Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / … فرقہ پرستی کے ماحول میں مثالی واقعہ … نازیہ نے ہندو لڑکی کو اغوا کاروں سے بچایا

… فرقہ پرستی کے ماحول میں مثالی واقعہ … نازیہ نے ہندو لڑکی کو اغوا کاروں سے بچایا

آگرہ ، 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے شہر آگرہ میں وی ایچ پی لیڈر ارون ماہور کے قتل کے پیش نظر فرقہ وارانہ طور پر کشیدہ ماحول میں ایک مثالی واقعہ سامنے آیا ، جس سے دونوں برادریوں کو سبق سیکھنے اور خوشی منانے کی ضرورت ہے۔ 15 سالہ طالبہ نازیہ کو اس ہفتے کے اوائل چیف منسٹر یو پی اکھلیش یادو نے رانی لکشمی بائی بہادری ایوارڈ عطا کیا کیونکہ اُس نے ایک ہندو لڑکی کو اغوا کاروں سے بچایا ہے۔ اس ایوارڈ کے ساتھ ایک لاکھ روپئے کا چیک بھی دیا جاتا ہے۔ یہ گزشتہ 7 اگسٹ کی دوپہر کا وقت تھا جب صغیر فاطمہ محمدیہ گرلز انٹر کالج کی طالبہ نازیہ اپنے گھر واپس ہورہی تھی کہ اُس نے ایک لڑکی  کو مدد کیلئے چیختے سُنا، جسے دو نوجوان زبردستی موٹرسائیکل پر بٹھا کر اغوا کی کوشش کررہے تھے۔ نازیہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ڈمپی کی مدد کیلئے آگے بڑھی اور کسی طرح اسے اغواکاروں کی گرفت سے چھڑا لیا، جو فوری وہاں سے فرار ہوگئے۔ نازیہ کو بعد میں معلوم ہوا کہ ڈمپی اسکول میں اُس کی جونیر تھی۔ ڈمپی کے والدین نازیہ کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھتے ہیں اور اس کے بہت ممنون و مشکور ہیں۔ ڈمپی نے جو نازیہ کو ’دیدی‘ کہتی ہے، ایوارڈ ملنے پر اپنے ردعمل میں کہا: ’’اگر دیدی اُس دن نہ ہوتی تو وہ لوگ مجھے لے جاتے۔‘‘

TOPPOPULARRECENT