Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / فرقہ پرستوں کے منہ پر ہندو خاتون ٹیچر کا زور دار طمانچہ

فرقہ پرستوں کے منہ پر ہندو خاتون ٹیچر کا زور دار طمانچہ

مسلم طالب علم کی فیس ادا کرنے زیورات رہن رکھدئیے
فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے سری دیوی کی ستائش،جناب عامر علی خاں کے ہاتھوں نقد انعام کی پیشکشی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جون : ( محمد ریاض احمد ) : ایک ایسے وقت جب کہ فرقہ پرست انسانوں کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر بانٹنے کی کوشش میں مصروف ہیں ، جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو ذبح کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اپنے حقیر سیاسی مفادات کی خاطر ملک کو تباہی و بربادی کی سمت ڈھکیلنے کو ترجیح دی جاری ہے ۔ ایسے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو انسانیت کی شمع روشن کیے ۔ عداوتوں اور جہالت کی تاریکی کو مٹانے کا کام کررہے ہیں ۔ ایسے ہی انسانیت دوست لوگوں میں مولا علی کی رہنے والی ایک اسکول ٹیچر مسز سری دیوی بھی شامل ہیں ۔ بلا لحاظ مذہب و ملت ذات پات و رنگ و نسل طلبہ کو زیور علم سے آراستہ کرنے والی اس خاتون ٹیچر نے ایسا کام کیا ہے جو بلا شک و شبہ فرقہ پرستوں اور ان کے آقاؤں کے بد نما چہروں پر ایک زور دار طمانچہ ہے ۔ مسز سری دیوی نے اپنے ایک غریب طالب علم کو بھونس کالج میں داخلہ دلانے کے لیے اپنے زیور رہن رکھدئیے اس طرح انہوں نے ایک مسلم لڑکے کے لیے ایک سال کی فیس کا انتظام کیا ۔ اس خاتون کی خداترسی رحمدلی اور انسانیت نوازی سے متاثر ہوکر ہیلپنگ ہینڈ نے ان کی زبردست ستائش کرتے ہوئے 14 ہزار روپئے بطور تحفہ پیش کیے ۔ دفتر سیاست میں منعقدہ ایک مختصر لیکن پر اثر تقریب میں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کے ہاتھوں سری دیوی کو یہ رقم حوالے کی گئی اور ساتھ ہی ان کی شال پوشی بھی کی گئی ۔ اس موقع پر سکریٹری و ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور منیجنگ ٹرسٹی ہیلپنگ ہینڈ ڈاکٹر شوکت علی مرزا بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈ ملت میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے سیاست کے تعاون و اشتراک سے کام کررہے ہیں ۔ ہیلپنگ ہینڈ نے شہر کے مختلف مقامات پر غریب بچوں کی تعلیم کے لیے مراکز کھول رکھے ہیں جس کے بہتر نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے بتایا کہ مولا علی کے رہنے والے ایک مسلم آٹو ڈرائیور کے بڑے بیٹے کو بھونس کالج کے انٹر میڈیٹ کورس میں داخلہ کے لیے ہیلپنگ ہینڈ نے 11500 روپئے بطور امداد پیش کی تھی ۔ اب وہ لڑکا انٹر میڈیٹ سال دوم میں زیر تعلیم ہے اس لڑکے کے ایک اور بھائی کو انٹر میڈیٹ سال اول میں داخلہ کے لیے ان کے والدین کے رجوع ہونے پر یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی گئی کہ پہلے ہی گھر کے ایک لڑکے کی مدد کی جارہی ہے ایسے میں دوسرے لڑکے کی مزید 23 ہزار روپئے سے مدد کرنا ممکن نہیں ۔ اس لڑکے کے والدین کو اپنے لڑکے کا کسی اور کالج میں داخلہ دلانے کا بھی مشورہ دیا گیا ۔ اگرچہ ان طلباء کے والدین خاموشی سے واپس ہوگئے لیکن دوسرے دن ان کی والدہ 20 ہزار روپئے لیے واپس آئیں ۔ تعجب ہوا کہ ایک آٹو ڈرائیور نے کس طرح صرف ایک دن میں 20 ہزار روپیوں کا انتظام کرلیا ہے ۔ تاہم اس انکشاف پر ڈاکٹر شوکت علی مرزا چونک پڑے کہ ایک ہندو خاتون ٹیچر نے اپنے زیورات رہن رکھ کر اس رقم کا بندوبست کیا ہے ۔ مسز سری دیوی ان مسلم طلباء کے والدین کی مزید مدد کرنے کی خواہاں تھیں لیکن ان کے پاس ان زیورات کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ ایک ہندو ٹیچر کے اس جذبہ انسانیت سے متاثر ہو کر جناب افتخار حسین سکریٹری فیض عام ٹرسٹ ، ڈاکٹر شوکت علی مرزا اور ٹرسٹی ہیلپنگ ہینڈ جناب ذکی عباس ناصر نے دونوں لڑکوں کی سالانہ فی کس 23 ہزار روپئے فیس ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کی ۔ ساتھ ہی فوری طور پر مسز سری دیوی کے زیورات بھی 27 ہزار روپئے ادا کرتے ہوئے چھڑالیے ۔ بہر حال مسز سری دیوی نے جذبہ انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاں قومی یکجہتی کی بہترین مثال قائم کی وہیں ۔ حصول علم کی اہمیت کو واضح کیا ۔ انہوں نے ایسے مثالی اقدام سے بتایا کہ علم ہی ہے جس کے ذریعہ انسان حقیقت میں انسان بنتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT