Thursday , July 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / فضائلِ فقیہ بیک نظر

فضائلِ فقیہ بیک نظر

مرسل : ابوزہیر نظامی

حضرت شیخ الاسلام حافظ محمدانواراﷲفاروقی رحمۃ اﷲعلیہ بانیٔ جامعہ نظامیہ حقیقۃ الفقہ حصہ اول میں تحریر فرماتے ہیں کہ ، جامع الصغیر میں ہے ’’ قال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ان لکل شیٔ دعامۃ ودعامۃ ہذا الدین الفقہ و فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد‘‘ یعنی ہر چیز کے لئے ایک ستون ہے جس پر اُس کا مدار ہوتا ہے اور اس دین کا ستون فقہ ہے اور ہزار عابد شیطان پر ایسے سخت نہیں جیسے ایک فقیہ اُس پر سخت اور سرکوب ہے ۔ اِس کے سوا اور بہت سی حدیثیں ، فقیہ کی تعریف اور فضائل میں وارد ہیں جن سے ظاہر ہے کہ محدثین میں فقہاء ممتاز اور مدارج عالیہ سے سرفراز ہیں ۔ کنز العمال کی کتاب الطہارۃ میں یہ روایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ ایک روز میں اور عطا اور طاؤس اور عکرمہ رحمہم اللہ بیٹھے ہوئے تھے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے ایک شخص نے آ کر پوچھا کہ جب میں پیشاب کرتا ہوں تو ماء دافق یعنی منی نکلتی ہے، کیا اُس سے غسل واجب ہوتا ہے ؟ ہم نے کہا کہ کیا وہی ماء دافق نکلتا ہے جس سے بچہ پیدا ہوتا ہے ،کہا :ہاں !ہم نے کہا جب تو غسل واجب ہے، وہ شخص انّا للہ پڑھتا ہوا چلا گیا ۔ ابن عباسؓ نے جلد نماز سے فارغ ہو کر عکرمہ سے کہا اُس شخص کو بلا لاؤ چنانچہ جب وہ آیا تو پہلے ہم سے پوچھا کیا تم نے قرآن سے فتویٰ دیا ؟ہم نے کہا :نہیں ،فرمایا :حدیث سے؟ ہم نے کہا :نہیں، فرمایا صحابہ کے اقوال سے ؟ ہم نے کہا نہیں ،پھر فرمایا :آخر کس کے قول پر فتویٰ دیا ؟ہم نے کہا اپنی رائے سے یہ سنکر فرمایا’’ لذلک یقول رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد‘‘ یعنی اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے اشد ہے ،پھر اُس سائل سے پوچھا کہ پیشاب کے بعد جو چیز نکلتی ہے اُس کے نکلتے وقت تمہارے دل میں شہوت یعنی عورت کی خواہش ہوتی ہے ؟ کہا نہیں ۔ فرمایا اعضاء میں استرخا یعنی ڈھیلا پن پیدا ہوتا ہے ؟کہا نہیں ۔ فرمایا اِس صورت میں وضو تمہارے لئے کافی ہے انتہی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے جب دیکھا کہ ماء دافق کے لفظ پر اُن محدثین کو دھوکہ ہوا اور صرف ظاہری معنی پر اُنہوں نے فتویٰ دے دیا اور علّت غسل پر غور نہیں کیا تو سمجھ گئے کہ اُن میں کوئی فقیہ نہیں اگر فقیہ ہوتے تو علّت غسل کی تشخیص ضرور کرتے، پھر جب دیکھا کہ علّت غسل یعنی خروج منی کے لوازم نہیں پائے جاتے ، اِس لئے فتویٰ دیا کہ وہ منی ہی نہیں ، اِس وجہ سے غسل بھی واجب نہیں ۔ اِس سے ظاہر کہ فقیہ کی جو تعریف و توصیف احادیث میں وارد ہے اُس کو اعلیٰ درجہ کی سمجھ اور موشگافیاں درکار ہیں اور مجاہد اور عطا اور طاؤس اور عکرمہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین کو ( جو تقریباً کل محدثین کے اساتذہ اور سلسلہ اساتذہ میں ہیں) فقیہ نہیں سمجھا ۔ اِس وجہ سے کہ اُنہوں نے علّت کی تشخیص نہیں کی اور کمال افسوس سے فرمایا کہ اِسی وجہ سے (کہ فقیہ اور سمجھدار لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور کم فہم فتویٰ کے لئے ظاہری نصوص کو کافی سمجھتے ہیں)۔
(حقیقۃ الفقہ ، حصہ اول)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT