہ ہوسکیں حالانکہ سابقہ وارنٹ میں انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ مقدمہ کے سلسلہ میں 18 ڈسمبر کو حاضر رہیں لیکن وہ حاضر نہیں ہوئیں۔گذشتہ سال ڈسمبر میں مرکزی وزیر سنجیو گوالیان، بی جے پی رکن اسمبلی سریش رائنا، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بھارتیندو سنگھ اور دیگر چار نے عدالت میں اس مقدمہ کے سلسلہ میں خودسپردگی کرلی تھی جبکہ بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم جاریہ سال 19 جنوری کو خودسپرد ہوئے۔ عدالت اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 23 فبروری کو کرے گی۔ ملزمین کو قانون تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت امتناعی احکام کی خلاف ورزی، سرکاری ملازمین کو ان کے فرائض کی ادائیگی سے روکنا اور غلط برہمی وغیرہ کے تحت الزامات کا سامنا ہے۔ مبینہ طور پر ملزمین نے نڈالا ماڈور مہا پنچایت کے اجلاس میں شرکت کی تھی اور اگست 2013ء کے آخری ہفتہ میں اپنی تقریروں کے ذریعہ عوام کو تشدد کیلئے اکسایا تھا۔ مظفرنگر میں فرقہ وارانہ جھڑپیں اور متصلہ علاقوں میں اگست اور ستمبر 2013ء میں شروع ہوگئی تھیں جن میں 60 انسانی جانیں ضائع اور 40 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT