Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / فرقہ وارانہ واقعات اور مہانگر فسادات کی تعداد مساوی

فرقہ وارانہ واقعات اور مہانگر فسادات کی تعداد مساوی

مودی حکومت کا جواب اور گذشتہ ڈسمبر میں ایوان میں رجیجو کا دعویٰ متضاد
نئی دہلی ۔ 25 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) فرقہ وارانہ تشدد 2015ء میں تقریباً 17 فیصد گذشتہ سال کی بنسبت زیادہ ہوگیا۔ یو پی، مہاراشٹرا اور کرناٹک سے فرقہ وارانہ تشدد کے زیادہ واقعات کی اطلاع ملی۔ فرقہ وارانہ تشدد کے 751 واقعات گذشتہ سال پیش آئے تھے جبکہ 2014ء میں ان کی تعداد 644 تھی۔ ہلاکتیں 95 سے 97 ہوگئیں جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ ان کی تعداد میں 1921ء سے اضافہ ہوکر 1254 ہوگئی۔ سرکاری انتظامیہ نے پارلیمنٹ میں چہارشنبہ کے دن وزارت داخلہ کے گذشتہ سال کے فرقہ وارانہ تشدد کو 2014ء کے فرقہ وارانہ تشدد کی بنسبت کم بتایا جبکہ نریندر مودی حکومت برسراقتدار تھی۔ وزارت داخلہ کے وزیرمملکت کرن رجیجو نے گذشتہ ڈسمبر میں لوک سبھا میں کہا تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد این ڈی اے کے برسراقتدار آنے کے بعد کم ہوگیا ہے۔ این ڈی اے میعاد کے دوران گذشتہ 20 ماہ کے دوران جنوری 2016ء تک اس کے گذشتہ 20 ماہ کے فرقہ وارانہ واقعات یو پی اے دورحکومت میں 1222 تھے جو اسی مدت کے دوران پیش آئے تھے۔ تاہم 2013ء میں یو پی اے اقتدار کے دوران بڑی شدت کے فرقہ وارانہ تشدد کے اعداد و شمار مظفرنگر فسادات سے حاصل ہوئے جس کی وجہ سے یو پی میں 247 واقعات اس سال پیش آئے۔ سماج و ادی پارٹی حکومت برائے یوپی نے بی جے پی پر اس کا الزام عائد کیا ہے۔

زخمی ہونے والے افراد فسادات کے دوران 2015ء میں 2,264 تھی۔ اس تعداد سے ظاہر ہوتا ہیکہ بی جے پی زیراقتدار مدھیہ پردیش میں 54 فیصد اضافہ فرقہ وارانہ واقعات میں 2015ء میں گذشتہ کانگریس زیراقتدار کرناٹک کی بنسبت ریکارڈ کیا گیا۔ کرناٹک سے 105 واقعات کی اطلاع ملی تھی جو 2014ء میں 73 تھی یعنی 64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 155 واقعات اور 22 ہلاکتوں کی ملک گیر سطح پر اطلاع ہے۔ بہار میں 2015ء میں 20 ہلاکتیں فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے واقع ہوئیں۔ ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد میں چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بی جے پی زیراقتدار گجرات اور راجستھان میں 2014ء سے اعداد و شمار میں انحطاط دیکھا گیا۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی ریاست نے نظم و نسق عامہ اور پولیس ریاستی موضوعات ہیں۔ فرقہ وارانہ تشدد سے نمٹنے، ان کے رجسٹریشن، تحقیقات اور تفتیش کے علاوہ مقدمہ دائر کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ریاستی حکومت پر ہی ان اعداد و شمار کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT