Tuesday , June 27 2017
Home / ہندوستان / فرقہ پرست ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کا تیقن

فرقہ پرست ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کا تیقن

راجیہ سبھا میں سماج وادی پارٹی قائد جاوید علی خان کا کارروائی کا مطالہ، کورین کا تیقن
نئی دہلی۔12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ذرائع ابلاغ کو اتنی زیادہ آزادی حاصل نہیں ہونی چاہئے کہ وہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا شروع کردیں۔ حکومت نے آج راجیہ سبھا میں تیقن دیا کہ اترپردیش کے ایک ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وقفہ صفر کے دوران سماج وادی پارٹی قائد جاوید علی خان نے حکومت سے جاننا چاہا کہ اس نے ٹی وی چینل پر امتناع عائد کیوں نہیں کیا جو یو پی کے ضلع سنبھل میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایک ایسا چینل بھی ہے جو گزشتہ 12 سال سے سنبھل کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اتحاد اور امن کو نشانہ بنارہا ہے۔ ایسے پروگرام باقاعدہ پیش کئے جارہے ہیں جن کا عنوان ہے ’’سنبھل دہشت گردی کا مقام، سنبھل جہادیوں کا مقام، سنبھل مسلمانوں کے زیر اقتدار اور سنبھل میں راون کی حکومت ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ چینل نے اعلان کیا ہے کہ وہ سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کا 13 اپریل کو دورہ کرے گا اور اس جل ابھیشیک (ہندو مذہبی تقریب میں جس میں اس انسان کو پانی کے ذریعہ پاک کیا جاتا ہے) کرے گا۔ یہ ہندوئوں کو اس مقام پر پہنچنے کے لیے اکسانے کی کوشش ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہاں مسجد کے اندر ایک ہندو عبادت گاہ تھی۔ جاوید علی خان نے کہا کہ لوگ چینل کے نام پر الجھن زدہ ہیں اس کا اینکر جس قسم کی زبان استعمال کرتا ہے اور اس کے سی ایم ڈی جو لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں وہ سڑکوں پر بولی جانے والی زبان ہے۔ یہ چینل سنبھل میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت خاموش کیوں ہے جبکہ یہ چینل اس قسم کے پروگرام چلا رہا ہے۔ حکومت اس چینل پر امتناع عائد کیوں نہیں کرتی۔ اس مسئلہ کے بارے میں تحقیقات کیوں نہیں کی جاتی۔ سنبھل ماضی میں فرقہ وارانہ واقعات کی وجہ سے ایک داغ رہ چکا ہے۔ اسے 1978ء کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کا مرکز نہیں سمجھا جاتا تھا کیوں کہ ہندوئوں اور مسلمانوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ایسے واقعات میں ملوث نہیں ہوں گے اور امن کے ساتھ زندگی بسر کریں گے۔ سماج وادی پارٹی قائد نے کہا کہ اپوزیشن کے ارکان اس مسئلہ سے مربوط ہیں۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے۔ وہ فرقہ وارانہ عدم ہم آہنگی پھیلا نہیں سکتے۔ حکومت کو اس کی نگرانی کرنی چاہئے۔ ارکان کی فکر مندی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ہم کسی کو بھی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی ضروری ہے لیکن اسے ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ پرستی پھیلانے کی آزادی نہیں دینی چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT