Wednesday , July 26 2017
Home / Top Stories / فضائی سفر کو عام آدمیوں کیلئے سستا اور قابل متحمل بنانے کی ضرورت

فضائی سفر کو عام آدمیوں کیلئے سستا اور قابل متحمل بنانے کی ضرورت

علاقائی فضائی رابطوں کو ترقی دینے مرکزی اسکیم پرعمل آوری، شملہ ۔نئی دہلی پہلی پرواز کا افتتاح، وزیراعظم مودی کی تقریر

شملہ ۔ 27 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج علاقائی فضائی رابطہ کاری کو فروغ دینے مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت آج شملہ ۔ نئی دہلی پہلی پرواز کا افتتاح کیا اور کہا کہ فضائی سفر کو سستا اور قابل متحمل بنایا جانا چاہئے تاکہ اس سے عام آدمی اطمینان بخش طریقہ سے استفادہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ دیکھنے کا خواہاں ہوں گے کہ جو لوگ ہوائی چپل پہنتے ہیں وہ ہوائی جہاز میں بھی اڑ سکیں گے۔ وزیراعظم مودی نے یہاں پر علاقائی رابطہ کاری اسکیم کا افتتاح کیا اور کہاکہ ’’اڑے دیش کا عام ناگرک‘‘ شملہ سے نئی دہلی کو پرواز کرنے والی یہ فلائیٹ الائنس کیر کے ذریعہ چلائی جارہی ہے جس میں ایرانڈیا کا سبسیڈی حصہ بھی ہے۔ اس ایرلائن نے اس شعبہ کیلئے 42 نشستیں اے ٹی آر طیارہ کو مامور کیا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے اسی طرح کی پرواز کڑپہ، حیدرآباد اور ناندیڑ حیدرآباد سیکٹرس کیلئے بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے شملہ میں منعقدہ تقریب کے موقع پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ کڑپہ ۔ حیدرآباد اور ناندیڑ۔ حیدرآباد کے طیاروں کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ مرکز کی اس اسکیم کے تحت اب دوسری فلائیٹ ممبئی۔ ناندیڑ سیکٹر پر چلائی جائے گی۔ مودی نے کہا کہ قبل ازیں یہ سمجھا جاتا تھا کہ فضائی سفر صرف راجہ مہاراجوں کیلئے ہوتا ہے یا متمول طبقہ کے لوگ اس کا خرچ برداشت کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایرانڈیا کا نشان مہاراجہ ہی تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بھی یاد دلایا کہ انہوں نے اس مسئلہ کو وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں وزیر شہری ہوا بازی کی حیثیت سے خدمت انجام دینے والے راجو پرتاپ رودی کے سامنے اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ایرانڈیا کا لوگو مہاراجہ کو نکال کر کارٹونسٹ آر کے لکشمن کے عام آدمی کوایرلائن کا لوگ بنایا جانا چاہئے۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ علاقائی طور پر فضائی رابطہ کاری سے ملک کی ترقی میں مدد ملے گی۔ ملک کے نوجوانوں کو موقع دیا جانا چاہئے تاکہ وہ ہندوستان کی قسمت اور تصویر بدل سکے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 70 سال کے دوران اسی ہوابازی پالیسی کی عدم موجودگی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران کئی فضائی پٹیاں تعمیر کی گئی تھی جو اب بیکار پڑی ہوئی ہے۔ اب ان ایرپورٹس کو حکومت کی جانب سے وضع کردہ پالیسی کے تحت استعمال کیا جائے گا۔  پرواز کے تحت فاصلے کے حساب سے حکومت نے زیادہ سے زیادہ کرایہ طے کر دیا ہے ۔ تقریبا ایک گھنٹے  کی پرواز یعنی 500 کلومیٹر کے لئے زیادہ سے زیادہ کرایہ ڈھائی ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے ۔سستے رینٹل کی وجہ سے ایئر لائنز کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لئے وایبلیٹي گیپ فنڈنگ [؟][؟](وی جی ایف) فنڈ بنایا گیا ہے ۔ اس فنڈ کے لئے اہم راستوں پرہونے والی روٹین پروازوں میں اضافی چارجز لگا کر مزیدپیسوں کا انتظام کیا جا ئے گا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ مڈل کلاس کی زندگی تبدیل ہو رہی ہے اور ان کی توقعات بڑھ رہی ہیں۔
اگر مناسب موقع ملے تو وہ معجزہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوی ایشن علاقے میں کافی امکانات ہیں۔ پرواز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہوائی سفر خاص لوگوں کے لئے ہی ہوا کرتا تھا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT