Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے ،اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کا اتحاد ناگزیر

فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے ،اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کا اتحاد ناگزیر

اردو مسکن میں تنظیم آواز کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار سے تیستا سیتلواد اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔17مئی(سیاست نیوز) قومی سطح پر مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کے ذمہ دار فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ وہ مسلم قیادتیں بھی ہیں جو مسلمانوں کا صرف اشتعال انگیزی کے لئے استعمال کرتی ہیںجبکہ مسلم قیادتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں چوکنا کریںاور ان خطرات سے جمہوری انداز میںنمٹنے کے طریقہ کار سے انہیںواقف کرائیں۔مگر ایسا نہیں کیاجارہا ہے جس کی وجہہ سے ہندوستان میںمسلمانوں کو درپیش خطرات میں روزبہ روز اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ مسلمانوں کی دستوری اور انسانی حقوق سے واقفیت ضروری ہے تاکہ دستورکی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف جدوجہد میںہمیں مدد مل سکے۔ قومی شہرت یافتہ سماجی جہدکار وگجرات فسادات کے خلاف شروع کی گئی تحریک کی محرک محترمہ تیستا ستلواد نے حیدرآباد کے پرانے شہر میںتنظیم آواز کے زیراہتمام منعقدہ فرقہ پرست سیاست ‘ اور اقلیتوں کے حقوق کے عنوان پر منعقدہ سمینار سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کررہی تھیں۔ اُردو مسکن خلوت میںمنعقدہ مذکورہ سمینار سے تنظیم آوازتلنگانہ کے ریاستی صدر ایم اے غیاث‘ گریٹر حیدرآباد صدرمحمد عباس‘ جناب عبدالقدوس غوری ایڈوکیٹ‘ جناب نعیم اللہ شریف کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ سمینار کی کاروائی ایم اے ستار نے چلائی ۔اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے تیستاستلواد نے کہاکہ ا س ملک کا جمہوری نظام اس قدر طاقتور ہے کہ ایک وہ شخص جس پر قتل وغارت گری کا الزام ہے اور اس کی سوچ دستور ہند کے خلاف ہے ایسے شخص کو بھی یہاں پر چیف منسٹر سے وزیراعظم بننے کاموقع فراہم کیاجاتا ہے۔ تیستا سیتلواد نے کہاکہ مسلمانوںاور دیگر پسماندہ طبقات کو سب سے پہلے دستور اور انسانی حقوق کی اہمیت او ر افادیت سے واقفیت حاصل کرنا کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب تک ہم اس کی اہمیت اورافادیت کو نہیںسمجھیں گے تب تک فرقہ پرست طاقتیں ہمارے استحصال میںکامیاب ہوتی رہیں گی۔ تیستا سیتلواد نے کہاکہ ہندوستان کی آزادی سے عین قبل ملک کی تقسیم کے دوران پرتشدد اوربڑے پیمانے پر خون ریزی کے بعد دو ملک وجود میںآئے ایک بنا پاکستان جو مذہب کی بنیاد پر قائم کیاگیا اور دوسرا ہندوستان جو سکیولرزم کی بنیاد پر قائم کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کا بڑاتعاون رہا۔ انہوں نے کہاکہ جنگ آزادی میںشامل دائیںاور بائیں بازو نظریات کے تمام قائدین نے ایک رائے کے ذریعہ سکیولر ہندوستان قائم کرنے کا فیصلہ کیا جہاں پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ہر زاویہ سے مکمل آزادی فراہم کی گئی ۔تیستا نے کہاکہ مگر اس میںایک ایسا طبقے بھی تھا جو ہندوستان کو بھی مذہب کی بنیاد پر قائم کرتے ہوئے ہندوراشٹربنانے کی خواہش مند تھا ۔

 

انہوں نے کہاکہ اس طبقے نے نہ تو جنگ آزادی میںحصہ لیا اور نہ ہی دستور ہند کو قبول کیا بلکہ تاریخ اس بات کی گواہی دیگی مذکورہ طبقہ جس کو آرایس ایس یا پھر ہندومہاسبھا کہاجاتا ہے انگریزوں کی ساتھ ملکر آزادی کی جدوجہد میںرکاوٹیںکھڑا کرنے کاکام کرتے رہے ۔ تیستا سیتلواد نے کہاکہ پچھلے 95سالوں میںہندومہاسبھا اور آر ایس ایس نے گائوںسے لیکر شہر تک اورخواتین سے لیکر نوجوانوں تک فرقہ پرستی کا زہر گھولنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے کہاکہ اس کی بڑی وجہہ پسماندہ طبقات کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی بھی ہے۔ تیستا نے کہاکہ 55فیصد لوگ آج بھی بنیادی تعلیم سے تک محروم ہیں اور حکومتیں تعلیمی ڈھانچے کوہی تبدیل کرنے کی سازش کررہی ہے جس کی وجہہ سے آنے والے دنوں میںپسماندگی کاشکار طبقات کے لئے تعلیم کا حصول اور بھی دشوار کن بن جائے گا۔تیستا نے کہاکہ مسلمانوں او ر دلت طبقات کی نمائندگی کرنے والوں قیادتوں نے کبھی بھی اپنے طبقات کی تعلیم کی طرف توجہہ مبذول نہیںکروائی کیوں کہ انہیںاس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ اگر یہ قومیں تعلیمی طور پر مستحکم ہوگئیں تو ان سیاسی قائدین اور پارٹیوں کی دال روٹی بند ہوجائے گی۔ تیستا ستلواد نے جب تک پسماندگی کاشکار طبقات میںشعور بیدار نہیںہوگا تب تک وہ اندرونی او ربیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے اس موقع پر گجرات فسادات کے بعد کے حالات کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہاکہ گجرات کے دوہزار گائوں میںفرقہ وارانہ تشدد برپا کیاگیا ‘ مسلمانوں کی املاک لوٹے گئے اور مسلمانوں کا قتل کیاگیامگرمظلوموں میںشعور بیداری کے بعد جب ہم نے گجرات فسادات کے متاثرین کے ساتھ انصاف کی شروعات کی تب سے لیکر آج تک 570گواہ ایسے ہیں جو آج بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور انصاف کی پوری امید ہے۔تیستاستلواد نے اس موقع پر روہت ویملو کا بھی ذکر کیا اور کہاکہ مرکزی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہہ سے ایک قابل اور ہونہار طلب علم کی موت واقعہ ہوئی ہے اور آج بھی اس کی ماں گائوں گائو ں گھوم کر اپنے بیٹے کے لئے انصاف مانگ رہی ہے ۔ انہوں نے پہلو خان اور ملک بھر میںگائے کی حفاظت کے نام پر ہونے والی قتل وغارت گری کو فرقہ پرست طاقتوں کی نئی سازش قراردیا، جس کے ذریعہ وہ نہ صرف اقلیتوں او ردلتوں میں خوف ودہشت کاماحول پید اکرنے کی کوشش کررہے ہیںبلکہ گوشت کی درآمد سے لیکر زراعت تک اعلی ذات والوں کے اجارہ داری کی راہیں ہموار کرنے کی ایک بڑی سازش ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے ساتھ کارپوریٹ طبقے کے لوگ بیرونی دورے پر سفر کررہے ہیں۔ تیستا نے کہاکہ جب کبھی مودی بنگلہ دیش ‘ افغانستان یا پھر دیگر ممالک کا دورہ کرتے ہیں ان کے ساتھ امبانی اور اڈانی جیسے صنعت کار ضرورموجود رہتے ہیں۔انہو ںنے کہاکہ واپسی کے بعد دورے کی کامیابی کے جشن کے دوران اس بات کی خبر ہمیںملتی ہے اس دورے سے امبانی اور اڈانی جیسے صنعتی گھرانوں کو 450کروڑ کا فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کی موجودہ بی جے پی نے حکمرانی کے نظریہ کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حالات پر قابو پانے اور فرقہ پرست طاقتوں کوشکست فاش دینے کیلئے اقلیتوں اورپسماندہ طبقات کا اتحاد ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بہار میںاقلیتیں اور دلت متحد ہوئے اور ایک سکیولر طاقتوں کو ایک بڑی کامیابی ملی جبکہ اترپردیش میںہم منقسم ہوگئے تب ہمیں شکست کا سامنا کرناپڑا۔ تیستا نے اترپردیش میںبی جے پی کی کامیابی کو جادوئی قراردینے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ یوپی میں سکیولر جماعتوں کے عدم اتفاق نے فرقہ پرست بی جے پی کو ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ تیستا نے کہاکہ اترپردیش کے 406سیٹوں میں سے جہاں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوان اسمبلی میںاپنی اکثریت ثابت کی ہے ان سیٹوں کا ہماری ٹیم نے جائزہ لیاتو ہمیں اس بات کا پتہ چلاکہ80سے 90فیصد سیٹیں ایسی ہیںجہاں پر یا تو بی ایس پی دوسرے نمبر ہے یا پھر ایس پی دوسرے نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر مذکورہ سیاسی جماعتیں متحدہوکر یوپی انتخابات میںحصہ لیتی تو یقینی طور پر بی جے پی تیسرے نمبر پہنچ جاتی تھی۔ انہوں نے کہاکہ سکیولر ذہن کی سیاسی جماعتوں اور تنظیموںکو متحدکرنے کی ذمہ داری اب ہم پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امن پسند شہریوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کو اس کام کا بیڑہ اٹھانا چاہیئے جن کے بچے یاتودہشت گرد یاپھر مائوسٹ کے نام پر ماردئے جاتے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں اور دلت کے درمیان میں دستوری اور انسانی حقوق کے متعلق شعور بیداری مہم چلاتے ہوئے سب سے پہلے انہیں بطور شہری اپنی جدوجہد کی شروعات کرنے چاہئے۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر مذہب کی بنیاد پر ہم جدوجہد کی شروعات کریںگے تو فرقہ پرست طاقتیں اپنے منصوبوں میںکامیاب ہوجائیں گی۔

 

 

TOPPOPULARRECENT