Saturday , March 25 2017
Home / مضامین / فریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلے

فریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلے

محمد مصطفیٰ علی سروری
ہر برس کی طرح اس برس بھی اقوام متحدہ کے ذ یلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کی جانب سے 21 فروری 2017 ء کو عالمی یوم مادری زبان منایا گیا۔ عالمی سطح پر ہی نہیں قومی اور بین ریاستی سطح پر بھی یوم مادری زبان کی مناسبت سے مختلف پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔
ہندوستان کے سبھی مسلمانوں کی نہیں لیکن بیشتر مسلمانوںکی مادری زبان اردو ہے ، اردو سے مسلمانوں کا یعنی مسلمانوں کا اپنی مادری زبان سے تعلق کیسا ہے ، اس کا جائزہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔
جب اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے عالمی یوم مادری زبان منایا جارہا ہے ۔ یقیناً اس کے پس پشت کچھ نہ کچھ خصوصی عوامل کارفرما ہوں گے ۔ یونیسف کے مطابق عالمی یوم مادری زبان منانے کا مقصد لسانی (زبانی) اور تہذیبی کثرت اور کثیر لسانی نظر یہ کو فروغ دینا ہے۔ یونیسف سال 2000 ء سے مسلسل 21 فروری کے دن عالمی یوم مادری زبان مناتا آرہا ہے ۔ ادارے کے مطابق اس دن کو منانے کا مقصد مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان امن و بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے ۔
یونیسف کے مطابق دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر فرد کو اس کی اپنی مادری زبان میں تعلیم کا موقع فراہم کیا جائے ۔ عالمی سطح پر یونیسکو ، EFA گلوبل مانٹرینگ رپورٹس کے مطابق اسکولنگ کے آغاز میں طلبہ کو مادری زبان میں تعلیم کی فراہمی ان کیلئے بہترین تعلیمی سفر کی راہیں ہموار کرتی ہے ۔ یونیسکو صرف مادری زبان میں تعلیم کی وکالت نہیں کرتا بلکہ دنیا بھر کے ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنا تعلیمی نظام سہ لسانی خطوط پر استوار کریں۔ اول تو ہر بچے کواس کی مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہئے ۔ زبان دوم کے طور پر قومی یا صوبائی زبان اور انگلش بطور عالمی زبان کے ہر طالب علم کو سکھائی جانی چاہئے ۔ یہ تو اقوام متحدہ کے ادارے کے نظریات تھے ، اگر اس پیمانے کی بنیادوں پر ہم مسلمانوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو ان کے لئے ایک عجیب سی صورتحال درپیش ہے ۔ شمالی ہند اترپردیش ، بہار ، جھارکھنڈ کے علاوہ مدھیہ پردیش کے مسلمان اب ہندی کو اپنی مادری زبان تسلیم کرتے ہیں اور ان ریاستوں کے مسلمانوں میں ہندی میڈیم سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا عام بات ہے ۔

مہاراشٹرا ، کرناٹک ، آندھراپردیش و تلنگانہ کے مسلمان اردو کو اگرچہ اپنی مادری زبان تسلیم کرتے ہیں لیکن مہاراشٹرا کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بچوں کو اردو میں تعلیم دلوانے سے گریز کرتے ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میڈیکل کالجس میں داخلوں کیلئے کل ہند (آل انڈیا ایگزام) میں اردو کی شمولیت کیلئے جتنی سرگرمی کے ساتھ مہاراشٹرا سے تحریک اٹھی ہے اسکے مقابل میں آندھراپردیش ، تلنگانہ اور کرناٹک میں اس حوالے سے خاموشی ہے کیونکہ اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی سب سے بڑی تعداد اور اردو میڈیم کے اسکولس کا سب سے موثر نیٹ ورک مہاراشٹرا میں ہی ہے اور اس کا واضح سبب بھی ہے کہ اب ان ریاستوں کے مسلمان بھی اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان یعنی اردو میں تعلیم نہیں دلوا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جس زبان کو جنوبی ہند کی ان ریاستوں میں مسلمان اپنی مادری زبان کہہ رہے ، اس میں کوئی تعلیم حاصل نہیں کر رہا ہے یا بہت کم مسلمان اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دلوا رہے ہیں۔ کیا یہ تشویش ناک رجحان ہے اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج ڈگری کالج کہتے ہیں کہ ہاں یہ ایک تشویش کی بات ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم نہیں دلوا رہے ہیںاور اگر مسلمان اپنے بچوں کو ار دو میں تعلیم دلوائے ہوتے تو آج ان کیلئے ایم بی بی ایس میں داخلوں کے لئے اردو میں امتحان لکھنے کی سہولت میسر آتی ؟
مسلمانوں کو ان کی اپنی مادری زبان سے جوڑنے کیلئے کیا کیا جانا چاہئے ۔ اس سوال پر ڈاکٹر اسلم فاروقی کہتے ہیں کہ میں اردو کا استاد ہونے کے ناطے دوسروں کوکیا کرنا چاہئے، نہیں کہوں گا ہاں اس برس 21 فروری کو میں نے اپنے کالج کے طلبہ کے ساتھ یوم مادری زبان کے موقع پر ایک ماہ طویل اردو تعارفی مہم شروع کی ہے جس کیلئے ہم نے فون میں اردو گھر گھر  میں اردو کا نعرہ لگایا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل کو اردو سے جوڑنا بہت ضروری ہے اور اس ضروری کام میں فون ایک موثر آلہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ کیا اکیسویں صدی کے اس آئی ٹی دور میں لوگوں کوان کی مادری زبان اردو سے جڑنے کی ترغیب دلانا ٹھیک ہے ۔ اس سوال پر ڈاکٹر اسلم فاروقی کہتے ہیں کہ مادری زبان کی اہمیت اس لئے تسلیم کی جائے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے اور تبھی تو ہر سال 21 فروری کو عالمی یوم مادری زبان منانے کی وکالت کرتا ہے ۔

سید سیف اللہ باشاہ گورنمنٹ ڈگری کالج بناگانہ پلی ضلع کرنول میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، عالمی یوم مادری زبان کے پس منظر میں ان کا کہنا  ہے کہ مسلمانوں کو اپنی مادری زبان سے رشتہ دوبارہ استوار کرنا ہوگا کیونکہ زبان تنہا نہیں ہوتی وہ ایک تہذیب اور تمدن کا جز ہے ، ان کے مطابق اردو زبان سے دوری کے سبب مسلمان نوجوان نہ صرف اردو کے روزگار کے مواقعوں سے محروم ہورہے ہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات سے بھی دور ہورہے ہیں۔ اردو سے دوری کیسے اسلام سے دوری کا سبب بن سکتی ہے، اس سوال پر سیف اللہ باشاہ نے بتلایا کہ عربی کے بعد اگر کسی زبان میں اسلام کا بہت سارا لٹریچر موجود ہے تو وہ کسی اور ہندوستانی زبان میں نہیں بلکہ صرف اور صرف اردو میں ہے ۔ اس طرح اردو سے ناواقفیت مسلمانوں کو نہ صرف ان کی مادری زبان سے ناواقف بنارہی ہے بلکہ دین اسلام سے دوری کا سبب بن رہی ہے ۔
آندھراپردیش یوتھ ویلفیر اسوسی ایشن وجئے واڑہ کے نوجوانوں کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے ۔ محمد فاروقی شبلی اس تنظیم کے صدر ہیں۔ مسلمانوں کی اپنی مادری زبان سے دوری کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ آندھرا کا مسلمان ایک عجیب مخمصہ کا شکار ہے ، وہ اپنے گھر میں اردو بولتا ہے ۔ اردو کو اپنے مذہب کی زبان بھی قرار دیتا ہے مگر اردو سے اس کا رشتہ کمزور  ہے وہ مسجد کے اردو خطبے بھی نہیں سمجھ سکتا ہے ۔ یہاں تک اردو رسم الخط سے بھی کم ہی واقف ہے ۔ محمد فاروق شبلی کے مطابق وجئے واڑہ شہر کے اطراف و اکناف کے گاؤں و دیہات میں تو مسلمانوں کی مادری زبان تلگو ہے، وہاں کے مسلمان تلگو اور انگلش میڈیم سے پڑھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی مساجد میں خطبات بھی تلگو میں ہوتے ہیں ۔
مذہب سے قطع نظر اردو جس کسی کی بھی مادری زبان ہے ، اس کو اپنی زبان سے بے حد پیار ہے ۔ 23 فروری 2017 ء کو اخبار انڈین اکسپریس نے پنجاب کے شہر لدھیانہ سے ایک خبر شائع کی ۔ خبر کے مطابق پنجابی بھون لدھیانہ میں اردو کے ایک استاد ہیں جن کا نام پریم سنگھ بجاج ہے (86) سالہ پریم سنگھ اردو پڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ کالج کے پرنسپل تھے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد گزشتہ 20 برسوں سے وہ دیوانوں کی طرح اردو پڑھارہے ہیں۔ یہ ان کی اردو سے دیوانگی ہی تو ہے کہ وہ اردو پڑھانے کا کا کام کر رہے ہیں ورنہ ڈھائی ہزار میں کون اردو پڑھانے کا کام کرے گا ۔ آخر پریم سنگھ کیوں (86) برس کی عمر میں اردو کا کام کر رہے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اردو میری مادری زبان ہے ۔ پاکستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آنے والے اس سردار جی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کی تھی اور میں اپنی زندگی کے اس عرصہ کو سب سے خوشگوار مانتا ہوں۔

اب مسلمانوں کی مادری زبان کیا ہے ؟ یہ سوچنا ہوگا ۔ اردو انجمنوں اداروں کی اپیل پر مسلمان بڑی شدت کے ساتھ حکومتی سروے اور مردم شماری کے وقت اپنی مادری زبان کے طور پر اردو تو تحریر کروادیتے ہیں مگر یہ کیسی مادری زبان ہے جس کو مسلمان بول تو لیتا ہے مگر نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ لکھ سکتا ہے ۔ ڈاکٹر اسلم فاروقی کہتے ہیں کہ اردو کے حوالے سے روزگار سے جڑے ہونے کے ناطے وہ اردو کے فروغ کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق انہوں نے ایک ماہی مہم شروع کی ہے ۔ اپنی مہم کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ مسلمان اگر اپنی مادری زبان اردو کو مانتا ہے تو اردو رسم الخط سے اس کی واقفیت بھی ہونی چاہئے ۔
سید سیف اللہ باشاہ اگرچہ آندھراپردیش میں ڈگری کالج کے استاد ہیں مگران کے خیال میں تلنگانہ میں جو نئے اقامتی اسکولس کا جال پھیلایا جارہا ہے ، اس سے خدشات بڑھ گئے کہ اب تک جو  غریب بھی اردو پڑھتا تھا وہ بھی اب نئے انگلش میڈیم اسکولس کا رخ کرے گا ۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ ان اسکولس میں بھی اردو ایک لازمی زبان ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ نئے اسکولس کے آغاز سے اردو ٹیچرس کی وہ جائیدادیں تو خطرے میں پڑ جائے گی جو اردو میڈیم اسکولس میں مخلوعہ اور بھرتی کی ہوئی ہیں یعنی اردو سے جڑے روزگار کے مواقع کم ہوجائیں گے۔ بہرحال زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ آج مسلمان اپنی مادری زبان سے دور ہوکر اس حالت میں آچکا ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کیلئے بھی رومن میں لکھی قرآن مجید کا نسخہ تلاش کر رہا ہے ۔ NEET کا امتحان اگر اردو میں لکھنے کی اجازت بھی مل جائے تو کتنے طلباء ہیں جو اس سنہری موقع کا فائدہ اٹھاسکیں۔ اردو کے ہمدردوں ، دانشوروں ، اساتذہ اور قلم کاروں کیلئے یہ ایک لمحہ فکر ہے ۔ بقول شاعر
فریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT