Thursday , October 19 2017
Home / مذہبی خبریں / فریضہ صوم، بدن، قلب اور نفس کی اصلاح کا باعث ، روزہ روح کو لطافت و بالیدگی عطا کرتا ہے

فریضہ صوم، بدن، قلب اور نفس کی اصلاح کا باعث ، روزہ روح کو لطافت و بالیدگی عطا کرتا ہے

مسجد سیدہ فاطمہؓ زہرا، جھرہ اور حمیدیہ میں ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کے ’’حضرت تاج العرفاء ؒیادگار خطابات‘‘
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( پریس نوٹ ) : ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے کہا کہ قرآن حکیم نے تقویٰ و تشکر کو غایت روزہ قرار دیا ہے۔ اکل و شرب و جماع سے معین وقت میں اجتناب اور پرہیز کی حقیقت کے ساتھ تمام ظاہر اور پوشیدہ برائیوں اور گناہوں سے احتراز اور دوری اختیار کرکے جملہ خوبیوں اور نیکیوں سے آراستہ اور ہمکنار ہو جانا اس عبادت کی معنویت کو پورا کرتا ہے گناہ جہنم کی آگ میں پہنچا نے کا ذریعہ ہے۔ نفس گناہ پر اکساتا ہے کھانے پینے میں زیادتی، خواہشات و لذات کی چاہت میں شدت اور ان میں پھنسے رہنا گویا نفس کو قوی کرنا ہے روزہ نفس کی اس قوت کو توڑنے کا بہترین طریقہ ہے جب نفس کمزور ہوگا تو گناہ کی طرف میلان اور توجہ کم ہوگی بلکہ گناہ کی رغبت ختم ہو جاے گی۔ یہ بات دوزخ کی آگ سے بچانے کا ایک سبب ہے اور تقویٰ سے مالا مال کر دینے کا موجب ہوگی اس طرح روزہ کے مقصد کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ روزہ صحت جسمانی ،بدن کی درستی، قلب کی صفائی ، نفس کی اصلاح اور روح کے لئے سامان لطافت مہیا کرنے کا بہترین وسیلہ ہے اور یہ حقیقت ہے کہ روح کا معالج و مصلح فریضہ صوم ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوے ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے بعد نماز ظہر مسجد سیدہ فاطمہ زہراؓ، جھرہ، آصف نگر روڈ اور بعد نماز عصر حمیدیہ،شرفی چمن ،سبزی منڈی قدیم میں روزہ دارمصلیوں کے اجتماعات سے خطاب کا شرف حاصل کیا۔ اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) اور انتظامیہ مساجد کے تعاون سے منعقدہ بیسویں سالانہ حضرت تاج العرفاء سیف شرفی ؒ یادگار خطابات کے اجلاسوںکا آغازقراء ت کلام پاک سے ہوا۔ انھوں نے احادیث شریف کے مفہومات پیش کرتے ہوے کہا کہ روزہ اکثر گناہوں سے انسان کی حفاظت کرتا ہے اور خود گناہوں کا کفارہ بھی بن جاتا ہے۔ انسان کو کمال و ترقی، صبر و ضبط،پاک طینتی اور ملکوتی اوصاف سے متصف کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روزہ ظاہری گناہوں اور باطنی برائیوں ہر ایک کو دور کرنے کے لئے ایسی مشق ہے جس کی عادت سال بھر بر قرار رکھی جاکر پرہیزگاروں میں شامل رہنا نہایت سہل ہو جاتا ہے۔ صرف ایک ماہ کے روزوں کے دوران روح و جسم دونوں کی ایسی تربیت ہو جاتی ہے کہ اگر نیک باتوں کی جانب رغبت جسے تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے سال بھر قائم رہے تو بندہ کا صلحاء و مقربین میں شمار ہونے لگتاہے۔ روزہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ بندہ اپنے خالق و پروردگار کا اس قدر چاہنے والا، عشق حقیقی کا حامل اور مطیع و فرمانبردار ہے کہ محض اس کے حکم کی تعمیل میں ماہ رمضان میں ہر دن معین وقت کے دوران حلال اور جائز امور سے بھی اپنے آپ کو روک لیتا ہے تو پھر اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو ہمیشہ کے لئے حرام اور جن امور کو دائمی طور پر ممنوع قرار دیا ہے ان سے اپنے کو روک نہ سکے بلکہ یہ بھی اسی طرح سہل اور آسان ہے جس طرح اوقات صوم میں اکل و شرب وجماع سے جذبہ ایمان کے ساتھ رک جانا اور محترز رہنا ہے۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی نے کہا کہ ماہ رمضان کے دوران مساجد میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی کے لئے مصلیوں کی کثیر تعداد قلب و روح کو مسرور و شادماں کرتی ہے اور اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ فریضہ نماز پنجوقتہ باجماعت ادا کرنے کے سلسلہ میں یہ اجتماعی ذوق عبادت اور التزام جماعت کا مبارک جذبہ یونہی جاری و ساری باقی و بر قرار رہے گا مسجدوں کی آبادی ہماری سلامتی اور آباد رہنے کی ضامن ہے۔ مسلمانوں کی شناخت ان کے دین اور احکام دین پر عمل پیرائی کے ساتھ ہے۔ رمضان مبارک میں عبادات، تقویٰ و پرہیزگاری، فرائض و حقوق کی تکمیل، عمدہ معاملات، اعلیٰ اخلاقی مظاہر، سچی دینداری، صلوۃ و صوم، فریضۃ زکوٰۃ کی ادائیگی، خیرات و صدقات، غمگساری و دلداری، نیکی و بھلائی اور زہد و ورع نے مسلم معاشرہ کو انوار صالحیت سے تابناک و قابل احترام خصوصیتوں سے ہمکنار کر دیا ہے اب اس پاکیزگی اور ماحول کی عمدگی کو یونہی برقراررکھنا ہماری اہم دینی ذمہ داری ہے۔ اجلاسوں کے آخر میںبارگاہ رسالت مآبؐ میں سلام گزرانا گیا اور رقت انگیز دعا ئیںکی گئیں۔

TOPPOPULARRECENT