Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / فسخ نکاح کے لئے مسلمان جج کا تقرر

فسخ نکاح کے لئے مسلمان جج کا تقرر

دانشورانِ قوم اور وکلاء کی توجہہ کی ضرورت

نکاح انتظام خانہ داری کا بنیادی رُکن ہے ، تمدنی معاشرت کے استحکام کا کلیدی ذریعہ ہے ، دین اسلام نے رشتۂ نکاح کو نہایت مستحکم کیا ہے اور حسن معاشرت کی تاکید ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے : ’’وعاشروھن بالمعروف ‘‘۔ ترجمہ : ’’تم ان سے عرف کے مطابق اچھا سلوک کرو ‘‘ ۔
اس لئے کہ میاں و بیوی کا رشتہ درحقیقت دو تن ، ایک روح ، دو قالب اور ایک دل کے مانند ہے ، یہ رشتہ دو اجنبی اور پرائے افراد میں ایسی اُنسیت ، اُلفت اور محبت پیدا کردیتا ہے جس کی وجہ سے دونوں کی منفعت اور نقصان ایک ہوجاتے ہیں، دونوں کے مقاصد مشترک ہوجاتے ہیں ۔ اس پاکیزہ رشتہ کی بنیاد مخصوص قاعدوں پر منحصر نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لئے مقررہ حدود و قیود ہیں ، بلکہ اس مستحکم رشتہ کا دارومدار پیار و محبت ، ایثار و قربانی کے جذبات پر ہے ۔ بالخصوص ضبط نفس کا جوہر نہ ہو تو یہ رشتہ پایہ استحکام کو نہیں پہنچ سکتا ، اس رشتہ کی بقاء اور استحکام ذہنی یکسانیت اور باہمی موافقت و رضامندی پر ہے اور جب دونوں میں سے ہر ایک اپنی خوشی ، خواہش اور پسند پر دوسرے کی خواہش و خوشی کو ترجیح دیتا ہے تو یہ کاروانِ حیات پرسکون اور پرمسرت ماحول میں منزل مقصود کو پہنچتا ہے ۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اسلام نے ازدواجی و عائلی نظام کو نہایت قوت اور استحکام عطا کیا ہے ، چونکہ اسلامی تعلیمات میں مرد و زون کے فطری تقاضوں اور ضروریات کے ساتھ توازن کو ملحوظ رکھا گیا ہے جس کے بغیر کامیاب ازدواجی زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے میاں بیوی کے باہمی پیار و محبت اور جذبہ ہمدردی و غمخواری کو اپنی آیات قدرت سے تعبیر کیا ہے ۔ ارشاد ہے : اور اسی کی آیتوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جانوں سے بیویوں کو بنایا تاکہ تم سکون پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کو بنایا یقینا اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لئے نشانیاں ہیں۔ ( الروم ؍۲۱)

جہاں تک حقوق کا تعلق ہے اس میں شوہر اور بیوی دونوں مساوی ہیں ، جس طرح بیوی کے ذمہ فرائض و ذمہ داریاں ہیں ، اسی طرح بیوی سے متعلق شوہر کے ذمہ حقوق و فرائض ہیں ۔ ارشاد الٰہی ہے :
(دستور کے مطابق ) عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں ۔ ( سورۃ البقرۃ : ۲۲۸)
مسلم معاشرہ میں طلاق کے واقعات میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے، کئی ایک رشتے جلد بازی اور ناعاقبت اندیشی کی بناء بکھرر ہے ہیں ۔ افسوس کہ لڑکا اور لڑکی طلاق کے بعد ذلت و رسوائی اور تکالیف کو بادل ناخواستہ ہی برداشت کرلیتے ہیں لیکن وہی دونوں اپنے رشتۂ ازد اج کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے کیلئے صبروتحمل کے چند گھونٹ پینا گوارا نہیں کرتے وہ نہیں سمجھتے کہ رشتۂ نکاح کی قید و بندھن سے آزادی میں ان کی ناکامی ، ان کی اولاد کی نامرادی اور ان کے افراد خاندان کے لئے وبال جان ہے ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بسا اوقات حالات اس قدر کشیدہ ہوجاتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان موافقت اور پیار و محبت کی اُمیدیں ختم ہوجاتی ہیں ، ان دونوں کا ایک چھت کے نیچے رہنا محال ہوجاتا ہے ۔ ایسی ناگزیر صورت میں اسلام طلاق کی اجازت دیتا ہے کیونکہ اگر طلاق کا جواز ان حالات میں نہ ہو تو دونوں کی زندگیاں اجیرن بنکر رہ جاتی ہیں۔
آج کل طلاق کے موضوع پر مختلف نوعیتوں سے اعتراض کیا جارہا ہے اور اس کو غیرمعقول اور خواتین کے لئے ظلم و زیادتی کے طورپر پیش کیا جارہا ہے ، یہ باور کرایا جارہا ہے کہ عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا گیا اور اس کو اسلام میں باندی ، و خادمہ کا درجہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی نزدیک عائلی زندگی کا استقرار و استحکام اہم ہے۔ اگر طلاق کی رسم عام ہوجائے تو عائلی نظام کا شیرازہ بکھرجاتا ہے اس لئے طلاق دینے کی اسلام میں مذمت ہے حقی المقدور باہمی مفاہمت پر زور دیا ، اختلافات کی صورت میں خاندان کے اکابر کے ذریعہ مصالحت کی ترغیب دی ، طلاق کا دروازہ بالکل بند نہیں کیا کیونکہ بسا اوقات علحدگی ہی دونوں گھرانوں کے لئے یا زوجین کے لئے بہتر ہوتی ہے اس لئے طلاق کی گنجائش رکھی گئی البتہ خاندانی نظام کے استقرار کے پیش نظر طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا گیا، ہر دو کو طلاق کا اختیار حاصل ہونے کی صورت میں طلاق کی کثرت کا اندیشہ رہتا ہے ، مرد کو طلاق کے اختیار کے ساتھ بصورت ضرورت مسنون طریقہ کے مطابق طلاق دینے کی تلقین کی گئی تاکہ عجلت یا جذبات میں دی گئی طلاق پر نظرثانی کرنے اور رجوع کرنے کی گنجائش رہے ۔ مخفی مبادکہ عورت کو بالکل مجبور نہیں چھوڑا گیا ۔ عدم موافقت کی صورت میں عورت کو علحدگی کے لئے معاوضہ کے بدل خلع طلب کرنے کا اختیار دیا گیا نیز شوہر بیوی کی خواہش خلع کو قبول نہ کرے تو یہ ظلم ہے اور ظلم کے خلاف بیوی کو طاقت و قوت ملکی قوانین اور عدالتی نظا م سے تعاون حاصل کرنے کی اجازت ہے ۔ مزید برآں بعض مخصوص حالات میں مسلمان جج کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی مرضی اور حاضری کے بغیر نکاح کو فسخ کردے ۔ مثلاً شوہر میں عورت کی جنسی خواہش پوری کرنے کی صلاحیت نہ ہو یا کسی ایسے مہلک مرض میں مبتلا ہوچکا ہو جس کی وجہ سے عورت اس کو ناپسند کرتی ہو یا شوہر مجنون و پاگل ہو یا عورت پر ظلم و زیادتی کرتے ہوئے نان و نفقہ کا انتظام نہ کرتا ہو یا مفقود الخبر ہو یعنی ایسا غائب ہو کہ اس کا کوئی پتہ ہی نہ ہو تو ایسے حالات میں مسلمان جج کو حق حاصل ہیکہ وہ تحقیق کے بعد تحت احکام شرع نکاح فسخ کرکے عورت کو نکاح کے قید سے آزاد کردے ۔

شہر حیدرآباد اور اس کے مضافات میں متعدد ایسی خواتین ہیں جن کا نکاح عربوں سے ہوا تھا لیکن سالہا سال سے ان کا اپنے شوہروں سے کوئی رابطہ نہیں حتی کہ بعض نادان خواتین اپنے شوہروں کے پتے سے بھی واقف نہیں ہیں ، سینکڑوں خواتین ایسی ہیں جن کو ان شوہروں نے نہ طلاق دی ہے اور نہ خلع قبول کیا ہے اور نہ ہی نان و نفقہ ادا کرتے ہیں نہ مزاج پرسی کرتے ہیں ۔ کئی خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر بیرون ملک مقیم ہیں ، نہ بلاتے ہیں نہ خود آتے ہیں ، دوسری شادی کرلیتے ہیں اور پہلی بیوی کو لٹکا کر رکھتے ہیں ، بعض خواتین کے سرپرست ڈوری کیس کرتے ہیں، شوہروں کو موقتی طورپر پریشان کرتے ہیں ، وہ ضمانت حاصل کرکے جیل سے واپس لوٹتا ہے اور تاحیات بیوی کو پریشان رکھنا چاہتا ہے ۔
پس ازروئے شرع عورت کو قید نکاح سے آزاد ہونے کیلئے شوہر کا طلاق دینا یا خلع قبول کرنا یا وفات پانا یا فسخ نکاح ( مسلمان جج کے توسط سے ) کرنا ضروری ہے۔ غیرمسلم حاکم وقت یا جج کو مسلمانوں کے اُمور پر ولایت کا حق حاصل نہیں بناء بریں حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین مدظلہ العالی صدر مفتی جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے مظلوم خواتین کو شرعی اور حکومتی قوانین کے مطابق خلاصی دلانے کیلئے حکومت سے مسلمان جج کو مقرر کرنے کی تجویز دی ہے اور غیراسلامی ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مخصوص شرعی اُمور کی انجام دہی کیلئے ارباب اقتدار سے مسلم جج کو مقرر کرنے کا مطالبہ کریں۔ لہذا دانشورانِ قوم اور وکلاء سے ادباً التجا ہے کہ وہ دستور ہند کی روشنی میں فسخ نکاح کے لئے مسلم جج مقرر کرنے کیلئے دستوری قوانین سے استفادہ کرتے ہوئے متذکرہ مطالبہ حکومت سے کریں تاکہ ملت اسلامیہ کی ایک اہم خدمات انجام ہو ۔

TOPPOPULARRECENT