Friday , October 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / فضائل درود شریف

فضائل درود شریف

مولانا محمد مبشراحمد رضوی القادری

اﷲ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے کہ بیشک اﷲ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس غیب داں ، نبی پر ، اے ایمان والو اُن پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔ ( سورۂ احزاب )

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ درود شریف ، اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کی تکریم ہے جس کی بیحد برکتیں اور فضیلتیں احادیث شریفہ میں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ سید عالم ، نورمجسم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب درود بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اُس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ (طبرانی) حدیث شریف میں مذکور ہے کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اُس پر دس بار رحمتیں بھیجتا ہے ۔ ( مسلم شریف ) نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ بخیل ( کنجوس) وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ۔ (ترمذی شریف )
بارگاہِ رسالت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم میں مقرب فرشتے ہر صبح ستر ہزار اور ہر شام ستر ہزار آپ کی مزار پاک پر حاضر ہوکر درود پاک پڑھتے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک دن میں پچاس مرتبہ درود شریف پڑھیگا قیامت کے دن میں اُس سے مصافحہ کروں گا ۔ ( کتبِ حدیث )
حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ، راوی ہیں کہ حضور پرنور ، شافع یوم النشور صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھ سے وہ لوگ قریب ہوں گے جو کثرت سے مجھ پر درود بھیجتے ہیں ۔ (ترمذی شریف ) حضور انور صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تین شخص عرش کے سایہ میں ہوں گے جس دن اس کے سواء کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ صحابہ کرام رضی اﷲعنہم نے عرض کیا وہ تین شخص کون ہوں گے ۔ فرمایا جو میری غمگین اُمت کا غم دور کرے اور جو میری سنت زندہ کرے اور جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھے ۔ (حدیث شریف ) حضور سید المرسلمین ، خاتم النبین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سخت حاجت میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھو، بیشک درود پاک ہرقسم کے غموں اور رنجوں کو دور کرتا ہے اور روزی کو زیادہ کرتا ہے اور حاجتوں کو پورا کرتا ہے ۔ (دلائل الخیرات)
امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جس کے اتنے دو بڑے بازو ہیں کہ ایک مشرق اور ایک مغرب میں ۔ اس کا سر زیرعرش اور پیر ساتویں زمین کے نیچے تمام مخلوق کی تعداد کے برابر اس کے پَر ہیں ۔ جب میری امت میں سے کوئی مرد یا عوت مجھ پر درود شریف بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ وہ دریائے نور میں غوطہ لگائے۔ وہ غوطہ لگانے کے بعد باہر نکل کر بازو جھاڑتا ہے ۔ تو ہر ایک پَر سے ایک قطرہ ٹپکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر قطرہ سے ایک فرشتہ فرماتا ہے جو قیامت تک درود شریف پڑھنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے ۔

درود ، دہ ہزاری شریف : جس کا ایک بار پڑھنا دس ہزار بار پڑھنے کے برابر شمار کیا جاتا ہے ۔ خاتم المفسرین علامہ الشیخ اسمعیل حقی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ، تفسیر روح البیان جلد ہفتم صفحہ ۲۳۴ پر لکھتے ہیں کہ ایک صاحب نے سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ زمانہ دراز سے تمنا تھی کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہو تو اپنی زبوں حالی کی داستان خدمتِ اقدس میں پیش کروں ۔ بفضلہ تعالیٰ گذشتہ شب دیدارِ رسول سے مشرف ہوا ۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنی درخواست پیش کی اور کہا حضور ! ایک ہزار روپئے کا مقروض ہوں۔ ادائیگی پر قدرت نہیں ۔ یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ سبکدوشی سے پیشتر موت آگئی تو یہ بارِ عظیم میری گردن پر باقی رہ جائے گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محمود کے پاس جاکر ان سے یہ رقم طلب کرو ۔ میں نے عرض کیا کہ شاید انہیں باور نہ ہو کہ حضور نے بھیجا ہے اور نشانی طلب کریں تو میں کیا کروں ۔ کہہ دینا کہ سونے سے پہلے تیس ہزار بار درود شریف پڑھتے ہو اور تیس ہزار بیدار ہوکر یہیں نشانی ہے میرا قرض ادا کردیجئے ۔ یہ سنکر سلطان محمود غزنوی پر گریہ طاری ہوگیا ۔ ان کا قرض ادا کرکے ایک ہزار روپئے مزید پیش کئے ۔ خدام متعجب ہوکر عرض کئے عالیجاہ ! آپ نے اس شخص کی ایسی بات کی تصدیق فرمادی ہے جو ناممکن ہے ۔ ہم خدمتِ والا میں شب و روز رہتے ہیں ہم نے تو کبھی آپ کو درود شریف میں مشغول نہیں پایا ۔ پھر یہ بات عقل میں نہیں آتی کہ ساٹھ ہزار کی تعداد کس طرح پوری ہوجائے گی ۔ سلطان نے فرمایا کہ میں نے علمائے کرام سے سنا تھا کہ جو شخص درود ذیل ایک مرتبہ پڑھے گا تو وہ دس ہزار بار پڑھنے کے برابر ہوتا ہے میں اس کو تین مرتبہ سوتے وقت پڑھتا ہوں اور تین مرتبہ بیدار ہوکر اور یقین رکھتا ہوں کہ ساٹھ ہزار بار پڑھنے کی سعادت حاصل ہوگئی اور علماء کرام کا ارشاد مذکور بھی صحیح تھا کہ کیونکہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق فرمادی۔  اللھم صل علی سیدنا و نبینا و مولانا محمد و آل مااختلف الملوٰن و تعاقب العصران وکرالجدیدان واستقبل الفرقدان وبلغ روحہ وارواح اھل بیتہ من التحیۃ والسلام و بارک وسلم علیہ کثیرا o

TOPPOPULARRECENT