Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / فسطائی طاقتیں اور مغرور حکومتیں ، ملک کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ

فسطائی طاقتیں اور مغرور حکومتیں ، ملک کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ

قومی سطح پر آمرانہ طرز حکومت افسوسناک ، تلنگانہ میں بھی آمریت پسند اور خاندانی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش
l علاقائی سیاسی جماعتوں اور قائدین کے وجود سے ہی ملک کے جمہوری سیکولر اور تہذیبی کردار کی بقا lکامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسی ایشن کا مذاکرہ ، ممتاز شخصیتوں ، دانشوروں کا خطاب
حیدرآباد۔15اپریل (سیاست نیوز) ملک کے جمہوری ‘ سیکولر اور تہذیبی کردار کی بقاء کیلئے علاقائی سیاسی جماعتوں اور قائدین کا وجود ناگزیر ہے۔ قومی سیاسی جماعتیں علاقائی سطح پر قائدین کے فروغ کے ذریعہ علاقائی تہذیب کے علمبرداروں کو اپنی جماعت کا نمائندہ بنا رہی ہیں۔ کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن کے زیر اہتمام منعقدہ مذاکرہ بعنوان ’ ہندستا ن کے تبدیل ہوتے منظرنامہ میں علاقائی جماعتوں کے کردار‘ کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہندستان میں علاقائی جماعتوں کی اہمیت مسلمہ ہے لیکن عام طور پر علاقائی سیاسی جماعتیں قومی جماعتوں سے ساتھ چلتے ہوئے اپنی منفرد شناخت سے محروم ہونے لگتی ہیں کیونکہ ان کا وجود علاقائی ضرورتوں اور تہذیب کی بنیاد پر ہوا کرتا ہے۔ مسٹر کنگشک ناگ سینئر صحافی کی نگرانی میں منعقدہ اس مذاکرہ میں کانگریس ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی ‘ تلگودیشم‘ تلنگانہ راشٹر سمیتی‘ سی پی آئی ‘ سی پی ایم اور عام آدمی پارٹی کے نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کے لئے فسطائی قوتوں اور غرور میں مبتلاء حکومتوں کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر جو طرز حکمرانی جاری ہے وہ آمرانہ ہے اور اسی طرح ریاست تلنگانہ میں بھی حکومت آمریت و خاندانی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔صدرپردیش کانگریس کیپٹن این اتم کمار ریڈی نے اس مذاکرہ میں شرکت کے دوران کہا کہ ملک سے فسطائیت کا خاتمہ ملک کے جمہوری نظام کو مستحکم کر سکتا ہے اور اس کے استحکام کے لئے غیر سیاسی و سماجی تنظیموں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریاست کی ٹی آر ایس حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس طرح آواز کو دباتے ہوئے کی جانے والی حکمرانی پائیدار ثابت نہیں ہوتی۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ کانگریس نے کئی دہائیوں تک اس ملک اور ریاست پر حکمرانی کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ ملک کے ان اداروں میں کوئی مداخلت کانگریس نہیں کرتی جو جمہوری اور سیکولر کردار کی برقراری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا آج ملک کی جو حالت ہے وہ انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور لوگ اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ کسے کیا کھانا چاہئے یا نہیں اسی طرح ذرائع ابلاغ اداروں کو خوفزدہ کرتے ہوئے یہ پیغام دیا جانے لگا ہے کہ حکمراں جماعت کی مرضی کے مطابق خبروں کی اشاعت و نشریات عمل میں لائی جائیں۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں تو حالات اس حد تک ابتر ہوچکے ہیں کہ ریاستی اسمبلی میں منتخبہ ارکان اسمبلی حکومت پرتنقید نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ ان کے مائیک بند کردیئے جا رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر کونڈا وشویشور ریڈی نے اس مذاکرہ کے دوران کہا کہ ریاستی سطح پر علاقائی جماعتیں عوام کی ضروریات سے واقف ہوتی ہیں اور ان جماعتوں کے ذریعہ ان کے مسائل کے حل کی توقع کرتے ہوئے عوام علاقائی جماعتوں پراعتماد کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی سیاسی جماعتوں کے ریاستی سطح پر اثرات ان کی پارٹی سے وابستہ سیاسی قائد کی شخصیت پر منحصر ہوتے ہیں ۔ مسٹر کے وشویشور ریڈی نے بتایا کہ ملک کے سیاسی منظر نامہ میں موجودہ حالات میں علاقائی جماعتوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب بھی جنوبی ہند کی ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کا وجود برقرار ہے۔ انہوں نے جنوبی ہند میں مقامی قائدین کے اثرانداز ہونے کی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ لسانی امور بھی اس معاملہ میں کافی اثرانداز ہوتے ہیں کیونکہ شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے قائدین جنوبی ریاستوں میں بولی جانے والی زبانوں سے لاعلم ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی سیاسی جماعتو ںکو ریاستو ںمیں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے بھی علاقائی قیادت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کانگریس کی ناکامیوں کے سبب ملک میں علاقائی سیاسی جماعتوں کو استحکام حاصل ہوا ہے اور تلنگانہ میں لوگوں کا اعتماد علاقائی جماعت پر ہی ہے ۔رکن پارلیمنٹ چیوڑلہ مسٹر کے وشویشور ریڈی نے کہا کہ ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کے ووٹ کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو ہر علاقہ میں علاقائی سیاسی جماعتوں کا ووٹ میں حصہ قابل لحاظ ہے۔ انہوںنے حالیہ عرصہ میں اترپردیش انتخابات کے نتائج اور ان انتخابات میں علاقائی سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں علاقائی جماعتوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا بھاری فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہوا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اترپردیش میں طویل مدت کے بعد قومی جماعت کو اقتدار حاصل ہوا۔ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ریاسست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے علاقہ کے عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور حکومت تمام تلنگانہ عوام کے علاوہ تلنگانہ میں رہنے والے دیگر ریاستوں کے عوام کی مجموعی ترقی کے عہد کی پابند ہے۔انہوں نے بتایا کہ علاقائی جماعتوں کا یہ فائدہ ہے کہ عوام ان جماعتوں کے قائدین سے اپنی زبان میں نمائندگی کر سکتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے علاقائی سیاسی جماعتیں بھی متحرک ہوتی ہیں اورجہاں تک مرکزی حکومت سے کروائے جانے والے کام ہیں ان کے متعلق مسٹر ویشویشور ریڈی نے بتایا کہ ریاست میں علاقائی جماعتیں قومی برسراقتدار جماعتوں سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ترجمان مسٹر کرشنا ساگر راؤ نے مذاکرہ کے دوران مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہر ریاست میں اپنی پارٹی قیادت کو علاقہ اور تہذیب کی بنیاد پر ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے ۔انہوںنے منی پور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں منی پور میں بی جے پی کے حصہ میں جو ووٹ آئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بی جے پی حکومت میں آئے گی اور کوئی بی جے پی کا چہرہ بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے فیڈرل نظام حکمرانی کی برقراری کے لئے قومی سیاسی جماعت کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے کیونکہ علاقائی جذبات اور مفادات سے بالاتر فیصلہ کرنا قومی جماعت کا اسلوب ہوتا ہے اسی لئے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر کرشنا ساگر راؤ نے بتایا کہ ان کی سیاسی جماعت کسی ایک مذہب یا ذات کے ماننے والوں یا علاقہ کی حد تک محدود لوگوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ ان کی جماعت کا نظریہ واضح ہے اور وہ کہتی ہے کہ سب ہندستانی ہے۔ انہوں نے مباحث کے دوران کہا کہ ملک میں ایک جانور کو کھانے سے روکے جانے پر مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کئی اشیاء کھانے کے لئے موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستان میں ہرن‘ مور جیسے کئی جانور اور پرندے ہیں جنہیں نہیں کھایا جا سکتا ۔بی جے پی ترجمان نے کہا کہ عام طور پر علاقائی سیاسی جماعتوں کو کوئی قتل نہیں کرتا بلکہ علاقائی سیاسی جماعتوں میں خاندانی طرز حکمرانی اور دیگر امور کے سبب علاقائی جماعتیں خودکشی کرتی ہیں ۔انہوں نے اترپردیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج نے واضح کردیا کہ دونوں علاقائی جماعتیں عوامی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام ہو چکی تھیں ۔ جناب سید عزیز پاشہ نے اس موقع پر کانگریس کے عروج و زوال اور کمیونسٹ جماعتوں کے نظریات کے متعلق بتایا کہ کمیونسٹ جماعتیں علاقائی جماعتوں کے فروغ کی حامی ہیں اور اس مقصدکو پورا کرنے کے لئے علاقائی جماعتوں سے اتحاد بھی کیا جاتا رہا ہے۔ انہوںنے کانگریس کی ناکامیوں اور بی جے پی کی فرقہ پرست پالیسیوں کے متعلق کہا کہ ریاست تلنگانہ ہی نہیں ملک میں بی جے پی فرقہ پرستی کے ایجنڈہ پر سرگرم عمل ہے۔سابق رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ ملک میں جو نظام حکمرانی چل رہا ہے اس نظام کو برقرار رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک میں سیکولر اور صاف ذہن کے لوگ سیاسی میدان میں آئیں ۔جناب سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں ایسے میں سیکولر اور جمہوری نظام حکمرانی کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات ناگزیر ہے اور علاقائی جماعتوں کے ذریعہ ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے۔مسٹر آر چندر شیکھر تلگودیشم قائد نے کہا کہ ملک میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے وجود کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن انہیں دیانتداری کے ساتھ عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ علاقائی سیاسی جماعتیں قومی جماعتوں کی حلیف بنتے ہوئے اپنے علاقہ کے مسائل کو حل کروا سکتی ہیں۔مسٹر ایم سرینواس سی پی ایم نے اس مذاکرہ کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور اسی منافرت کے ذریعہ ووٹ حاصل کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ ہی نہیں ملک کے حالات تیزی سے دگرگوں ہونے لگے ہیں۔مسٹر مہندر وید بین الاقوامی صدر سی جے اے نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال میں علاقائی جماعتوں کے موقف سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں تیزی سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور اس تبدیلی میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے رول میں کمی رونماء ہوتی جا رہی ہے۔مذاکرہ میںکنوینر عام آدمی پارٹی پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ نے بھی حصہ لیا اور کہا کہ سیاسی جماعتیں خواہ کوئی ہوں ان کی آڈٹ اور انہیں آر ٹی آئی کے دائرہ کار میں لاتے ہوئے انہیں دیانتداری کی راہ پر چلایا جا سکتا ہے۔جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست و نائب صدر سی جے اے نے شرکاء سے اظہار تشکر کیا ۔مذاکرہ کے دوران مسٹر کنگشک ناگ نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے راست سوالات کئے اور علاقائی سیاسی جماعتوں کے متعلق ان کی رائے حاصل کی۔ محمد تاج الدین تلگو دیشم میناریٹی صدر ، ایڈوکیٹ نانو ریتا جیسوال عام آدمی پارٹی اور علی بن سعید الگتمی تلگو دیشم بھی شریک تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT