Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / فصل انشورنس کے نئے منصوبہ کو کابینی منظوری

فصل انشورنس کے نئے منصوبہ کو کابینی منظوری

کاشتکار معمولی پریمیم کی ادائیگی پر فصل بیمہ کرواسکتے ہیں، وزیراعظم مودی کی زیرصدارت اجلاس کا فیصلہ

نئی دہلی 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مسلسل قحط کے دو برسوں کا سامنا کرنے والے مرکز نے آج فصل بیمہ اسکیم کو منظوری دے دی جس کے تحت کاشتکار معمولی پریمیم ادا کرکے جس کی مالیت غذائی اجناس کی زیادہ سے زیادہ دو فیصد اور تلہن کی پانچ فیصد برائے باغبانی و کپاس کی فصلیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ اسکیم جاریہ سال خریف کی فصل کے موسم سے نافذ کی جائے گی۔ اِس اسکیم کا ایک عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کو کابینی اجلاس میں جو وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت منعقد ہوا تھا، منظوری دے دی گئی۔ یہ اسکیم موجودہ دو اسکیموں قومی زرعی انشورنس اسکیم اور ترمیم شدہ این اے آئی ایس کی جگہ لے گی جو ورثہ میں حاصل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے تیار کی گئی تھی۔ کابینہ نے وزارت زراعت کی تجویز کو منظوری دے دی کہ نئی فصل بیمہ اسکیم آئندہ خریف کے موسم سے نافذ کی جائے گی۔ اُس نے کاشتکاروں کے پریمیم کی بھی منظوری دے دی جو غذائی اجناس اور تلہن کی فصلوں کے لئے دیڑھ تا دو فیصد اور باغبانی اور کپاس کی فصلوں کے لئے پانچ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ کاشتکاروں کا پریمیم غذائی اجناس اور تلہن کی فصلوں کے لئے دیڑھ فیصد ہوگا جبکہ خریف کے موسم میں غذائی اجناس اور تلہن کی فصلوں کے لئے دو فیصد ہوگا۔ باغبانی اور کپاس کی فصلوں کے لئے پریمیم پانچ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے بموجب پردھان منتری زراعت بیمہ یوجنا جملہ فصل کے علاقہ کے نصف کا احاطہ کرے گی جو تقریباً فصل کے علاقہ کا 25 تا 27 فیصد ہوتا ہے۔

توقع ہے کہ اِس اسکیم پر اخراجات 9,500 کروڑ روپئے ہوں گے۔ اِس اسکیم میں پریمیم پر کوئی تحدید عائد نہیں کی جائے گی اور بیمہ کی رقم میں تخفیف کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ علاوہ ازیں کلیم کا 25 فیصد راست کاشتکاروں کو ادا کیا جائے گا اور باقی انشورنس کمپنی اور ریاست کے علاوہ کھیت کی سطح کا تخمینہ کرکے معلنہ نقصان، خطروں اور مابعد فصل نقصان کا اندازہ لگائے گی۔ خانگی بیمہ کمپنیاں بشمول زرعی انشورنس کمپنی آف انڈیا لمیٹیڈ یہ اسکیم لاگو کریں گے اور واجبات کی ذمہ داری لیں گے جن کی ادائیگی انشورنس کروانے والے کو کرنی ہوگی یا پھر حکومت پریمیم کی سبسیڈی ادا کرے گی۔ یہ نئی اسکیم نمایاں اہمیت رکھتی ہے کیوں کہ ملک کو مسلسل دو سال سے قحط کا سامنا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جبکہ بارش کم ہوئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ انشورنس کے احاطہ کے دائرہ کو مزید وسعت دی جائے اور فصل کے زیادہ رقبہ کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مانسون میں ترکاریاں اُگانے والے کاشتکار بھی اِس اسکیم سے استفادہ کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT