Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / فسطائی طاقتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت

فسطائی طاقتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت

دانشوروں کی جانب سے ایوارڈس کی واپسی کا خیرمقدم: حیدر علی باغبان
گلبرگہ25؍اکتوبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محمد حیدر علی باغبان آرگنائزنگ سیکریٹری کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں فسطائی طاقتیں غلبہ حاصل کرنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں ۔ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد فسطائی طاقتوں کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دادری واقعہ پر ساری دنیا میں شدید رد عمل کا اظہار سامنے آیا اور ہندوستان کی بڑی بدنامی ہوئی اور اس کا سیکول وقار بُری طرح مجروح ہوا ۔ بلا شہ دادری میں ایک مسلمان کا نہیں انسانیت کا قتل کیا گیا۔ دار اصل فسطائی طاقتوںکا ’’گائو ہتھیا‘‘ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن آستھا کے نام پر ملک میں ایک بار پھر1992؁ء جیسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں ۔ گئو کشی کے نام پر ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے مسلمان خوف و دہشت میں مبتلا ہو جائیں ۔ لیکن مبارکباد کے مستحقین ہیں وہ دانشور، ادباء، شعراء جنہوں نے فسطائی طاقتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور اپنے ایوارڈس و سرکاری اعزازات واپس کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ ہندوستان میں فسطائیت کو ہرگز برداشت نہیں کیاجائیگا۔ ان دانشوروں ، ادباء، شعراء نے نہ صرف ملک کے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ مرکز کی حکومت کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اپنی دستوری ذمہ داری کو محسوس کریں۔ جن قلم کاروں نے ایوارڈس واپس کئے ہیں اُن میں کل 21قلم کار شامل ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے صرف اُردو شاعر منور رانا کو مدعو کیا جس سے صاف ظاہر ہویا ہے کہ صرف بہار انتخابات کے پیش نظر مودی منور رانا سے ملاقات کرنے کے لئے مدعو کیا ہے ۔ حیدرعلی باغبان نے کہا ہے کہ ’’ سب کا ساتھ‘‘ ’’سب کا وکاس‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ نعرہ دب کر رہ گیا اور فسطائی طاقتوں کے نفرت انگیز بیانات نے ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا کر خانہ جنگی کی راہ پر لا کھڑا کر دیا ہے ۔ ملک کے دستوری سربراہ اعلیٰ کی حیثیت سے وزیر اعظم مودی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فسطائی طاقتوں کو لگام دیں ورنہ وہ ملک کے عوام کا اعتماد کھو دیں گے ۔ چند مٹھی بھر فسطائی طاقتیں پورے ملک کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔ ملک کے سیکولر اور امن پسند عوام گنگا جمنی تہذیب کے حامی ہیں ۔ وہ کبھی بھی فسطائیت کو قبول نہیں کرسکتے۔ آر ایس ایس اپنا دیرینہ خواب ہندوستان کو  ہندو راشٹر بنانے کا کبھی پورا نہیں کرسکتی۔ حیدرعلی باغبان نے مزید کہا کہ ہندو راشٹر بنانے کے ناپاک عزائم رکھنے والے افراد ہندو راشٹر بننے سے پہلے ہی دلتوں اور پسماندہ طبقات کو زندہ جلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور تازہ واقعہ ہریانہ کا ہے جہاں ایک دلت خاندان کے چار افراد کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی جس میں دلت خاندان کے 2معصوم بچے ہلاک ہوگئے ، ایک اور واقعہ ہریانہ کا ہی ایک 14سالہ دلت لڑکے کو کبوتر چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور ایک ہی رات میں لاک اپ میں اُس کی موت ہوگئی ، کیا یہ فرقہ پرست عناصر ہندو راشٹر بننے کے بعد دلت اور پسماندہ طبقات کو اس ملک میں رہنے دیں گے ۔ حیدر علی باغبان نے مزید کہا کہ ملک کی اکثریت سیکولرزم کی حامی ہے اور ملک کا دانشور طبقہ کبھی بھی سیکولرزم کے خاتمہ کو برداشت نہیں کرسکتا۔ حیدرعلی باغبان نے مزید کہا ہے کہ اس ملک کا ہندو راشٹر بننا اور ملک میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ کبھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ملک کے سینکڑوں طبقات و قبائل کو بھی پسند ہے اور اس کے تحفظ کے لئے وہ جمہوری و قانونی جدوجہد کرنے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیںگے۔ حیدر علی باغبان نے مرکز کی نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت اور سنگھ پریوار کو مشہور دیا ہے کہ وہ ہندوستان کے سیکولر میکانزم کو چھیڑنے کی کوشش نہ کریں ۔ ورنہ خون خرابے سے ملک کی سالمیت خطرہ میں پڑ سکتی ہے ۔ ہندوستان کو عالی قیادت کا اہل ملک بنانے کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ وزیر اعظم نریندر مودی عالمی دوروں کے دوران ہندوستان کو ایک عالمی قیادت کرنے والے ملک کی امیج پیش کرنے میں ناکام رہے اور ہندو توا کے ایجنڈہ کا پرچار کرنے کے لئے عالمی اسٹیج کا استعمال کیا ۔ جس سے ملک کا عالمی وقار بری طرح متاثر ہوا ۔

TOPPOPULARRECENT